پی ٹی آئی خواتین رہنماؤں عالیہ حمزہ ،صنم اور فلک جاویدپر جیل میں تشدد
شیئر کریں
عالیہ حمزہ غسل خانے سے واپس آ رہی تھیں کہ نازیہ خواجہ نامی خاتون قیدی نے آٹھ سے دس دیگر خواتین کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا اور ان کا گلا پکڑ لیا،
نون لیگ زندہ باد کے نعرے
کوٹ لکھپت جیل میں صنم جاوید اور کارکن فلک جاوید وہاں موجود تھیں، جو حملہ روکنے کی کوشش کے دوران تشدد کا نشانہ بنیں، آئی جی پولیس کے ساتھ تعلقات ہیں، حملہ آور خاتون
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما عالیہ حمزہ پر مبینہ جان لیوا حملے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالیہ حمزہ معمول کے مطابق غسل خانے سے واپس آ رہی تھیں کہ اسی دوران نازیہ خواجہ نامی ایک خاتون قیدی نے مبینہ طور پر آٹھ سے دس دیگر خواتین کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا اور ان کا گلا دبا دیا، اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید اور کارکن فلک جاوید بھی وہاں موجود تھیں، جو مبینہ طور پر حملہ روکنے کی کوشش کے دوران خود بھی تشدد کا نشانہ بنیں۔
حملہ آور خاتون مبینہ طور پر نون لیگ زندہ بادکے نعرے لگا رہی تھی اور یہ دعویٰ بھی کر رہی تھی کہ اس کے آئی جی پولیس کے ساتھ تعلقات ہیں، مذکورہ خاتون نازیہ خواجہ منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں سزا کاٹ رہی ہے، جیل کے اندر ایک قیدی کی جانب سے متعدد خواتین کے ساتھ مل کر اس نوعیت کا حملہ ہونا اور سیاسی نعرے لگانا جیل انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، جیل حکام کو اس مبینہ واقعے اور سکیورٹی انتظامات میں ممکنہ غفلت پر جواب دینا چاہیے۔


