برکس میں بھارتی ہزیمت
شیئر کریں
سفارتی تنہائی کے شکار بھارت کو برکس اجلاس میں بھی ہزیمت اور شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا اوربھارتی سربراہی میں برکس اجلاس کی ناکامی اور عالمی رہنماؤں کی بے رخی نے بھارتی سفارت کاری پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔عالمی رہنما برکس اجلاس میں نام نہاد وشو گرو بھارت کے انتہا پسند وزیرِ اعظم مودی کو یکسر نظر انداز کرتے رہے۔ فیملی فوٹو کے دوران مودی نے زبردستی ہاتھ کھینچ کر صدر شی جن پنگ اور صدر پوٹن کو اپنی طرف کر لیا۔فیملی فوٹو کے دوران بھی عالمی رہنماؤں کے ہاتھوں بھی غیر مقبول مودی کو شدید سبکی اٹھانی پڑی۔برکس اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے باہمی ملاقاتوں اور گفتگو کو ترجیح دی، میزبان مودی پس منظر میں دکھائی دیئے۔برکس سمٹ میں عالمی رہنماؤں کی بے رخی بھارتی وزیرِ اعظم کی بڑھتی سفارتی تنہائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔سعودی عرب نے اجلاس میں صرف وزیرِ خارجہ کو بھیجا، جبکہ برازیل کے صدر نے شرکت ہی نہیں کی۔گودی میڈیا کی پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کی مہم ناکام، ملائیشین وزیرِ اعظم نے بھارتی بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا۔اجلاس کے عشائیے کے دوران گوشت کے بغیر مینو میں بھی ہندوتوا کے انتہا پسندوں کا تعصبانہ کردار نمایاں رہا۔
بھارت کو 2026 کے لیے برکس کی صدارت باری کے نظام کے تحت ملی ہے، جبکہ 2027 میں چین برکس کی قیادت سنبھالے گا۔ بھارت کے لیے یہ صدارت ایک اہم سفارتی موقع ضرور ہے، تاہم محض باری سے ملنے والی سربراہی کو غیرمعمولی قیادت کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ برکس میں اصل قیادت کا فیصلہ عملی نتائج اور ٹھوس پیشرفت سے ہوگا۔برکس کی صدارت رکن ممالک کے درمیان کیلنڈر سال کی بنیاد پر گردش کرتی ہے، اس لیے بھارت کے بعد 2027 میں چین کو یہ ذمہ داری ملے گی۔موجودہ بھارتی قیادت میں برکس کے بعض اہم اسٹریٹجک اہداف پر پیشرفت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب مختلف مفادات رکھنے والے ممالک کو ایک سمت میں آگے لے جانا نئی دہلی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
برکس میں مالی تعاون اور مقامی کرنسیوں میں لین دین کو فروغ دینے کی تجاویز پر طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، تاہم مشترکہ برکس کرنسی جیسے اہم اقتصادی عزائم اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ برازیل مشترکہ کرنسی کا خیال پیش کر چکا ہے، روس مغربی کرنسیوں پر انحصار کم کرنے اور ڈالر سے دوری کی پالیسی کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ بھارت مشترکہ کرنسی کے بجائے موجودہ ادائیگی کے نظام کے تحت مقامی کرنسیوں میں لین دین کو ترجیح دیتا ہے۔تکنیکی اور سیاسی مشکلات کے ساتھ چین سے مالی روابط بڑھانے میں بھارت کی ہچکچاہٹ بھی گہرے مالی تعاون کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔ بھارت ایک طرف برکس کے اندر مالی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، لیکن دوسری طرف چین کی قیادت میں بننے والے مالی نظام سے محتاط دکھائی دیتا ہے اور اس حوالے سے اپنا کوئی مضبوط متبادل بھی پیش نہیں کر سکا۔
بھارت اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت بھی برکس کے اندر زیادہ گہرے انضمام کی راہ میں رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ نئی دہلی ایک طرف خود کو برکس کی بڑی طاقت اور گلوبل ساؤتھ کی قیادت کے امیدوار کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب چین کے زیرقیادت مالی اور اقتصادی ڈھانچوں کے قریب جانے سے گریز کرتا ہے۔روس اس کے برعکس ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے زیادہ سخت مؤقف رکھتا ہے۔ یوں برکس کے اہم ارکان کی ترجیحات میں نمایاں فرق موجود ہے، جس کے باعث مالی یکجہتی اور مشترکہ اقتصادی حکمت عملی اب بھی ایک مشکل ہدف ہے۔برکس کے اندر اختلافات صرف اقتصادی معاملات تک محدود نہیں۔ ایران اور خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات بھی گروپ کے اندر مکمل اتفاق رائے کے لیے ایک پیچیدگی ہیں۔
ایران اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات کے باوجود مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کو سفارتی ہم آہنگی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ارکان کے مفادات اور ترجیحات یکساں ہو چکے ہیں۔مشترکہ اعلامیہ مفید پیشرفت ہے، تاہم اسے مشرق وسطیٰ کے اختلافات کے خاتمے کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔بھارت نے برکس کی ایک بڑی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی، اجلاس میں ادائیگیوں کے نظام، مقامی کرنسیوں، مالی تعاون، مصنوعی ذہانت، اقتصادی زونز، سپلائی چین اور اقتصادی انضمام سمیت متعدد معاملات پر بات ہوئی، لیکن اب تک ایسا کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا جسے بھارت کی صدارت کی واضح کامیابی قرار دیا جا سکے۔بہت سے اقدامات ابھی مطالعے، مذاکرات، کمیٹیوں اور مستقبل کے منصوبوں کے مرحلے میں ہیں، جبکہ اصل سوال ان تجاویز پر عمل درآمد کا ہے۔برکس کے پرانے مسائل، جن میں کمزور اقتصادی انضمام، رکنیت کے معاملات پر غیر واضح صورتحال اور نیو ڈیولپمنٹ بینک کا محدود کردار شامل ہیں، بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔


