میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ضمیر کی آواز

ضمیر کی آواز

جرات ڈیسک
پیر, ۱۰ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہر سال 14 اگست آتا ہے ۔ سبز ہلالی پرچم گھروں، بازاروں اور شاہراہوں پر لہرانے لگتے ہیں۔ قومی نغمے گونجتے ہیں، سوشل میڈیا پر وطن سے محبت کے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے ، اور آزادی کی سالگرہ بڑے جوش و خروش سے منائی جاتی ہے ۔ یہ سب اپنی جگہ قابلِ قدر ہے ، لیکن ایک سوال ہر باشعور پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے :کیا آزادی کا دن صرف جھنڈیاں لگانے ، موٹر سائیکل ریلیاں نکالنے اور چند ملی نغمے گنگنانے کا نام رہ گیا ہے ، یا آزادی اس سے کہیں بڑھ کر کچھ تقاضا کرتی ہے ؟

آزادی صرف سرحدوں کا نام نہیں، بلکہ شہریوں کے حقوق، انصاف، عزت، مساوی مواقع اور قانون کی حکمرانی کا نام بھی ہے ۔ اگر ایک نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے لیے دربدر پھرے ، اگر میرٹ سفارش کے سامنے ہار جائے ، اگر انصاف برسوں عدالتوں میں بھٹکتا رہے ، اگر مہنگائی عوام کی زندگی اجیرن کر دے اور اگر ادارے سیاسی کشمکش کا شکار رہیں، تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر آزادی کے ثمرات عام آدمی تک کب پہنچیں گے ؟

پاکستان کی آبادی کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ یہی نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ، سب سے بڑی طاقت اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی نوجوان نسل کو تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، روزگار اور اختراع کے مواقع دے کر ترقی کی منازل طے کیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں نوجوانوں کو اکثر وعدوں، نعروں اور وقتی اعلانات سے بہلانے کی کوشش کی گئی، جبکہ بنیادی اصلاحات کو مسلسل مؤخر کیا جاتا رہا۔

گزشتہ تقریباً 79 برسوں میں حکومتیں بدلتی رہیں، سیاسی جماعتیں بدلتی رہیں، اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے ، مگر عام شہری کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ ہر دور میں نئے ناموں سے اسکیمیں متعارف کرائی گئیں۔ کبھی کوئی رنگ نمایاں رہا، کبھی کوئی اور۔ کہیں نیلی اسکیمیں، کہیں پیلی اسکیمیں، کہیں سبز پروگرام اور کہیں نئے پیکجوں کا اعلان۔ عوام کو امید دلائی گئی کہ اب خوشحالی آنے والی ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان منصوبوں نے پاکستان کے معاشی اور ادارہ جاتی مسائل کا مستقل حل پیش کیا؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پالیسیوں کے تسلسل کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی۔ ہر نئی حکومت نے پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ختم کرنے یا ان کا نام بدلنے میں زیادہ دلچسپی دکھائی، جبکہ قومی ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پسِ پشت چلی گئی۔ ریاستیں وقتی منصوبوں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، مستقل پالیسیوں اور قانون کی بالادستی سے ترقی کرتی ہیں۔

آج کا نوجوان حکومت سے خیرات نہیں مانگتا۔ وہ حق مانگتا ہے ۔ وہ ایسا تعلیمی نظام چاہتا ہے جو اسے عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کرے ۔ وہ ایسا روزگار چاہتا ہے جو اس کی عزتِ نفس کو برقرار رکھے ۔ وہ ایسا معاشی نظام چاہتا ہے جہاں محنت کا صلہ ملے ، نہ کہ سفارش یا سیاسی وابستگی کا۔ وہ ایسا عدالتی نظام چاہتا ہے جہاں انصاف برسوں نہیں بلکہ بروقت ملے ۔ وہ ایسی پولیس، ایسی بیوروکریسی اور ایسے ادارے چاہتا ہے جو صرف قانون کے تابع ہوں، کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کے نہیں۔

پاکستان کے لاکھوں نوجوان آج بیرونِ ملک جانے کا خواب کیوں دیکھتے ہیں؟ اس لیے نہیں کہ وہ اپنے وطن سے محبت نہیں کرتے ، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے مستقبل کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب ایک ذہین انجینئر،ڈاکٹر، سائنس دان، آئی ٹی ماہر یا محقق اپنے ہی ملک میں مواقع نہ پائے تو وہ مجبوراً وہاں جاتا ہے جہاں اس کی صلاحیتوں کی قدر ہو۔ یہ صرف برین ڈرین نہیں بلکہ قومی سرمایہ کا مسلسل نقصان ہے ۔

معاشی حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے ۔ پاکستان کا قرضہ مسلسل بڑھتا رہا ہے ، جبکہ دوسری طرف حکمران طبقات کی مراعات، سرکاری اخراجات اور غیر پیداواری مصارف پر بارہا سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا ہے ، بجلی، گیس اور پٹرول مہنگے ہوتے ہیں، مگر عوام یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ کیا کفایت شعاری کا آغاز ایوانِ اقتدار سے بھی ہوگا؟ ریاست کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو یہ احساس ہو کہ قربانی صرف ان سے نہیں بلکہ حکمران طبقہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے ۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو سیاسی جلسوں کے ہجوم کا حصہ بنانے کے بجائے قومی تعمیر کا حصہ بنایا جائے ۔ انہیں فیصلہ سازی، تحقیق، اختراع، صنعت، زراعت، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر نوجوانوں کو صرف انتخابی نعروں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا تو یہ ملک اپنی سب سے قیمتی انسانی قوت سے محروم ہوتا جائے گا۔

آزادی کا حقیقی مفہوم بھی ہمیں ازسرِنو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری قبول کرنے کا نام ہے ۔ آزادی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ہر شہری کو قانون کے سامنے برابری حاصل ہو، ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے ، ہر نوجوان کو روزگار کا موقع ملے ، ہر عورت خود کو محفوظ سمجھے ، ہر بزرگ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے اور ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ ریاست اس کے حقوق کی محافظ ہے ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف حکومتیں ہی تمام مسائل کی ذمہ دار نہیں ہوتیں۔ معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ قانون کی پابندی، دیانت داری، ٹیکس کی ادائیگی، میرٹ کا احترام، کرپشن سے اجتناب اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا ہر شہری کا فرض ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ریاست اور حکومتیں عوام کے ساتھ ایک ایسا سماجی معاہدہ قائم کریں جس میں انصاف، شفافیت اور جوابدہی بنیادی اصول ہوں۔

آج ضمیر کی آواز یہی کہتی ہے کہ پاکستان کو وقتی نعروں، نمائشی منصوبوں اور رنگ بدلتی اسکیموں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ نوجوان نسل کو لولی پاپ نہیں بلکہ مستقل مواقع درکار ہیں۔ انہیں تقریریں نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات چاہئیں۔ انہیں وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہییں۔ وہ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، ادارے مضبوط ہوں، معیشت مستحکم ہو، تعلیم معیاری ہو اور محنت کرنے والے کو اس کا حق ملے ۔

79 سال کا سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں صرف تقریبات سے ترقی نہیں کرتیں۔ قومی پرچم کی حرمت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس کے سائے تلے رہنے والے ہر شہری کو انصاف، عزت، روزگار اور مساوی مواقع میسر ہوں۔ اگر ہم نے اب بھی نوجوان نسل کی آواز نہ سنی، ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سنجیدہ اصلاحات نہ کیں اور ریاستی اداروں کو مضبوط نہ بنایا، تو جشنِ آزادی محض ایک رسمی تقریب بنتا جائے گا۔

وقت ابھی بھی ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت نوجوان، قدرتی وسائل اور بے شمار امکانات موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی ترجیحات کو وقتی سیاست سے بلند کر کے ریاستی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات، معاشی خود انحصاری، تعلیم، انصاف اور میرٹ پر مرکوز کیا جائے ۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال ریاست بنا سکتا ہے ۔

آج ضمیر کی آواز یہی ہے ‘‘نوجوان نسل کو وعدے نہیں، مواقع چاہیے ؛ نعرے نہیں، انصاف چاہیے ؛ خیرات نہیں، باعزت روزگار چاہیے ؛ اور سب سے بڑھ کر ایسا نظام چاہیے جس میں ریاست ہر شہری کی ہو، نہ کہ صرف طاقتور طبقے کی۔’’
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں