میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مصنوعی ذہانت ، علمی ورثے اور دانشوارنہ املاک کے لیے خطرہ قرار

مصنوعی ذہانت ، علمی ورثے اور دانشوارنہ املاک کے لیے خطرہ قرار

جرات ڈیسک
جمعه, ۳۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بعض ٹیک کمپنیاں اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے کتابیں اسکین کرنے کے بعد اصل نسخے تلف کر رہی ہیں،رپورٹ میں دعویٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے ترقی کے ساتھ اس کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے مواد کے حصول پر بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض بڑی ٹیک کمپنیاں اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے بڑی تعداد میں کتابیں خرید کر انہیں اسکین کرتی ہیں اور بعض مواقع پر ڈیجیٹل نقول تیار کرنے کے بعد ان کے اصل نسخے تلف کر دیتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کمپنیاں جدید اور تیز رفتار اسکیننگ مشینوں کے ذریعے کتابوں کا مکمل مواد ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرتی ہیں تاکہ اسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت میں استعمال کیا جا سکے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض صورتوں میں اسکیننگ کے بعد اصل کتابیں محفوظ رکھنے کے بجائے ضائع کر دی جاتی ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اس منصوبے کا آغاز تقریباً دو برس قبل ہوا، جب فروری 2024 میں ایک بڑی اے آئی کمپنی نے ایک ایسے فرد کو ذمہ داری سونپی جس کا کام دنیا بھر سے زیادہ سے زیادہ کتابیں حاصل کرنا تھا تاکہ انہیں ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کیا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی کمپنیاں بالخصوص 2022 سے پہلے شائع ہونے والی کتابوں میں دلچسپی رکھتی ہیں، کیونکہ ان میں موجود مواد زیادہ تر انسانی مصنفین کی تخلیق کردہ اصل تحریروں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسکیننگ کے بعد تلف کی جانے والی کتابوں میں نایاب، تاریخی یا محدود اشاعت والے نسخے بھی شامل ہوں تو یہ علمی اور ثقافتی ورثے کے لیے تشویشناک صورتحال ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی کتابیں محض معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب اور انسانی فکر کا قیمتی سرمایہ بھی ہوتی ہیں، جس کا تحفظ ناگزیر ہے۔

دوسری جانب ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے معیاری اور وسیع ڈیٹا کی ضرورت اپنی جگہ اہم ہے، تاہم اس عمل میں علمی ورثے کے تحفظ، دانشورانہ املاک کے حقوق اور نایاب کتابوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ تکنیکی ترقی اور ثقافتی ذمہ داری کے درمیان متوازن راستہ اختیار کیا جا سکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں