گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم
شیئر کریں
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے
بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے عوام کے بنیادی حقوق کے منافی قرار دے دیا۔ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ "گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا، ورنہ 5 کروڑ روپے جرمانہ”۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ بھی ہے اور غاصبانہ بھی، جو شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس بل کی منظوری قومی اسمبلی میں بیٹھے ارکان کی اہلیت اور قابلیت کا اظہار ہے کہ وہ ایسے قوانین منظور کر رہے ہیں جو آئین سے متصادم ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف گھروں تک محدود نہیں، بلکہ کھیل کے میدانوں اور پارکس میں بھی ایسے ٹاورز مقامی لوگوں کی رضامندی کے بغیر نصب نہیں ہونے چاہییں۔حافظ نعیم الرحمن نے سوال اٹھایا کہ عوامی مفاد کے خلاف اس قانون کی منظوری کے بعد آئی ٹی اور ٹیلی کام کی وزیر اور متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کو اپنے عہدوں پر برقرار رہنا چاہیے یا نہیں؟ انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کے حقوق اور آئینی تحفظات کو نظر انداز کرکے قانون سازی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔یاد رہے لائسنس یافتہ موبائل فون اور ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں جہاں چاہے آپٹیکل فائبر بچھاسکیں گی۔قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل منظور سینیٹ میں پیش کرلیا ہے جس کے بعد یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ترمیمی بل کے مطابق نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لیے جگہ دینے کے پابند ہوں گے۔ موبائل فون یا ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور لگانے کے لیے جگہ نہ دینے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔


