لسبیلہ پل کے نیچے میٹھے پانی کی چوری بے نقاب،شکیل مہر ودیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج
شیئر کریں
رینجرز کی غیر قانونی سب سوائل نیٹ ورک کیخلاف کارروائی،شکیل مہر واٹر کارپوریشن کا 10 کروڑ کا نادہندہ نکلا
گزشتہ کئی سالوں سے سب سوائل کی آڑ میں واٹر کارپوریشن کی 33 انچ قطر کی لائن سے پانی چوری کیا جا رہا تھا
(رپورٹ :افتخار چوہدری) کراچی میں پانی چور پکڑے گئے۔ پانی چوری کرنے والے سب سے بڑے نیٹ ورک کے سربراہ سب سوائل ایسوسی ایشن کے صدر شکیل مہر کے ملوث ہونے کا انکشاف۔شکیل مہر کے خلاف پانی چوری کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ۔گزشتہ کئی سالوں سے سب سوائل کی اڑ میں واٹر کارپوریشن کی مرکزی لائن سے پانی چوری کیا جا رہا تھا ۔شکیل مہر واٹر کارپوریشن کا 10 کروڑ روپے کا نادہندہ بتایا جا رہا ہے ۔کراچی میں بڑے پیمانے پر پانی کی چوری ہونے کی شکایات پر رینجرز اور واٹر کارپوریشن کی غیر قانونی سب سوائل نیٹ ورک کے خلاف کامیاب کارروائی عمل میں لائی گئی ۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی چوری کے خلاف جاری مہم کے دوران ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی مرکزی لائن سے میٹھے پانی کی چوری کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ یہ کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پاکستان رینجرز اور واٹر کارپوریشن کی مشترکہ ٹیم نے انجام دی، جس میں غیر قانونی سب سوائل نیٹ ورک کے ذریعے پانی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر ایکشن لیا گیا۔ واٹر کارپوریشن حکام کے مطابق لسبیلا پل کے نیچے واقع واٹر کارپوریشن کی 33 انچ قطر کی مرکزی لائن (نیو SBL؍CTM) کے قریب غیر قانونی سب سوائل نیٹ ورک کی آڑ میں میٹھے پانی کی چوری کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ اس اطلاع پر سب سوائل مینجمنٹ ٹیم اور اینٹی تھیفٹ سیل نے پاکستان رینجرز کے ہمراہ فوری کارروائی کرتے ہوئے شکیل مہر اور ابراہیم کے زیر استعمال تین مشتبہ سب سوائل نیٹ ورکس کی مکمل تلاشی لی۔ کارروائی کے دوران پہلے نیٹ ورک پر ایک 50 فٹ گہرے واٹر ٹینک کے نچلے حصے میں ایک خفیہ سرنگ دریافت ہوئی، جو براہ راست واٹر کارپوریشن کی مرکزی لائن سے منسلک تھی۔ اس سرنگ میں 80 ہارس پاور کی ہائی سکشن مشین نصب کی گئی تھی، جبکہ اس کے ساتھ 4 انچ قطر کی پائپ لائن بھی لگی ہوئی تھی، جس کے ذریعے میٹھا پانی غیر قانونی طور پر حاصل کیا جا رہا تھا۔ واٹر کارپوریشن حکام نے موقع پر ہی پانی کے نمونے حاصل کیے، جن کا ٹی ڈی ایس (Total Dissolved Solids) 450 ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ سطح واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذکورہ پانی سب سوائل کا نہیں بلکہ صاف میٹھا پانی ہے، جو براہ راست واٹر کارپوریشن کی مرکزی لائن سے چوری کیا جا رہا تھا۔ مزید تصدیق کے لیے پانی کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے، جس کے بعد متعلقہ سب سوائل نیٹ ورک کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا، بعد ازاں واٹر کارپوریشن ایکٹ کے تحت ملزمان شکیل مہر اور ابراہیم کے خلاف واٹر کارپوریشن تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ دیگر دو سب سوائل نیٹ ورکس سے بھی پانی کے نمونے حاصل کیے گئے، تاہم ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہاں سے میٹھے پانی کی چوری کے شواہد نہیں مل سکے۔ واضح رہے کہ مذکورہ سب سوائل نیٹ ورک سب سوائل ایسوسی ایشن کے صدر شکیل مہر کی ملکیت اور زیرِ انتظام ہے۔ وہ نہ صرف سب سے زیادہ لائسنسز اور بورز کے مالک ہیں بلکہ واٹر کارپوریشن کے بڑے نادہندگان میں بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق انہوں نے گزشتہ پانچ ماہ سے واجبات ادا نہیں کیے، جس کے باعث ان پر تقریباً 10 کروڑ روپے کی خطیر رقم واجب الادا ہے۔ واٹر کارپوریشن حکام کا کہنا تھا کہ مطابق میٔر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں شہر بھر میں پانی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ ایسے عناصر جو شہریوں کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ عوام کو ان کے حصے کا پانی منصفانہ اور شفاف انداز میں فراہم کیا جا سکے۔


