میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غربت کے تسلط میں امن کے خواہاں

غربت کے تسلط میں امن کے خواہاں

جرات ڈیسک
پیر, ۲۷ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہم ایران امریکہ تصادم میں امن مذاکرات کیلئے مذاکرات اور پر اسراریت کے کے سلسلے کب تک بھگتیں گے؟ جنگ کا بھونڈا طبل ماند سی آواز میں بار بار بج رہا ہے، ہمارا ازلی حریف ” کاکروچ ” کی ”نظام توڑ ” مزاحمت کی زد میں ہے۔

سرحد کے دونوں جانب زندگی ” دُہرے عذاب کے نظام ” سے نجات کی خواہاں ہے، سرحدوں پر جنگیں اب ماضی کی طرح نہیں رہیں، اب میڈیا پر لڑی جاتی ہیں۔ سرحد کے دونوں طرف مخصوص لے پالک سیاستدان حب الوطنی اور قومی شاؤنزم کے شور کے گرداب میں ہیں، زیادہ انتہا پسندی کی دوڑ میں پچھاڑنے کی کوشش، ٹاوٹس اینکر اور تجزیہ نگار آگ بگولا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو جاتی ہے، چائے کی پیالی میں یہ طوفان کبھی تھوڑا لمبا ہو جاتا ہے اور کبھی ختم پھر امن کی آشا ” کے مدھم شور میں امن کی ریہرسل چلتی ہے۔ مذاکرات کا ایک اور دور جنم لیتا ہے، سامراجی سفارتکار اپنی سفارتی منافقت کے فنون کا مظاہرہ کرتے ہیں، سامراج کا محکوم ادارہ اقوام متحدہ ” امن قائم کرنے کے بیان داغتا ہے، قرار دادیں پاس ہوتی ہیں، پھر اس میں سول سوسائٹی کو د پڑتی ہے، انسانی حقوق کے نام پر پراجیکٹوں کے ساتھ ساتھ امن کی آشاکی صنعت چل پڑتی ہے، آشا کے ساتھ ایک آس باندھی جاتی ہے جو جلد بدیر ناقص، دھاگے ” کی طرح ٹوٹ جاتی ہے، یہیں پر سوال سر اُٹھاتا ہے کہ آخر حکمران ایسی کسی کیفیت میں کیوں اور کیسے پہنچے؟ یہ کھلواڑ ہمارے حکمران طبقہ کی ساخت اور کردار کی وضاحت کرتا ہے ۔

سامراج کی کھینچی گئی لکیر سرحد کے دونوں جانب سرمایہ دار طبقات نے جب سامراج کی براہ راست غلامی سے بالواسطہ غلامی کو آزادی کے نام پر اختیار کیا تو یہ خواب لیکر چلے کہ مغربی یورپ اور ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کی طرح یہاں ایک صنعتی اور جدید معاشرہ، معیشت، اقتصادیات اورصحت مند سرمایہ دارانہ جمہوریت کے اجراکی صورت تعبیر ملے گی مگر جب سامراجی غلبے میں وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوئے تو یار لوگوں کو اندازہ ہوا تاریخ کے میدان میں وہ بہت تاخیر سے پہنچے ہیں۔ ان کی خواہش کی تکمیل کا وقت گزر چکا تھا، اس طرح سامراج کی گماشتگی اور جاگیر داری سے مصالحت کے ایک پیروکار اور مطیع طبقے کا کردار اُن کا اعزاز بنا، بر صغیر کو از خود خیر باد کہنے کے ساتھ ہی سا مراج کے ان مطیع و فرمانبردار گماشتوں نے اپنی شرح منافع کو بڑھانے کیلئے کر پشن اور لوٹ مار کا جو عمل شروع کیا، ریاستی ادارے ان لٹیروں کی حفاظت اور مراعات کے فروغ کا کام بھلا مفت میں کیوں ادا کرتے، ریاستی افسر شاہی کی اعلیٰ پرتیں خود حکمران طبقے کا حصہ بننا شروع ہو گئیں، دولت اور ریاستی طاقت کا کھیل چولی دامن کا ساتھ بن گیا۔ہر دور کی ریاست انہی مفادات کے تحفظ اور فروغ کیلئے سرگرم رہی۔

جنگ اور امن دونوں فلسفوں پر آج ہمارے حکمرانوں اور مودی کی اجارہ داری ہے۔ سر حد کے دونوں پار کے حکمران کبھی مودی کی شکل میں اور کبھی نوازشریف کی شکل میں اپنے بیانیے میں انتباہ بھی دیتے ہیں اور پھر امن کی آشاکا راگ بھی الاپتے ہیں،امن قائم کرنے کے نام پر غربت کے خاتمے کا پورا مفروضہ ہی غلط اور ناکام ٹھہرا،امن اس لئے قائم نہیں ہو سکتا کہ غربت ہے۔ اس غربت اور ذلت سے تنگ آکر ایک محکوم طبقہ جب اپنے بنیادی حقوق کیلئے احتجاج کا حق لے کر میدان میں اُترتا ہے۔تو اس پر 26نومبر کا سانحہ گولیوں کی بوچھاڑ کی شکل میں وارد ہوتا ہے۔9مئی کے ساختہ واقعہ سے ایک جمہوری پارٹی پر زمین تنگ کردی جاتی ہے۔ عوام جان لیں کے عوام پر ایسے مظالم اُس دور میں روا رکھے جاتے ہیں جب اکثریت ایک جمود میں، بے نیاز،بے حسی میں مبتلاہوتی ہے۔ حکمران بھی یہ جان لیں کہ جہاں 65 فیصد غربت پلتی ہو احتجاج کی اذیت کو زیادہ دیردبا کر نہیں رکھا جا سکتا ، ایسی اذیت میں پلنے والا طوفان جب قہر بن کراُٹھتا ہے تو کچھ باقی نہیں بچتا۔ عمران خان کی بہن نورین نیازی کے بیان کو تاریخ کے تناظر میں دیکھئے کہ جنگ جیت کر بھی محترمہ اندرا گاندھی کو 74-1972 کی محنت کشوں کی تحریک نے اکھاڑ پھینکا تھا، جدید جرمنی کے بانی بسمارک کے مایہ ناز جنرل کارل کلا زویٹ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ‘‘جنگ در حقیقت داخلی سیاست کو مسلط کرنے کا خارجی ذریعہ ہوتی ہے ’’۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں