میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ،پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی نقشوں کی آڑ میں کمرشل یونٹس

سندھ بلڈنگ،پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی نقشوں کی آڑ میں کمرشل یونٹس

ویب ڈیسک
پیر, ۲۷ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلاک 2پلاٹ اے 88اور ٹی 5 پر رہائشی پلاٹس پر خفیہ کمرشلائزیشن، قوانین کی خلاف ورزی
اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ، بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب کی ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات کو فروغ

ضلع شرقی کے معروف رہائشی علاقے پی ای سی ایچ ایس کے مختلف بلاکس میں رہائشی نقشوں کی آڑ میں کمرشل یونٹس کی تعمیرات کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ، جہاں بلڈنگ بائی لاز اور ضابطۂ اخلاق کو نظر انداز کرتے ہوئے گھروں کو دکانوں، دفاتر اور دیگر کمرشل پورشنز میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ جرأت سروے ٹیم کو حاصل معلومات کے مطابق متعدد پلاٹس پر بغیر منظور شدہ نقشوں کے تعمیرات جاری ہیں جبکہ اندرونی تبدیلیوں کے ذریعے خفیہ کمرشل غیر قانونی سرگرمیاں بھی فروغ پا رہی ہیں۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ اور بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کی مبینہ سرپرستی اور تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت کے باعث یہ غیر قانونی سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے ۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ بلاک 2 کے پلاٹ اے 88 اورٹی 5 پر رہائشی نقشوں میں ردوبدل کے بعد جاری کمرشل تعمیرات کے خلاف متعدد شکایات اور نشاندہی کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس سے مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔شہریوں کے مطابق غیر قانونی کمرشلائزیشن کے باعث ٹریفک کا دباؤ، پارکنگ مسائل اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو چکا ہے جبکہ رہائشی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر ذمہ دار افسران اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پی ای سی ایچ ایس میں قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں