غزہ پر قبضیکا منصوبہ ، مسلمانوں کی بے دخلی کیلیے 2 ماہ کا وقت مقرر
شیئر کریں
باشندوں کے انخلاء کیلیے اقدمات کررہے ہیں،اسرائیلی فوج کے سربراہ
جنوبی سوڈان ودیگر ممالک میں فلسطینی مسلم کو دھکیلنے کی تیاری مکمل کرلی گئی
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے کہا ہے کہ غزہ شہرکو آئندہ دو ماہ کے اندر "خالی کرانے” کا منصوبہ تیار ہے، تاکہ ایک وسیع فوجی کارروائی سے قبل یہ عمل مکمل کیا جا سکے۔ اسرائیل کے چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ زامیر نے حالیہ دنوں میں بند کمرہ اجلاسوں میں کہاہے کہغزہ سٹی کے باشندوں کے متوقع انخلا کا عمل دو ماہ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جائے گا اور ہم شہریوں کو انسانی ہمدردی کے تحت مخصوص علاقوں کی طرف منتقل کرنے کی پیچیدگیوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں، اس مقصد کے لیے ہم مختلف اقدامات تیار کر رہے ہیں تاکہ وہ شہر چھوڑ دیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرحلے کے بعد غزہ شہر کو گھیر نے، داخل ہونے اور اس پر قبضہ کرنے کے مراحل انجام دیے جائیں گے ،ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ فوج کوشش کرے گی کہ ریزرو فوجیوں کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے، یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی حکومت کم از کم پانچ ممالک انڈونیشیا، صومالی لینڈ، یوگنڈا، جنوبی سوڈان اور لیبیا کے ساتھ غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کو وہاں منتقل کرنے کے بارے میں بات چیت کر رہی ہے، جیسا کہ چینل 12 نے پہلے رپورٹ کیا تھااور ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو جنوبی سوڈان منتقل کرنے پر بات کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی منصوبے جبری بے دخلی کے مترادف ہیں۔


