میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، ناظم آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ برقرار،ذمہ دار خاموش

سندھ بلڈنگ، ناظم آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ برقرار،ذمہ دار خاموش

جرات ڈیسک
منگل, ۲۸ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پلاٹ F-11/6پر کمزور اور پرانی عمارت پر اضافی منزل کی تعمیر بلا روک ٹوک جاری

متعلقہ افسر الطاف کھوکھر کی چشم پوشی، اہلِ علاقہ کا وزیر بلدیات سے مداخلت کا مطالبہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں انتظامی کمزوریوں اور مبینہ بدعنوانی کے باعث کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

شہر کے مختلف علاقوں کی طرح ناظم آباد نمبر 3 میں بھی قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخدوش عمارت پر اضافی منزل تعمیر کی جا رہی ہے ، جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق روزنامہ جرأت کی جانب سے پہلے بھی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ ناظم آباد نمبر 3 کے پلاٹ F-11/6 پر قائم پرانی اور کمزور بنیادوں والی عمارت پر بالائی منزل کی تعمیر جاری ہے ۔ تاہم خبر کی اشاعت کے باوجود سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس کے باعث تعمیراتی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔

علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ عمارت کی بنیادیں اضافی بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں، اس کے باوجود تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے ، جس سے نہ صرف عمارت بلکہ اردگرد کی آبادی بھی ممکنہ خطرے سے دوچار ہو گئی ہے ۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے ۔

مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کی مبینہ غفلت اور چشم پوشی کے باعث تعمیراتی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے اور ذمہ دار عناصر بلاخوف و خطر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔شہری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اس غیر قانونی تعمیر کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں کسی بھی ممکنہ سانحے کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

اہلِ علاقہ نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ F-11/6 کا فوری طور پر تکنیکی معائنہ کرایا جائے ، غیر قانونی تعمیرات کو فی الفور بند کرایا جائے اور مبینہ غفلت کے مرتکب افسران سمیت ذمہ دار تعمیراتی عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے قبل شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں