سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید
شیئر کریں
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی
حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ شہر نہیں چل سکتا،اپوزیشن ارکان
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن نے صوبائی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل پر شدید تنقید کی۔اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی صدارت سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا، جس میں آج دوسرے روز بھی بجٹ پر بحث جاری رہی۔ رکن اسمبلی نور محمد نے کہا کہ مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ کم وسائل کے باوجود سندھ حکومت نے ترقیاتی کام مکمل کیے ہیں مگر مزید کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے۔نور محمد بھرگڑی نے کہا کہ نواب شاہ سے آنے والے ڈرینیج سسٹم کو بہتر کیا جائے۔ یہ آبپاشی کا منصوبہ ہے نہروں کے پل ٹوٹے ہوئے ہیں، پلوں کی وجہ سے حادثات ہوئے ہیں۔ سندھ میں نہری پانی کی شدید قلت ہے۔ وفاق کی جانب سے سندھ کے فنڈز میں کٹوتی سے افسوس ہوا ہے، اس سے ترقیاتی کام متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید کی جاتی ہے کہ مسلسل حکومت ملی ہے اور ہم نے کام نہیں کیے، حقیقت یہ ہے کہ ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ میرپورخاص میں بارشوں سے نقصان ہوا، اسکولوں اور اسپتالوں کو نقصان ہوا۔ وزیر تعلیم نے اسکول تعمیر کرائے، مزید اسکولوں کی مرمت جاری ہے۔نور محمد بھرگڑی کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی ہے، پانی کی وارا بندی ہو رہی ہے، دریائے سندھ سے کمی کو ختم کیا جائے۔ مزید فنڈز ملے تو ہمارے نامکمل منصوبے مکمل کرائے جائیں، ہمیں میگا پروجیکٹ دیے جائیں۔ وزیراعلی سے مطالبہ ہے کہ روڈز مکمل کرائے جائیں۔ ڈرینیج اور سم نالے درست کیے جائیں، جہاں ٹوٹ گئے ہیں وہاں حادثات ہوئے ہیں، وہاں پل بنا کر دیے جائیں۔یوسف بلوچ نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ اور کابینہ کو بجٹ پیش کرنے پر مبارک دیتا ہوں۔ خراب معاشی حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا گیا، سندھ بجٹ عوام دوست بجٹ ہے۔ شرجیل میمن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے پنک بس اور اسکوٹیاں دی گئی ہیں، یہ سب انقلابی اقدامات ہیں۔ لیاری میں ڈرگ مافیا اور گٹکا کا راج تھا، منشیات پر 60 فیصد کنٹرول ہوا ہے، لیاری میں 40 فیصد منشیات ابھی بھی موجود ہے۔ لیاری میں فٹبال کی بڑی اسکرین لگائی گئی، نوجوان رات بھر فٹبال سے محظوظ ہوتے ہیں۔یوسف بلوچ کا کہنا تھا کہ لیاری بدل گیا ہے، اب لیاری میں مکمل امن ہے۔ لیاری کو بلاول بھٹو نے 25 ارب کے منصوبے دیے، تعمیراتی کام کا ٹھیکہ ٹینڈر ہو چکا ہے۔ مون سون ہے، ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جائے۔رکن اسمبلی ملیحہ منظور نے کہا کہ ایف بی آر کی وجہ سے صوبوں کا بجٹ کم ہوا ہے۔ سندھ اس وقت 250 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔ وفاق کو 260 ارب روپے سندھ حکومت دے گی، مجموعی شارٹ فال 600 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ وفاقی حکومت پیٹرول، گیس، بجلی کو مہنگا کرتی رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں اس وقت 40 فیصد پانی کی قلت ہے۔ پانی زندگی ہے، سندھ سے اس کی زندگی مت چھینی جائے۔ بجٹ سنے بغیر یہاں پر احتجاج کیا گیا۔ بجٹ میں ووٹ دینے کے لیے گورنر شپ کا مطالبہ کیا گیا، کیا گورنر شپ کے لیے ووٹ کی قیمت لگائی گئی ہے؟حنا دستگیر نے کہا کہ یہ بجٹ اس وقت لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔ لوگوں کو تنخواہیں بڑھنے کی امید تھی، آصف زرداری نے سب سے زیادہ تنخواہ بڑھائی تھی۔ اس وقت این ایف سی ایوارڈ پر شور ہو رہا ہے۔ سندھ میں تعلیم اور صحت پر سب سے زیادہ پیسے رکھے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ پڑھے لکھے، مالی معاملات کے ماہر ہیں۔ پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ پر مصلحت نہیں کی۔ سندھ میں دیہی اور شہری علاقوں میں کام ہو رہا ہے۔فہیم پٹنی نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ بلدیہ فیکٹری میں سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ ایم کیو ایم کا بلدیہ فیکٹری میں کوئی کردار نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، اندازہ ہو رہا ہے کہ 18 سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا۔ جب ہم آرٹیکل 140 اے کی بات کرتے ہیں تو سندھ حکومت راضی نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل نہیں ہو رہا، وفاق سے پیسے لے کر صوبے تقسیم نہیں کرتے۔ریحان بندوکڑا نے کہا کہ میرے حلقے کی تمام کالونیوں میں بے تحاشا مسائل ہیں۔ 16 گھنٹے تک بجلی نہیں ہوتی، کے الیکٹرک سی ای او کو شکر ہے نکالا گیا، کے الیکٹرک کا سی ای او جنسی ہراسمنٹ میں ملوث تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پروجیکٹس کے لیے بجٹ میں صرف پیسے رکھے جاتے ہیں، ہم صرف باتیں کر رہے ہیں، باتوں سے یہ شہر نہیں چل سکتا۔ جو بچے پیدا ہو رہے ہیں وہ غذائی قلت کے شکار ہیں، 50 فیصد بچے چھوٹے قد کے پیدا ہو رہے ہیں۔ریحان بندوکڑا کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کا حال برا ہے۔ وزیر داخلہ کو کئی بار گزارش کی ہے، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں۔ کراچی ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کراچی کو کہاں لے کر جانا ہے۔ 50 فیصد کام آپ کریں، ہم کراچی کو سنبھال لیں گے۔سیدہ ماروی راشدی نے کہا کہ بجٹ پیش کرتے وقت غیر سنجیدگی دیکھی گئی۔ تقریر سنے بغیر بائیکاٹ کرکے اپنے عوام سے زیادتی کی گئی، رنگ میں بھنگ ملانے کی کوشش کی گئی۔ آپ بجٹ کو چھوڑیں، آپ نے اپنے دور حکومت میں کیا کیا ہے؟ آپ نے کوئی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا منصوبہ دیا؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ آپ نے کبھی تھر کول جیسا منصوبہ دیا ہے؟ آپ نے کبھی کراچی کو کوئی بڑی شاہراہ دی ہے؟ شاہراہ فیصل بھی ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا۔


