سکھر، خیرپور، گھوٹکی کے منصوبوں میں کروڑوں کی کرپشن
شیئر کریں
سکھر کی بااثر شخصیت نسیم شاہ پر منصوبوں میں کرپشن کیلئے افسران تعینات کروانے کا الزام
ٹھیکیدار جئے کمار نے بھانڈہ پھوڑ دیا، نیب اور اینٹی کرپشن سندھ سے تحقیقات کا مطالبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں سڑکوں، ٹیوب ویلز کی سولرائیزیشن اور گلیوں میں پیور بلاک لگانے کے منصوبوں میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن، سکھر کی بااثر شخصیت نسیم شاہ پر منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے لئے افسران تعینات کروانے کا الزام، سکھر کے ٹھیکیدار جئے کمار نے بھانڈہ پھوڑ دیا، نیب اور اینٹی کرپشن سندھ سے منصوبوں میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق محکمہ بلدیات سندھ نے دسمبر 2025 میں کروڑوں روپے کے مختلف منصوبوں کے لئے خفیہ این آء ٹی جاری کی، منصوبوں میں سکھر میں اسٹیڈیم روڈ کی تعمیر کے دس کروڑ روپے کے منصوبے، سکھر میں باگڑجی ہسپتال کی مرمت کے 5 کروڑ روپے کے منصوبے، سکھر میں فری روڈ کو ڈبل کرنے کے 17 کروڑ روپے کے منصوبے شامل ہیں۔ خیرپور میں مومن مدرسہ سے پھلپوٹو گوٹھ، سمنگ چنہ گوٹھ، حسین آباد، لیاری اور جوگی محلہ میں پیور بلاکس کی تعمیر اور ڈرینیج اسکیم کی بحالی کی کروڑوں روپے کی اسکیم شامل ہیں۔ خیرپور میں جمالی گوٹھ، شہباز کالونی، بنارس کالونی، انڑ کالونی سمیت محلوں اور دیہات میں ڈرینیج ڈسپوزل کو سولر پر منتقل کرنے کی کروڑوں روپے کی اسکیموں کی خفیہ این آء ٹی بھی جاری کی گئی۔ اس سلسلے میں ٹھیکیدار جئے کمار نے الزام عائد کیا کہ سید نسیم احمد شاہ سکھر، خیرپور، گھوٹکی اور لاڑکانہ میں ٹھیکوں کا سسٹم چلاتے ہیں، اعلی افسران کی ملی بگھت سے خفیہ این آء ٹی جاری کرواتے ہیں، ٹھیکوں کے تفصیلات کسی بھی اخبار میں شایع نہیں ہوتی، نسیم شاہ مبینہ طور پر محکمہ بلدیات سکھر کے بعض ترقیاتی منصوبوں میں غیرقانونی اثر و رسوخ استعمال کرتے رہے ہیں، نسیم شاہ متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز کی تعیناتیوں اور تبادلوں پر مبینہ اثر انداز ہو کر اپنے من پسند افسران تعینات کروائے گئے، جس کے بعد بعض منصوبوں کے ٹینڈرز مخصوص افراد یا کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے قواعد کے برعکس جاری کیے گئے۔ دسمبر میں محکمہ بلدیات سکھر کی بعض این آئی ٹیز کے حوالے سے بھی شفافیت پر سنگین سوالات موجود ہیں، منصوبوں میں مبینہ کرپشن کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ ہمارے پاس متعدد منصوبوں کی تفصیلات، متعلقہ دستاویزات اور دیگر شواہد موجود ہیں، جنہیں ہم کسی بھی مجاز تحقیقاتی ادارے یا عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، دیگر متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی بھی شخص نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔


