میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شجر کاری ایک قومی ذمہ داری

شجر کاری ایک قومی ذمہ داری

جرات ڈیسک
هفته, ۱۸ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو انسان کے لیے ایک عظیم نعمت اور امانت بنایا ہے ۔ زمین، آسمان، دریا، پہاڑ، جنگلات اور درخت سب
انسان کی فلاح اور بقا کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اسلام نہ صرف عبادات کا دین ہے بلکہ ماحولیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کی حفاظت اور
زمین کی آبادکاری کی بھی بھرپور تعلیم دیتا ہے ۔ آج جب پوری دنیا ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور درجہ
حرارت میں اضافے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے ، تو شجر کاری محض ایک سماجی سرگرمی نہیں بلکہ انسانی بقا کا اہم ترین ذریعہ بن چکی
ہے ۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے قرآن و سنت کی تعلیمات
کی روشنی میں شجر کاری کی اہمیت کو سمجھنا اور اسے قومی فریضہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا زمین کی سرسبزی، باغات، درختوں اور نباتات کو اپنی قدرت کی عظیم نشانی قرار دیا ہے ۔ ارشادِ باری
تعالیٰ ہے ‘‘اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا، پھر اس سے باغات اور کھیتی اگائی۔’’(سورۃ ق: 9) اس آیت سے واضح ہوتا ہے
کہ درخت اور سبزہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور انسان کے لیے نعمت ہیں۔ قرآن مجید بارہا انسان کو زمین میں فساد سے روکتا ہے اور اصلاح و
آبادکاری کی تلقین کرتا ہے ۔

درخت لگانا درحقیقت زمین کی اصلاح، ماحول کی بہتری اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی حفاظت کا عملی اظہار ہے ۔قرآن کریم میں ایک اور
مقام پر فرمایا گیا‘‘اور وہی ہے جس نے ہر طرح کے باغات پیدا کیے ۔’’ (سورۃ الانعام:141) یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی
ہے کہ نباتات اور درخت اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا حسین مظہر ہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ ان کی حفاظت کرے ، انہیں بے جا تلف نہ کرے اور
آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنائے ۔ اسلام میں زمین کی آبادکاری کو نیکی قرار دیا گیا ہے ، جبکہ بے مقصد تباہی اور وسائل کے ضیاع کو
ناپسند کیا گیا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں بھی شجر کاری کی بے حد فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا‘‘اگر کسی مسلمان نے کوئی درخت لگایا یا کھیتی بوئی، پھر اس سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور کھائے تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار
ہوگا۔’’ (صحیح بخاری، حدیث: 2320؛ صحیح مسلم، حدیث: 1552)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ درخت لگانا ایک جاری صدقہ
ہے ، جس کا اجر اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اس سے کوئی مخلوق فائدہ اٹھاتی رہے ۔ اسلام کی یہ تعلیم دنیا کے کسی بھی جدید ماحولیاتی
نظریے سے کہیں زیادہ جامع اور انسان دوست ہے ۔

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا‘‘اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں ایک پودا ہو، اور وہ قیامت آنے
سے پہلے اسے لگا سکتا ہو تو ضرور لگا دے ۔’’ (مسند احمد، حدیث: 12902)۔ یہ حدیث اسلام کے مثبت طرزِ فکر، امید، تعمیر اور خدمتِ
خلق کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درخت لگانا ایسا عظیم عمل ہے جسے آخری لمحے تک ترک نہیں کرنا چاہیے ۔

اسلامی تاریخ میں بھی ماحولیات کے تحفظ کی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کے بعض علاقوں کو محفوظ قرار دیا جہاں
درخت کاٹنے اور شکار کرنے سے منع فرمایا۔ اسی طرح خلفائے راشدین خصوصاً حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لشکروں کو ہدایت فرمائی کہ جنگ
کے دوران بھی درخت نہ کاٹے جائیں اور باغات کو نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ یہ تعلیمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسلام میں ماحول کا
تحفظ محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ عملی قانون کی حیثیت رکھتا ہے ۔

عصر حاضر میں شجر کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے ۔ صنعتی ترقی، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، فیکٹریوں کا دھواں،
آبادی میں اضافہ اور جنگلات کی مسلسل کٹائی نے ماحول کو شدید آلودہ کر دیا ہے ۔ نتیجتاً عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جسے
‘‘گلوبل وارمنگ’’ کہا جاتا ہے ۔ اس کے باعث برفانی گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، سمندری سطح بلند ہو رہی ہے ، غیر معمولی بارشیں،
شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان تمام مسائل کے مؤثر حل میں شجر کاری بنیادی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ
درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن خارج کرتے ہیں، درجہ حرارت کم کرتے ہیں، بارشوں کے نظام کو متوازن
رکھتے ہیں اور زمین کو کٹاؤ سے محفوظ بناتے ہیں۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہریں،
تباہ کن سیلاب، پانی کی قلت، فضائی آلودگی اور جنگلات میں کمی نے ملک کو سنگین ماحولیاتی بحران سے دوچار کر دیا ہے ۔ 2022ء کے تباہ
کن سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا اور اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ ماہرین کے مطابق جنگلات کی کمی اور ماحولیاتی عدم توازن بھی ان
آفات کی شدت میں اضافے کا ایک اہم سبب ہے ۔ اس لیے پاکستان میں بڑے پیمانے پر شجر کاری محض ایک مہم نہیں بلکہ قومی سلامتی،
زرعی استحکام اور عوامی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے ۔

پاکستان میں جنگلات کا رقبہ عالمی معیار کے مقابلے میں نہایت کم ہے ، جبکہ آبادی میں مسلسل اضافہ اور شہری توسیع کے باعث سبز علاقوں
میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے ، مذہبی قائدین، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہری سب مل
کر شجر کاری کو قومی تحریک بنائیں۔ ہر اسکول، کالج، جامعہ، مسجد، دفتر، سڑک، نہر، پارک اور رہائشی علاقے میں درخت لگانے کا مستقل نظام
قائم کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو صاف ماحول میسر آ سکے ۔

علمائے کرام اور خطباء کی بھی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں ماحولیات کے تحفظ اور شجر کاری کی اہمیت کو اپنے خطبات
اور دروس کا حصہ بنائیں۔ جب عوام یہ شعور حاصل کریں گے کہ ایک درخت لگانا نہ صرف قومی خدمت بلکہ صدقۂ جاریہ بھی ہے تو معاشرے
میں اس عمل کا رجحان خود بخود فروغ پائے گا۔ اسی طرح تعلیمی نصاب میں ماحولیات اور اسلامی تعلیمات کو باہم مربوط کرکے طلبہ میں عملی
شعور پیدا کیا جا سکتا ہے ۔

انفرادی سطح پر بھی ہر شہری کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں کم از کم چند درخت ضرور لگائے اور ان کی حفاظت کرے ۔ صرف درخت لگا دینا کافی
نہیں بلکہ اس کی دیکھ بھال، پانی دینا اور اسے تناور درخت بننے تک محفوظ رکھنا بھی دینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے ۔ اگر ہر پاکستانی سال
میں ایک یا دو درخت بھی لگائے اور ان کی حفاظت کرے تو چند برسوں میں ملک کا ماحولیاتی نقشہ نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے ۔ شجر کاری
اسلام کی تعلیمات، انسانی ضرورت اور قومی مفاد کا حسین امتزاج ہے ۔ قرآن مجید نے زمین کی آبادکاری کو پسند کیا ہے اور رسول اکرم ﷺ
نے درخت لگانے کو صدقۂ جاریہ قرار دیا ہے ۔ آج پاکستان جس ماحولیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی اور قدرتی آفات کا سامنا
کر رہا ہے ، اس کا مؤثر اور پائیدار حل وسیع پیمانے پر شجر کاری اور جنگلات کے تحفظ میں پوشیدہ ہے ۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی
اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں اور شجر کاری کو ایک مستقل قومی و دینی فریضہ سمجھ کر اختیار کریں تو نہ صرف ہمارا ماحول سرسبز و شاداب ہوگا بلکہ
آنے والی نسلیں بھی ایک محفوظ، صحت مند اور خوشحال پاکستان میں زندگی گزار سکیں گی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں