کراچی میں بجلی پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا، شہری سراپا احتجاج،ہیٹ ویو نے مشکلات بڑھا دیں
شیئر کریں
شدید گرمی، حبس اور ہیٹ ویو کے دوران شہرمیں 12سے18گھنٹے لوڈشیڈنگ،پانی کی شدید قلت ،شہری پریشان
عوام مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور،شدیدگرمی میں لوڈشیڈنگ کاخاتمہ اورپانی کی تسلسل کیساتھ فراہمی کامطالبہ
(رپورٹ: افتخار چوہدری) کراچی سمیت ملک بھر میں 8جون سے 12جون تک شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں اس دوران درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔شہریوں نے اس شدید گرمی کے پیش نظر کے-الیکٹرک سے اپیل کی ہے کہ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے گریز کیا جائے تاکہ عوام کو گرمی کی شدت سے کچھ ریلیف مل سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں 12 سے 18 گھنٹے تک جاری اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث عوام سخت اذیت کا شکار ہیں۔شہریوں نے کہا کہ گرمی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی پینے کے پانی کی قلت بھی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے، جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اورنگی ٹان، قصبہ کالونی، منگھوپیر، مومن آباد، ناظم آباد، لیاری، کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی اور سرجانی ٹان سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں 15 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب پانی کی عدم دستیابی اور دوسری جانب مہنگے داموں ٹینکر خریدنے کی مجبوری نے انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق 15 سے 20 دن کے وقفے سے پانی لائنوں میں چھوڑا جاتا ہے، تاہم کم پریشر کے باعث پانی گھروں تک نہیں پہنچ پاتا۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ گرمیوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر پانی کی فراہمی کے وقفے کا دورانیہ کم کیا جائے اور مناسب پریشر کے ساتھ پانی فراہم کیا جائے تاکہ گھروں کے نلکوں تک پانی پہنچ سکے۔


