میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فارما انڈسٹری میں اختیارات کی دھونس؟غلام لاکھوکی شکایت

فارما انڈسٹری میں اختیارات کی دھونس؟غلام لاکھوکی شکایت

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ کے سنگین الزامات
پی پی ایم اے کی لاکھو کے خلاف الزامات کی تحقیق، ریکارڈ کی جانچ اور کارروائی کا مطالبہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے صوبائی انسپکٹر آف ڈرگز غلام علی لاکھو کے خلاف چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کو باضابطہ شکایت ارسال کرتے ہوئے مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز، فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہراساں کرنے اور ان کی قانونی کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ 10ستمبر 2026کے خط میں پی پی ایم اے نے غلام علی لاکھو کے مبینہ طرزِ عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سے معاملے کا فوری اور غیر جانب دارانہ نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی پی ایم اے کے مطابق بعض کمپنیوں، مجاز ڈسٹری بیوٹرز اور سیلرز کو مبینہ طور پر اسٹاک ضبطی، فروخت پر پابندی اور قانونی کارروائی جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جبکہ تنظیم نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ایسی کارروائیاں متعلقہ افسر کے قانونی دائرۂ اختیار اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

خط میں ڈرگ ایکٹ کی سیکشن 18اور 19کا حوالہ دیتے ہوئے انسپکشن، سیمپلنگ، ٹیسٹنگ اور تجزیہ سمت دیگر ریگولیٹری اختیارات کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

پی پی ایم اے نے چیف سیکریٹری سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ شکایت میں بیان کردہ الزامات کی مکمل چھان بین، ریکارڈ کی جانچ اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور اگر کسی غیر قانونی اقدام کی تصدیق ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پی پی ایم اے کی یہ تحریری شکایت صوبائی ڈرگ ریگولیٹری نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن کر سامنے آئی ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں