سندھ بلڈنگ حیدر آباد میں اندھیر نگری چوپٹ راج
شیئر کریں
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اورنگزیب سسٹم کے مرکزی مہرے ، کرپشن کے جھنڈے گاڑ دیے
ماں جی ہسپتال کے قریب واقع فور سیزن نامی شادی ہال منظوری اور نقشے کے بغیر برقرار
(رپورٹ: اظہر رضوی) ایس بی سی اے میں اندھیر نگری چوپٹ راج، چند افسران پر مشتمل سسٹم نے شہر کا نقشہ بگاڑ دیا،ذاتی خرچہ وصول کرکے حکومتی خزانے کو کروڑوں کا چونا لگایا جا رہا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اورنگزیب رضی سسٹم کے مرکزی مہرے ہیں جنہوں نے کرپشن کے جھنڈے گاڑ دیئے ۔ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے حیدرآباد اپنی کرپشن اور دفتری بے ضابطگییوں کے باعث حکومت سندھ کے تمام اداروں میں بازی لے گیا جس کے باعث ایک طرف تو حیدرآباد شہر میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب حکومت سندھ کو کروڑوں نہیں اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ تمام غیر قانونی کاموں کو سسٹم کے تحت چلایا جارہا ہے۔ اس کا سب سے اہم مہرہ اورنگزیب نامی ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے جو بذات خود غیر قانونی طور پر سینئر ڈائریکٹر جیسی اہم پوسٹ پر قابض ہے گو کہ مذکورہ افسر کی کرپشن لوٹ مار ،عہدے کے قانونی اختیارات سے تجاوز کی فہرست کافی طویل ہے لیکن انکی کرپشن کی تازہ ترین مثال ماں جی ہسپتال کے قریب واقع فور سیزن نامی شادی ہال ہے جو کہ محض موصوف کی آشیر باد سے چل رہا ہے جبکہ نہ تو اس شادی ہال کا باقاعدہ طور پر نقشہ پاس کیا گیا ہے اور نہ ہی اس جگہ کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے کی قانونی منظوری حاصل کی گئی ہے ۔یاد رہے کہ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر ہونے والے اس شادی ہال کے انہدام کے احکامات پہلے ہی جارے ہوئے ہیں لیکن مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض ان احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ حیدرآباد کے عوام سوال کرتے ہیں کہ جب غیر قانونی تعمیرات کا سد باب کرنے والا محکمہ ہی ان غیر قانونی احکامات کی باقاعدہ سرپرستی کا بیڑہ اٹھالے تو عوام کس کی طرف دیکھے ،کیا اورنگزیب رضی جیسے نا اہل اور بد عنوان افسران کے لیء حکومت سندھ کے پاس کوئی قانون نہیں جسکی بدعنوانیاں نہ صرف حیدرآباد شہر کی بدصورتی بلکہ سندھ حکومت کے خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔


