عالمی قرض 3 لاکھ 65 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا
شیئر کریں
2026ء کی پہلی ششماہی میں عالمی قرض میں 10 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ،
بلند شرح سود، توانائی کی قیمتیں اور ایران تنازع اہم عوامل قرار
۔۔۔۔۔۔۔۔
2026ء کی پہلی ششماہی کے اختتام تک دنیا کا مجموعی قرض 3 لاکھ 65 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران عالمی قرض میں 10 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ 2025ء کی پہلی ششماہی میں عالمی قرض میں 21 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
عالمی قرض مانیٹر کے مطابق بڑھتی ہوئی شرح سود، قرض کی بلند فنانسنگ لاگت، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران تنازع عالمی قرض میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ قرض میں اضافہ گزشتہ 5 سال کی اوسط سے بھی زیادہ رہا۔
آئی آئی ایف کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے قرض میں 6 ہزار 500 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جن میں چین کے قرض میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا، فرانس، برطانیہ اور جاپان کو مسلسل مالی خسارے اور قرض پر بلند شرح سود کی ادائیگیوں کے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ بڑی ترقی یافتہ معیشتوں میں مصنوعی ذہانت، دفاع اور توانائی کے اخراجات بھی نمایاں رہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کے مطابق بڑی ترقی یافتہ معیشتوں کیلئے سود کی لاگت 18 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ مہنگائی کے باعث قرض اور مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب میں بظاہر استحکام دکھائی دیتا ہے تاہم حقیقی طور پر عالمی مالیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔


