عمران خان کی صحت،پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس گرما گرمی کی نذر
شیئر کریں
سینئر رہنماؤں میں سخت جملے بازی،سینیٹر ڈاکٹر زرقا کی موجودگی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار
شاہد خٹک نے پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دے دی،پارٹی ذرائع
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس بدانتظامی اور تلخ کلامی کا شکار ہوگیا، جہاں سینئر رہنماؤں کے درمیان سخت جملہ بازی ہوئی اور شاہد خٹک نے پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دے دی۔ ذرائع کے مطابق دو روز قبل اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹرز کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس کی صدارت چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان کر رہے تھے، اجلاس کا مقصد چیٔرمین عمران خان کی صحت اور پارلیمانی حکمت عملی پر تبادلہ خیال بتایا جا رہا تھا، لیکن یہ جلد ہی ایک مختلف سمت نکل گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں تلخی اس وقت شروع ہوئی جب رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کی موجودگی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان نے سینیٹر زرقاکو پارٹی سے نکال دیا ہے، تو وہ اس اجلاس میں شریک کیوں ہیں؟ سینیٹر زرکا نے جواب میں کہا کہ انہیں اور دیگر سینیٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کا جواب وہ جمع کرا چکے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اب تک پارٹی سے نکالے جانے کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن یا اطلاع موصول نہیں ہوئی، اس پر دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جب صورتحال بگڑتی دیکھی گئی تو رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی نے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی اور شاہد خٹک سے خاموش بیٹھنے کی درخواست کی، تاہم اس معاملے نے دوسری شکل اختیار کر لی جب شاہد خٹک نے داور کنڈی کو ہی نشانہ بنا دیا۔شاہد خٹک نے کہا کہ آپ تو خود دوسری پارٹی سے آئے ہیں، آپ پی ٹی آئی کے معاملات کو نہیں سمجھتے، اس پر داور کنڈی نے جواب دیا کہ جب 9 مئی کے بعد لوگ عمران خان کو چھوڑ رہے تھے، اس وقت میں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کے لیے قربانی دی، بحث اس وقت مزید بڑھ گئی جب شاہد خٹک نے داور کنڈی سے کہاکہ میں جانتا ہوں آپ کو ٹکٹ کس نے دیا ہے۔داور کنڈی نے فوری جواب دیا کہ جس نے آپ کو ٹکٹ دیا ہے اسی نے مجھے بھی ٹکٹ دیا ہے، اس موقع پر وہاں موجود رکن قومی اسمبلی فیصل کنڈی نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ پارٹی میں کئی سینئرز موجود ہیں، جو ٹکٹوں کا فیصلہ کرتے ہیں، اس لیے اس قسم کی بحث نہیں چھیڑنی چاہیے۔انہوں نے یاد دلایا کہ یہ اجلاس عمران خان کی صحت کے حوالے سے بلایا گیا ہے، اور یہی مناسب ہوگا کہ اسی موضوع پر توجہ دی جائے، ادھر شاہد خٹک نے پارلیمانی معاملات پر بھی سوال اٹھایا، اور کہا کہ پارلیمانی پارٹی دوبارہ سے قائمہ کمیٹیوں میں شرکت چاہتی ہے، لیکن یہ بتایا جائے کہ کیا اس حوالے سے عمران خان سے مشاورت کی گئی ہے؟۔جب حالات خراب ہوتے دیکھے گئے تو متعدد اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ بھی اس طرح کی بدتمیزی اور تلخ کلامی کرنی ہے تو انہیں ایسے اجلاسوں میں نہ بلایا جائے، شاہد خٹک نے بھی ممبران کے رویے پر شدید شکوہ کا اظہار کیا اور پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے مستعفی ہونے کی تنبیہ کر دی۔ذرائع کے مطابق اس پوری صورتحال میں چیٔرمین بیرسٹر گوہر ممبران کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہ گئے، لیکن اجلاس بری طرح بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ یہ اجلاس اندرونی اختلافات اور بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتا ہے، جو آنے والے دنوں میں پارٹی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔


