سندھ مدرسۃ الاسلام میں کروڑوں کا منصوبہ التوا کا شکار
شیئر کریں
سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی میں 2 کروڑ 40 لاکھ روپے کا منصوبہ التوا کا شکار، (ایس ایم آئی یو) کے بزنس انکیوبیشن سینٹر (بی آئی سی) میں بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانی کا شبہ۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے منصوبے کے لئے 2 کروڑ 40لاکھ روپے مختص کیے ، ایس ایم آئی یو کو ابتدائی قسط کے طور پر 22لاکھ 28 ہزار روپے موصول ہوئے ، مالی امداد کے باوجود، بی آئی سی اپنے قیام کے بعد سے اب تک فعال نہیں ہوا۔ منصوبہ ایچ ای سی کی جانب سے طلبہ میں کاروبار کو فروغ دینے کی ایک قومی کوشش کا حصہ ہے ، جس کا مقصد نئے کاروباری منصوبوں کے لئے اہم وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی ہے ۔ سندھ میں ایس ایم آئی یو کو چار اداروں میں شامل کیا گیا جنہیں بی آئی سی قائم کرنے کے لئے منتخب کیا گیا، جس میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (ایم یو ای ٹی)، داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (ڈی یو ای ٹی)، اور انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (آئی او بی ایم) بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ منصوبہ ایک ’کاغذی منصوبہ‘ بن چکا ہے ، جون 2022 میں ایک مخصوص منیجرکی تقرری کے بعد سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ ذرائع کے مطابق بی آئی سی کے لئے مختص فنڈز کو دیگر غیر متعلقہ شعبہ جاتی سرگرمیوں میں استعمال کیا گیا، جس سے مالیاتی رپورٹنگ کی شفافیت پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔پروجیکٹ منیجرنعیم احمد، جو کہ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، جس نے دو سالانہ رپورٹس جمع کروائیں، جن میں سے ایک رپورٹ ایچ ای سی کو اور دوسری مہران یونیورسٹی کو بی آئی سی کے لیڈ پارٹنر کے طور پر جمع کرائی گئی، جن میں تضادات موجود تھے ۔ بغیر دستخط کے پہلی رپورٹ میں مختلف تقریبات کو بزنس ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اور بی آئی سی کے مشترکہ منصوبے کے طور پر غلط طور پر دعویٰ کیا۔ دوسری رپورٹ میں ایچ ای سی کے طے شدہ فارمیٹ کا استعمال اور ڈائریکٹر اوریک اور کچھ سینئر حکام کے دستخط موجود تھے ، نے متضاد اعداد و شمار پیش کئے اور دعویٰ کیا کہ بی آئی سی مختلف سہولیات کے ساتھ فعال ہے ، جو حقیقت کے بلکل برعکس ہے ۔ سینئر تعلیمی ماہر پروفیسر بشیر شاہانی نے ان انکشافات کے پیش نظر احتساب کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ "فنڈز کا غلط استعمال اور شفافیت کا فقدان یونیورسٹی کی قیادت پر برا اثر ڈالتا ہے "، مالی بے ضابطگیوں کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بی آئی سی کے قیام میں ناکامی نہ صرف ایس ایم آئی یو کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ کراچی میں طلبہ اور نوآموز کاروباری افراد کے لئے ضروری تعاون کو بھی متاثر کر رہی ہے اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو ایس ایم آئی یو کی ایچ ای سی اور ممکنہ طلبہ کے ساتھ ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے ، جس سے اس خطے میں جدت اور ترقی کے ایک اہم پلیٹ فارم کی ترقی مزید رک سکتی ہے ۔ایس ایم آئی یو کے بی آئی سی منصوبے کا مستقبل غیر یقینی ہے ، اور شراکت دار ادارے اعتماد اور احتساب کی بحالی کے لئے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


