جناح اسپتال کراچی ، ہسٹو پیتھالوجی کی مفت سہولت کے قیام کی منظوری
شیئر کریں
منصوبے کے تحت ضروری مشینری اور انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا،حکومت سندھ
منصوبے کی تکمیل کے بعد جناح اسپتال کراچی کا پہلا سرکاری اسپتال بن جائے گا
(رپورٹ: دعا عباس)حکومت سندھ نے جناح اسپتال کراچی میں ہسٹو پیتھالوجی کی مفت سہولت کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔اس منصوبے کے تحت ضروری مشینری اور انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد جناح اسپتال کراچی کا پہلا سرکاری اسپتال بن جائے گا جہاں بائیوپسی کے نمونوں کی تشخیص (ہسٹو پیتھالوجی) کی سہولت مریضوں کو مفت فراہم کی جائے گی، جس سے تشخیصی اخراجات میں کمی اور بروقت علاج میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار جناح اسپتال کراچی کے انتظامیہ نے روزنامہ جُرأت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا،انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کراچی میں ہسٹو پیتھالوجی کی مفت سہولت فراہم کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،یہ منصوبہ پیشنٹس ایڈ فانڈیشن کے ذریعے فعال کیا جائے گا، جناح اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ ہسٹو پیتھالوجی دراصل بائیوپسی کے نمونوں کی تشخیص کا عمل ہے۔ ماضی میں آپریشن یا بائیوپسی کے بعد حاصل کیے گئے نمونے تشخیص کے لیے باہر بھیجے جاتے تھے، جس پر کافی لاگت آتی تھی اور متعدد مریض مالی مشکلات کے باعث یہ ٹیسٹ نہیں کروا پاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد جناح اسپتال کراچی کا واحد سرکاری اسپتال بن جائے گا جہاں ہسٹو پیتھالوجی کی سہولت مریضوں کو مفت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو مفت اور معیاری طبی سہولیات مہیا کرنا ہے۔ان کے مطابق منصوبے کے لیے درکار مشینری آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران اسپتال پہنچ جائے گی، جس کے بعد سہولت فعال کر دی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے مرکزی بجٹ میں جناح اسپتال کے لیے مجموعی فنڈز میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سال بہ سال بڑھتی ہوئی شرحِ افراطِ زر کے اثرات اسپتال کے انتظامی اور طبی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے ادارے کو مالی دباؤ کا سامنا رہ سکتا ہے۔انتظامیہ نے مزید بتایا کہ جناح اسپتال میں کینسر کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی آنکالوجی ادویات کے اخراجات تاحال اسپتال کے مرکزی بجٹ سے پورے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ نے حکومت سندھ سے آنکالوجی ادویات کے لیے علیحدہ بجٹ مختص کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت سندھ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سول اسپتال کی طرز پر جناح اسپتال کے لیے بھی کینسر کی ادویات کی خریداری کے لیے الگ فنڈز فراہم کیے جائیں گے، جس سے اسپتال کے مالی بوجھ میں کمی اور مریضوں کو علاج کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔


