میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
این آئی سی وی ڈی میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات

این آئی سی وی ڈی میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات

ویب ڈیسک
پیر, ۱۵ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

پروکیورمنٹ میں خلاف ورزیاں،غیر قانونی و غیر مجازالاؤنسز، دس ارب کا گھپلا
آڈٹ ٹیم کو غیر قانونی متاثر کرنے کی کوششیں، ہیڈ آف پروکیورمنٹ اشفاق ملوث

ادارہ امراض قلب میں آڈٹ میں مداخلت اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آ گئے۔ معتبر ذرائع کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی)میں آڈٹ ٹیم کو غیر قانونی طور پر متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ کوششیں ہیڈ آف پروکیورمنٹ مسٹر اشفاق کے ذریعے مربوط کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پیمنٹ سے متعلق معاملات میں سنگین مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی کرپشن شامل ہے ۔ذرائع کے مطابق ان بے ضابطگیوں میں پروکیورمنٹ کے عمل کی خلاف ورزیاں، حد سے زیادہ تنخواہوں کی ادائیگی، غیر قانونی و غیر مجاز مانیٹرنگ الاؤنسز، آلات سے متعلق غلط استعمال اور دیگر مالی بدعنوانیاں شامل ہیں، جن کی مجموعی رقم مبینہ طور پر تقریباً 10ارب روپے تک پہنچتی ہے۔ اگر ان الزامات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ معاملات فوری توجہ اور سخت کارروائی کے متقاضی ہیں، جس کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب)سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے فوری ایکشن لینا ناگزیر ہے ۔یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ پروفیسر طاہر صغیر نے مبینہ طور پر ہیڈ آف انٹرنل آڈٹ مسٹر محمد فیصل اور اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے مسٹر کامران کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی صورت میں آڈٹ رپورٹ کلیئر کرائی جائے ، چاہے اس پر کوئی بھی اخراجات کیوں نہ آئیں، اور پروفیسر طاہر صغیر کے خلاف کوئی آڈٹ پیرا یا اعتراض شامل نہ کیا جائے ۔ذرائع کے مطابق اگر ضرورت پڑی تو بات چیت یا معاملات طے کرنے کا عمل بھی کیا جا سکتا ہے ، اور اس ضمن میں کسی بھی ممکنہ ادائیگی کو مبینہ طور پر ہیڈ آف پروکیورمنٹ مسٹر اشفاق کے ذریعے ، ممکنہ طور پر وینڈرز کی مدد سے ، مکمل کرنے کا منصوبہ ہے ۔ان سنگین الزامات کے پیشِ نظر یہ نہایت ضروری ہے کہ سخت نگرانی اور مؤثر اوور سائٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی غیر قانونی بندوبست، ناجائز دباؤ یا آڈٹ کے عمل میں مداخلت کو روکا جا سکے ۔ یہ امر اس لیے بھی اہم ہے تاکہ ڈی جی آڈٹ کی رپورٹ مکمل طور پر آزاد، شفاف، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد رہے ۔ چیئرمین نیب اور ڈی جی آڈٹ سندھ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ عوامی خزانے کے مفاد میں ان معاملات کی کڑی نگرانی کریں اور سخت جانچ پڑتال عمل میں لائیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں