جعلی احتساب ہورہا ہے ‘ سازشیں کرنے والوں سے نمٹ لینگے ‘ نواز شریف
شیئر کریں

اسلام آباد/دوشنبہ(بیورورپورٹ/ایجنسیاں)وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو مجھ سے کوئی خطرہ نہیں، پاناما کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں، اچھے فیصلے کی توقع ہے۔تاجکستان سے وطن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس نے ایٹمی دھماکے کا بٹن دبایا اسی کا احتساب ہورہا ہے وہ بھی جعلی۔انہوں نے کہا کہ 2014 میں ان کے دھرنوں کو دیکھ لیا، لاک ڈاؤن بھی ناکام رہا، یہ ہر سازش میں شریک رہے اور سازشیں کرتے رہے، ان سے نمٹ لیں گے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم پر کوئی الزام نہیں، بات صرف اللہ سے ہی کریں گے، ہماری نیت ٹھیک ہے، کوئی خوردبرد نہیں کی، تحقیقاتی عمل سے گزرنا چاہتے ہیں، مظلوم بھی ہم ہیں،احتساب اورحساب بھی ہمارا ہورہا ہے،احتساب کس چیز کا ہورہا ہے؟ 2014میں ان کے دھرنوں کو دیکھ لیا لاک ڈاؤن بھی ناکام رہا،یہ ہر سازش میں شریک رہے اور سازشیں کرتے رہے، ان سے نمٹ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرکوئی الزام نہیںبات صرف اللہ سے ہی کرینگے حالات کا تقاضا ہے اورسپریم کورٹ سے اچھے فیصلے کی توقع ہے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نوازشریف مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کو کسی قسم کی تجارتی رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مظلوم نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کرے اور ہم انہیں تجارتی رعایت دیں یہ کسی صورت ممکن نہیں۔تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں پاکستان، تاجکستان، کرغزستان اور افغانستان کا چار ملکی اجلاس منعقد ہوا، تاجک صدر کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف، افغان صدر اشرف غنی اور کرغزستان کے وزیر اعظم نے شرکت کی۔ اجلاس میں کاسا ایک ہزار منصوبے پر بریفنگ دی گئی جب کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال شروع ہونے والا کاسا ایک ہزار منصوبہ آئندہ سال مکمل ہو جائے گا۔وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ منصوبہ وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کو آپس میں ملائے گا اور بجلی کی ترسیل کے منصوبے سے پاکستان سمیت افغانستان کو بھی فائدہ ہوگا جب کہ توانائی کی فراہمی سے عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا، کاسا 1000 سے تاجکستان کو بھی ریوینو حاصل ہوگا۔اجلاس اس وقت بے نتیجہ ثابت ہوا جب افغانستان نے سہہ فریقی تجارتی راہداری میں بھارت کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔ نوازشریف نے بھارت کو کسی قسم کی تجارتی رعایت دینے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں پیلٹ گنزچلائے اور ہم تجارتی رعایت دیں، یہ ممکن نہیں جبکہ افغانستان کاسامان جاناچاہیے اور ہم نے اسے راستہ دے رکھا ہے، مگر بھارت مقبوضہ کشمیرمیں زیادتی کررہا ہے۔


