سیاسی استحکام سے محرومی
شیئر کریں
حمیداللہ بھٹی
کیئر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کے اعلان سے ایک بار پھر اِس خیال کی تائید ہوئی ہے کہ برطانیہ سے سیاسی استحکام رخصت ہو چکا ہے اور اب یہ ملک سیاسی عدمِ استحکام کاشکارہے ۔اگر ایسا نہ ہوتاتوچاربرسوں میں ملک پانچویں وزیرِ اعظم کے انتظارمیں نہ ہوتا طویل عرصے سے اقتدار واپوزیشن جیسے عہدوں کا فیصلہ کرنے والا دوجماعتی نظام کا دم توڑنے کے قریب ہے۔ نئی سیاسی جماعتوں کو عوام کی طرف سے پزیرائی ملنااِس کی دلیل ہے ۔جس سے یورپ میں سیاسی استحکام کی علامت سمجھا جانے والا برطانیہ مسلسل بحرانوں کی زد میں ہے۔
صرف گزشتہ دس برسوں کے سیاسی منظر نامے کاجائزہ لیں تو ملک کے چھ وزرائے اعظم مدت پوری کرنے کی بجائے قبل ازوقت عہدوں سے مستعفی ہوئے جسے دوصدیوں میں تنزلی کی تیز ترین رفتار کہہ سکتے ہیں۔ کیئر اسٹارمر کا پانچ سالہ مدت پوری کرنے کاخواب ایسے بھیانک طریقے سے ٹوٹا ہے کہ رندھی آواز کے ساتھ پیرکو استعفے کااعلان کرنے کے بعد10ڈائوننگ سٹریٹ کے باہر اُنھیں گلے لگانے کو صرف اہلیہ ہی مِل سکی۔ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ایسی بے قدری یا بے زاری صرف تیسری دنیا کے ممالک میں نظر آتی ہے لیکن برطانیہ جیسے ملک جِسے اپنی جمہوری اقدارپر نازہے اور مہذب ہونے کا دعویٰ بھی، کے مناظر نے اقتدار و اختیار چھن جانے کے بعدکی کمزوری کواُجاگر کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیئر اسٹارمر کے بعد وزیر اعظم کے عہدے کے بڑے اور اہم ترین امیدوار گریٹ مانچسٹر کے مئیر اینڈی برنہم کچھ سیاسی و معاشی سحرسے عوام کوگرویدہ کرسکیں گے تاکہ ملک ایک بار پھر سیاسی استحکام پر سفر شروع کرنے کے قابل ہو جائے، بظاہر امکانات کم ہیں۔
کیئر اسٹارمر کی عجیب بدقسمتی کہ اُن کے استعفے کی خبرملکی میڈیا سے بھی پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی ۔کئیر اسٹارمر وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ حکمران جماعت لیبر پارٹی کی قیادت سے بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔یہ لیبر پارٹی کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں کیونکہ ایسے حالات میں جب یہ جماعت اگلے عام انتخابات 2029 کے بارے میں مشاورت میں مصروف ہے ،یہ استعفیٰ کھائی میں گرتے کو زورسے دھکا دینے کے مترادف ہے۔ عام انتخابات سے قبل اب اُسے قیادت کاطے کرناہے۔ بظاہرتوکوئی مقبول عوامی چہرہ نہیںجوعام انتخابات میں اپنی پارٹی کی ساکھ بچاسکے ۔کئیر اسٹارمر کی یہ بات جزوی حدتک درست ہے کہ اُن کی جماعت پوچھ رہی ہے کہ کیا وہ اگلے عام انتخابات کے لیے موزوں شخص ہیں؟یہ سوال سُن لیا اور پورے وقارکے ساتھ قبول بھی کرلیاہے مگروہ اقتدار میں اچھے اور مقبول فیصلے نہیں کر سکے۔ سچ یہ ہے کہ عام انتخابات میںاکثریت ملتے ہی فاش غلطیاں کیں جب انھیں معلوم تھا کہ ملکی سیاست جو کئی عشروں سے دوجماعتی لیبر پارٹی اور کنزویٹو(ٹوری) کے گرد گھوم رہی تھی، اب ناموافق ہورہی ہے اور عوامی پسندیدگی بدل رہی ہے توبھی مشاورت سے فیصلے کرنے کی بجائے کچھ بدنام چہروں کی اہم عہدوں پر تعیناتیاں کردیں ۔بریگزٹ سے ملک یورپی یونین سے الگ تو ہوگیالیکن ہونے والی علیحدگی سے طویل مدتی خارجہ اور معاشی نظام تہہ بالا ہوا، جسے درست کرناضروری تھا لیکن فوری توجہ کے متقاضی کو نظر انداز کردیا گیا۔ بریگزٹ اثرات سے اسکاٹ لینڈ میں آزادی کی تحریک کو دوبارہ تقویت ملی مگر کئیر اسٹارمر ملکی حالات پر توجہ دینے کی بجائے عالمی رہنما بننے کی تگ ودو کرتے رہے۔ اِس ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ نہ توعالمی رہنما بن سکے اورنہ ہی ملک میں مقبول رہے اور منصب سے بھی الگ ہونے پر مجبور ہوگئے۔
قوموں کو آگے لے جانے یازوال سے دوچارکرنے میں رہنمائوں کااہم کردار ہوتاہے، جب برطانیہ کے شہریوں تک کو معلوم ہے کہ 2008 کے مالیاتی بحران کے اثرات سے ابھی تک ملک مکمل طورپر نکل نہیں سکا۔ کورونا وبا نے مزید معیشت کو متاثرکیا یوکرین جنگ سے مزید دبائو بڑھا لیکن یہ بات کیئر اسٹارمر جیسا قانون دان شاید سمجھ نہ سکا اور مسلسل ایسی پالیسی پر عمل پیرا رہا جس سے ملکی قرضے جی ڈی پی کے سوفیصد کے قریب جاپہنچے اور حکومتی اخراجات کے متعلق بھی حالات پریشان کُن ہوگئے۔ مزید یہ کہ عوام کے گرتے معیارِ زندگی کو سنبھالنے پر بھی کوئی توجہ نہ دی گئی اور غیر قانونی مہاجرت جیسا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا گیا جس سے سیاسی اور سماجی خلیج میں اضافہ ہوا اور آخر کارنہ صرف حکمران جماعت بلدیاتی انتخاب ہارگئی بلکہ ناکامی کے الزامات کے ساتھ کیئر اسٹارمر منصب سے الگ ہوئے ۔
برطانیہ کو عالمی سطح پر سیاسی ،اقتصادی اور معاشی استحکام کا علمبردار سمجھا جاتا رہا ہے لیکن گزرے دس برسوں میں یہ ملک مسلسل بحرانوںکے بھنور میںہے ،کیونکہ قیادت اپنے عالمی اور ملکی کردار کو فراموش کربیٹھی۔ امریکی حاشیہ بردار بن کر تشخص اور ساکھ متک کھو بیٹھی جس سے عالمی رسوخ میں کمی آئی۔ ملک کے اندر بھی شدید سیاسی بے چینی نے جنم لیااوردو جماعتی نظام قصہ پارینہ بننے کا عمل شروع ہوا جس سے برطانیہ سیاسی گڑھے میں گرتا چلا گیا ۔اِس طرزِعمل سے ملک کے ساتھ سیاسی قیادت کا بھی نقصان ہوا ہے ۔پہلے رشی سوناک اپنی پارٹی کے لیے بھاری پتھر ثابت ہوئے ۔رواں برس مئی میں ہونے والے مقامی کونسلوں کے انتخابات میں جب حکمران جماعت لیبر پارٹی اہم ترین شہروں میں ہار گئی اور تیسرے نمبر پر جاپہنچی تو تجزیہ کارکہنے لگے کہ اب کئیر اسٹارمر کا سیاسی مستقبل تاریک ہے توانھوں نے پالیسیاں درست کرنے کی بجائے جماعت پر گرفت مضبوط کرنے کوترجیح دی مگر کامیاب نہ ہوسکے جس سے پارٹی میں بغاوت شدت اختیارکرنے لگی اور استعفے کا مطالبہ زور پکڑتاگیا۔ اب خیال کیا جانے لگا ہے کہ لیبر پارٹی کے لیے کیئر اسٹارمر بھی ایک ایسا بھاری پتھر ثابت ہوئے جو خود ڈوب کر جماعت کو بیچ منجدھار بے یارومددگار چھوڑ گئے ۔
لیبر پارٹی اور کنزرویٹوپارٹی کی غلط پالیسیوں نے تیسری قوت کے لیے سیاسی میدان ہموار کیا جس کا ریفارم پارٹی نے بھر پور فائدہ اُٹھایا اور ایسے حالات میں جب عشروں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں فیصلوں میں تذبذب کا شکار رہیں تو ریفارم پارٹی نے دوٹوک اور واضح موقف اپنا کر عوامی توجہ حاصل کرلی ، مئی کے بلدیاتی انتخابات نے ثابت کردیا ہے کہ ریفارم پارٹی ملک میں مضبوطی سے قدم جما چکی ہے اور معجزاتی نتائج کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ لیبر پارٹی اور کنزرویٹو دونوں جب قیادت کے بحران میں ہیں ریفارم پارٹی کے عوام یقین نے عوام کویقین دلادیا ہے کہ وہ ملک کو موجودہ سیاسی اور معاشی بھنور سے نکالنے کی طاقت و صلاحیت رکھتی ہے۔ اِس لیے امکان ہے کہ شاید2029سے قبل ہی ریفارم پارٹی عشروں سے حکمرانی کرنے والی جماعتوں کو اقتدار کی راہداریوں سے باہر دھکیل دے مگرسیاسی استحکام کی محرومی ختم ہونے کے بارے میں پھر بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
٭٭٭٭


