نون لیگ،پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات شدید، پی پی رہنماؤں،ارکانِ پارلیمنٹ کو رابطوں سے روک دیا
شیئر کریں
نون لیگی وزراء سے پارٹی پالیسیاں زیر بحث نہ لائیں، کال یا میسیج پر بھی سیاسی پیغامات کا جواب نہ دیں،
پارٹی قیادت کی جانب سے ہدایات موصول ہونے کی اطلاعات
پیپلز پارٹی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کیلئے مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے پر غور شروع کردیا ،
صدر زرداری اور بلاول بھٹو مشترکہ صدارت کریں گے، ذرائع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے پارٹی رہنماؤں اور ارکانِ پارلیمنٹ کو مسلم لیگ ن کے وفاقی و صوبائی وزرا اور دیگر رہنماؤں سے رابطے سے گریز کرنے کی ہدایت کردی ہے، دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات میں شدت کے بعد پارٹی قیادت نے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی رہنماؤں اور ارکانِ پارلیمنٹ کو کہا گیا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے وزرا اور رہنماؤں سے براہِ راست رابطے نہ کریں، انہیں یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے بھیجے جانے والے سیاسی پیغامات کا جواب دینے سے گریز کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج، مبینہ دھاندلی کے الزامات اور دیگر سیاسی معاملات پر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے باعث وفاقی اتحادی حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کے لیے مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے پر بھی غور شروع کردیا ہے، اجلاس آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد بلائے جانے کا امکان ہے، تاہم اجلاس کی تاریخ اور مقام کا فیصلہ دیگر مرکزی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، صدر آصف علی زرداری اور چئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے، اجلاس میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں سے مرکزی مجلس عاملہ کے ارکان شرکت کریں گے۔بتایا جارہا ہے کہ مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق حالیہ بیانات اور آزاد کشمیر کے انتخابات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری پارٹی رہنماؤں کو آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج اور نئے انتظامی یونٹس سے متعلق پارٹی مؤقف پر اعتماد میں لیں گے، اجلاس میں آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا، موجودہ سیاسی صورتحال میں مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی مشاورت متوقع ہے۔


