میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سیسی میں الکرم ٹیکسٹائل سے وصولی میں کروڑوں کاغبن

سیسی میں الکرم ٹیکسٹائل سے وصولی میں کروڑوں کاغبن

جرات ڈیسک
پیر, ۲۷ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

محکمہ لیبر کے ماتحت اداے کے ڈائریکٹر علی اکبر منگی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم

انکوائری پر اثرانداز ہونے کے الزامات نے معاملے کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے

…………………………………………

محکمہ لیبر کے ماتحت اداے سیسی میں الکرم ٹیکسٹائلز سے وصولی میں کروڑوں روپے کے غبن کا معاملہ سامنے آ گیا، انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی، الکرم ٹیکسٹائل ملز سے متعلق جاری انکوائری پر اثرانداز ہونے کے الزامات نے معاملے کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ لیبر کے ماتحت ادارے سیسی کے ڈائریکٹر علی اکبر منگی کی سربراہی میں الکرم ٹیکسٹائیل ملز سے وصولی کے سلسے میں انکوائری کمیٹی قائم کی گئی، سید اسد حیدر عابدی اور ضمیر احمد کمیٹی کے میمبر ہیں۔ انکوائری کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ الکرم ٹیکسٹائل ملز کے گذشتہ دو سال کے کنٹری بیوشن کی تصدیق کرے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیسی افسران نے الکرم ٹیکسٹائلز سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت لے کر وصولی میں رعایت دی ہے۔ دوسری جانب آل سندھ ورکرز فیڈریشن کے رہنما درخواستگذار عبدالستار نیازی نے وزیراعلی سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، وزیر محنت سعید غنی اور کمشمر سیسی ہادی بخش کلہوڑو کو ارسال کئے گئے خط میں دعوی کیا ہے کہ الکرم ٹیکسٹائیل ملز کی انکوائری میں کروڑوں روپے کے معاملے میں خصوصی رعایت دی جا رہی ہے اور عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ درخواستگذار نے الزام عائد کیا کہ ڈائریکٹر لانڈھی سیسی مسٹر قُطب الدین اور ڈائریکٹر C&B وسیم جمال مبینہ طور پر معاملے میں ملوث ہیں۔

الکرم انکوائری کو متاثر کرنے اور بعض افراد کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ درخواست گزار نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ الکرم انکوائری کو فوری طور پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے حوالے کیا جائے تاکہ معاملے کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ممکن ہو سکیں۔درخواست میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ موجودہ انکوائری افسران اپنی مکمل رپورٹ اور تمام متعلقہ سرکاری ریکارڈ سات روز کے اندر صوبائی محتسب سندھ کو جمع کرائیں تاکہ کسی بھی ریکارڈ یا ثبوت کے ضائع، چھپائے جانے یا تاخیر کا خدشہ نہ رہے۔ درخواست گزار نے کمشنر سیسی کی جانب سے ادارے میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ الکرم انکوائری میں بھی شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں