سندھ بلڈنگ ، بلند عمارتوں کی یلغار، غیر قانونی تعمیرات ، ڈی جی خاموش
شیئر کریں
انتظامیہ کی چشم پوشی سے خلافِ ضابطہ منصوبوں کو کھلی چھوٹ، مکینوں میں تشویش کی لہر
محمود آباد نمبر 3کی تنگ گلیوں میں پلاٹ نمبر 1E-281اور 282پر تعمیراتی لاقانونیت
کراچی کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی اور خلافِ ضابطہ تعمیرات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جبکہ متعلقہ ادارے اور ذمہ دار افسران بالخصوص ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو اس رجحان کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض عناصر مبینہ طور پر انتظامی اہلکاروں کی سرپرستی اور ملی بھگت سے تعمیراتی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، جس کے باعث شہریوں کے جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔جرأت سروے کے مطابق ضلع شرقی کے گنجان آباد علاقے محمود آباد نمبر 3 کی تنگ گلیوں میں واقع پلاٹ نمبر 1E-281اور 1E-282پر مبینہ طور پر کمزور بنیادوں کے باوجود بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے ۔ علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ گلیاں پہلے ہی انتہائی تنگ ہیں، جہاں ہنگامی صورتحال میں امدادی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی دشوار ہے ، مگر اس کے باوجود تعمیراتی ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے کثیر المنزلہ عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بارہا شکایات کے باوجود متعلقہ محکمے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بعض بااثر تعمیراتی مافیا کو سرکاری سطح پر رعایت حاصل ہے ۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر غیر معیاری تعمیرات کا سلسلہ نہ روکا گیا تو مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہو سکتا ہے ۔اہلِ علاقہ نے وزیر بلدیات اور انسدادِ غیر قانونی تعمیرات کے ذمہ دار اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ تعمیراتی منصوبوں کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔(نمائندہ جرأت)


