سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری
شیئر کریں
سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش
استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی
سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کردیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے کر انہیں بری کر دیا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کی اپیلوں پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا اور دونوں ملزمان کو کیس سے بری کرنے کا حکم جاری کردیا۔عدالتی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران وکیل صفائی حسان صابر نے موقف اختیار کیا کہ استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں ہے، جس نے ملزمان کو فیکٹری میں آگ لگاتے ہوئے دیکھا ہو۔عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد دونوں ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔یاد رہے کہ ماتحت عدالت کی جانب سے دونوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کی سزا سنائی گئی تھی، جسے ملزمان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔واضح رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹان میں واقع گارمنٹس فیکٹری میں ستمبر 2012 میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں 256 معصوم محنت کش اور ملازمین زندہ جل کر جاں بحق ہو گئے تھے، جسے ملکی تاریخ کا بدترین صنعتی حادثہ اور سانحہ قرار دیا گیا تھا۔


