سندھ بلڈنگ ،وسطی میں غیرقانونی تعمیرات کا عفریت، عوام کی شکایات نظر انداز
شیئر کریں
شہری احتجاج کے باوجود بغیر نقشہ و منظوری کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر کا سلسلہ جاری
ڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند کی ملی بھگت سے نارتھ ناظم میں راتوں رات عمارتیں کھڑی
کراچی کے وسط میں قائم ضلع وسطی کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی مافیا رات کی تاریکی میں غیرقانونی کام تیز کر دیتی ہے ۔ ایک رہائشی، احمد خان کے مطابق، ’’ایک خالی پلاٹ پر راتوں رات تعمیراتی مواد جمع ہو جاتا ہے اور چند ہی راتوں میں عمارت کا ڈھانچہ کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ہماری شکایات کے باوجود نہ تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی طرف سے کوئی کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی پولیس کوئی قدم اٹھاتی ہے۔ ’’بنیادی سہولیات اور حفاظتی خطرات سے دوچار شہریوں کا کہنا ہے کہ ان غیرقانونی تعمیرات کے باعث نہ صرف گلیاں تنگ ہو رہی ہیں بلکہ پانی، گیس اور بجلی کی لائنیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک بزرگ شہری، رخسانہ بی بی نے بتایا، ’’ان نئی عمارتوں میں مزید لوگ آ بسیں گے ، جس سے پہلے ہی کمزور بنیادی ڈھانچے پر مزید دباؤ پڑے گا۔ سڑکیں پہلے ہی کھدائی اور ٹریفک سے پُر ہیں، یہ نئی تعمیرات صورتحال کو مزید بدتر بنا رہی ہیں‘‘۔علاوہ ازیں، بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیر ہونے والی یہ عمارتیں زلزلے یا کسی دیگر آفت کے دوران بڑے حفاظتی خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ زمینی حقائق اور جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند نے بھی دیگر افسران کی طرح بغیر نقشے اور منظوری کے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر کی چھوٹ دے رکھی ہے ،بلاک Fکے پلاٹ نمبر D17, D51پر جاری خلاف ضابطہ تعمیرات کشن چند کی کرپشن کے زمین پر منہ بولتے ثبوت ہیں ،مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر اس غیرقانونی سرگرمیوں پر پابندی عائد کریں اور بنایا گیا غیرقانونی ڈھانچہ گرایا جائے ۔ تاہم، اب تک ان کی آواز رَسا نہیں ہو سکی ہے ۔


