میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مرگی کے مریض کی اصل دیکھ بھال دورے کے بعد شروع ہوتی ہے، ڈاکٹر فوزیہ

مرگی کے مریض کی اصل دیکھ بھال دورے کے بعد شروع ہوتی ہے، ڈاکٹر فوزیہ

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۴ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

دوروں پر قابو پانے کیلئے باقاعدگی سے دوا کا استعمال، مکمل نیند اور محرک عوامل سے بچنا ضروری ہے، مرگی قابلِ علاج مرض ہے، ماہرین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایپی لیپسی فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر اور سینئر کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ صرف دورے کے وقت مرگی کے مریض کو سنبھالنا کافی نہیں، اصل دیکھ بھال اس کے بعد شروع ہوتی ہے، مقصد مریض کو بار بار اسپتال جانے سے بچانا اور اسے معمول کی محفوظ زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔

پاکستان کی دوا ساز کمپنی گیٹز فارما کے زیر اہتمام ”مرگی کے دوروں کی دیکھ بھال کو وسعت دینا” کے موضوع پر اسلام آباد اور لاہور میں علمی سیمینارز منعقد ہوئے، جن میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے مرکزی مقرر کی حیثیت سے شرکت کی اور مرگی کے دوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے تفصیلی لیکچر دیا۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ مرگی کے علاج میں صرف دورے کے وقت ابتدائی طبی امداد کافی نہیں، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مریض کی طویل مدتی دیکھ بھال، حفاظتی منصوبہ بندی اور طرز زندگی میں ضروری تبدیلیوں کو علاج کا حصہ بنایا جائے۔ پاکستان میں مرگی سے متعلق غلط فہمیوں اور سماجی بدنما داغ کے خاتمے کیلئے آگاہی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کا باقاعدگی سے استعمال، مکمل نیند اور دوروں کا سبب بننے والے محرک عوامل سے بچاؤ، بیماری پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سیمینار میں اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر مظہر بادشاہ، کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ و اسٹروک اسپیشلسٹ، اور ڈاکٹر ایم عثمان ملک، کنسلٹنٹ نیورو سرجن نے بطور پینلسٹ شرکت کی۔ ماہرین نے کہا کہ مرگی قابل علاج مرض ہے اور جدید ادویات کے استعمال سے مریضوں کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

سیمینار میں نیورولوجسٹس، نیورو سرجنز، فزیشنز اور میڈیکل طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں