میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو

ویب ڈیسک
منگل, ۲۳ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمد آصف

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلامی تاریخ کی ان عظیم اور درخشاں شخصیات میں سے ہیں جن کی حیاتِ طیبہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔ آپ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے ، حضرت علی المرتضیٰ کے فرزند اور حضرت فاطمة الزہراء کے لختِ جگر تھے ۔ آپ کی ولادت باسعادت 5 شعبان المعظم 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی
جسے قرآن مجید نے طہارت، عصمت اور فضیلت کا مرکز قرار دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصی شفقت، حضرت علی کی علمی و روحانی تربیت اور حضرت فاطمہ الزہراء کے پاکیزہ کردار نے آپ کی شخصیت کو ایسے اخلاقِ عالیہ سے مزین کیا جو انسانیت کے لیے نمونۂ کامل بن گئے ۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوری زندگی عبادت، تقویٰ، صبر، شجاعت، سخاوت، عفو و درگزر، حق گوئی اور خدمتِ خلق کے اوصاف سے عبارت ہے اور یہی اخلاقی پہلو آپ کی عظمت کا اصل سرمایہ ہیں۔
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف تقویٰ اور خشیتِ الٰہی تھا۔ آپ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے تھے ۔ عبادت میں ایسی محویت اختیار فرماتے کہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتے ۔ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور دعا آپ کی زندگی کا لازمی حصہ تھے ۔ تاریخ میں مذکور ہے کہ آپ نے پچیس مرتبہ پیدل حج ادا کیا، حالانکہ آپ کے پاس سواری موجود ہوتی تھی۔ یہ عمل محض ظاہری ریاضت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی، محبت اور بندگی کا عملی اظہار تھا۔ آپ کا تقویٰ صرف عبادات تک محدود نہ تھا بلکہ معاملات، اخلاق اور معاشرت میں بھی نمایاں نظر آتا تھا۔ آپ ہر کام میں رضائے الٰہی کو مقدم رکھتے اور حق و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے تھے ۔
سخاوت اور فیاضی بھی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نمایاں اخلاقی اوصاف میں سے تھی۔ آپ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور حاجت مندوں کی مدد میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے ۔ آپ کے دروازے سے کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا تھا۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک محتاج شخص نے آپ سے مدد طلب کی تو آپ نے اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اسے تنہائی میں ضرورت پوری کرنے کا موقع دیا تاکہ اسے شرمندگی محسوس نہ ہو۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صرف مالی امداد ہی نہیں کرتے تھے بلکہ لوگوں کے جذبات، عزت
اور وقار کا بھی بھرپور خیال رکھتے تھے ۔ آپ کی سخاوت کا مقصد شہرت یا ناموری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور مخلوقِ خدا کی خدمت تھا۔
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخلاقی کردار کا ایک عظیم پہلو حلم، بردباری اور عفو و درگزر ہے ۔ آپ مخالفین کے ساتھ بھی حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے ۔ اگر کوئی شخص سخت کلامی کرتا تو آپ صبر اور حکمت سے جواب دیتے ۔ تاریخ میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے آپ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے ، مگر آپ نے غصہ کرنے کے بجائے اس سے نرمی اور محبت کا برتاؤ کیا۔ آپ کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر وہ شخص خود شرمندہ ہوا اور معذرت کرنے لگا۔ یہ طرزِ عمل اس قرآنی تعلیم کا عملی نمونہ تھا جس میں برائی کا جواب بھلائی سے دینے کی تلقین کی گئی ہے ۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ماننا تھا کہ حقیقی قوت انتقام لینے میں نہیں بلکہ غصے پر قابو پانے اور معاف کر دینے میں ہے ۔
حق گوئی اور اصول پسندی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کا بنیادی جوہر تھے ۔ آپ نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا اور باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ آپ کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ آپ نے دینِ اسلام کی اصل روح اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے ہر قربانی قبول کی۔ جب یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا گیا تو آپ نے واضح فرمایا کہ ایک فاسق اور ظالم شخص کی بیعت دین اور امت کے ساتھ خیانت ہوگی۔ آپ نے دنیاوی مفادات، سیاسی مصلحتوں اور ذاتی سلامتی پر حق و صداقت کو ترجیح دی۔ یہ اخلاقی جرات اور استقامت آپ کی عظمت کا روشن باب ہے جس نے آپ کو تاریخ کا لازوال ہیرو بنا دیا۔
شجاعت اور بہادری بھی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نمایاں اخلاقی اوصاف میں شامل ہے ۔ آپ نے یہ صفت اپنے والد حضرت علی سے ورثے میں پائی تھی۔ لیکن آپ کی شجاعت محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی بلکہ حق کے لیے ڈٹ جانا، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور ہر حال میں اصولوں پر قائم رہنا بھی آپ کی اخلاقی بہادری کا حصہ تھا۔ میدانِ کربلا میں جب آپ کے ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہو گئے ، بچے پیاس سے تڑپنے لگے اور ہر طرف مصیبتوں کے بادل چھا گئے تو بھی آپ ثابت قدم رہے ۔ آپ کی زبان پر شکوہ نہ آیا بلکہ صبر، رضا اور توکل کے کلمات جاری رہے ۔ یہ وہ اخلاقی عظمت تھی جس نے کربلا کو محض ایک جنگ نہیں بلکہ ایک ابدی درسگاہ بنا دیا۔
صبر و استقامت حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کا ایسا وصف ہے جو ہر دور کے انسان کو حوصلہ اور ہمت عطا کرتا ہے ۔ کربلا میں آپ نے اپنے اہلِ بیت، جوان بیٹوں، بھتیجوں اور جانثار ساتھیوں کی شہادت کا منظر دیکھا، مگر اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے ۔ آپ نے مصائب اور آزمائشوں کے باوجود اپنے مقصد سے دستبردار ہونے کے بجائے صبر و رضا کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو صبر و استقامت کا امام بھی کہا جاتا ہے ۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ مشکلات اور آزمائشوں میں ثابت قدم رہنا ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے ۔
خدمت ِخلق اور انسان دوستی بھی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخلاقی کردار کا اہم حصہ تھی۔ آپ انسانوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے تھے ۔ غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی مدد کرنا آپ کا معمول تھا۔ آپ رات کے اندھیرے میں ضرورت مندوں کے گھروں تک راشن اور ضروری اشیاء پہنچاتے تاکہ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ آپ کی انسان دوستی رنگ، نسل، قبیلے اور طبقے کی حدود سے بالاتر تھی۔ آپ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سمجھتے اور اس کے حقوق کا احترام کرتے تھے ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیاتِ طیبہ کا ایک اہم اخلاقی پہلو عدل و انصاف ہے ۔ آپ ہر معاملے میں انصاف کو مقدم رکھتے تھے اور کسی کے ساتھ ظلم یا زیادتی کو برداشت نہیں کرتے تھے ۔ آپ کا تصورِ قیادت خدمت، عدل اور امانت داری پر مبنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ایک ایسے نظام کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا جو ظلم، ناانصافی اور اخلاقی انحطاط کی علامت بن چکا تھا۔ آپ کا موقف یہ تھا کہ معاشرے کی اصلاح اور انسانیت کی فلاح کے لیے عدل و انصاف کا قیام ناگزیر ہے ۔
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کے اخلاقی پہلو عصرِ حاضر کے انسان کے لیے بے حد اہم ہیں۔ آج کا معاشرہ اخلاقی بحران، خود غرضی، مادہ پرستی، عدم برداشت اور ناانصافی جیسے مسائل سے دوچار ہے ۔ ایسے حالات میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت ہمیں تقویٰ، اخلاص، صبر، شجاعت، عدل، خدمتِ خلق، رواداری اور اصول پسندی کا درس دیتی ہے ۔ آپ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت دولت، اقتدار یا شہرت میں نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، پاکیزہ کردار اور حق و صداقت پر قائم رہنے میں ہے ۔
مختصراً، حضرت حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیاتِ طیبہ اخلاقِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عملی مظہر اور اسلامی تعلیمات کی جیتی جاگتی تفسیر ہے ۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے ۔آپ نے اپنے کردار، عمل اور قربانی کے ذریعے یہ ثابت کر دیا کہ اخلاقی عظمت ہی حقیقی کامیابی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود آپ کا نام احترام، محبت، عقیدت اور حق پرستی کی علامت کے طور پر زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں