آئل کمپنیوں کا 66.7 ارب کی فوری ادائیگی کا مطالبہ
شیئر کریں
پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ، عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک کو خط لکھ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک کو خط لکھ کر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے 66 ارب 70 کروڑ روپے کے پرائس ڈفرینشل کلیمز فوری ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کے بعض علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
او سی اے سی کے مطابق ملک میں اس وقت صرف 370 ہزار ٹن پیٹرول کا ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 15 روز کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر کے باعث درآمد شدہ پیٹرول مارکیٹ تک نہیں پہنچ پا رہا جبکہ پیٹرول سے لدا بحری جہاز ایم ٹی بولان بندرگاہ پر لنگر انداز ہے لیکن کلیئرنس نہ ہونے سے سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ جون 2026 کے دوران پی ایس او کے پیٹرول کارگو کی بروقت منظوری نہ ملنے سے صورتحال مزید سنگین ہوئی۔ او سی اے سی کے مطابق کمپنیوں کے پاس نئی درآمدات کے لیے سرمایہ شدید کم ہو چکا ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر واجبات ادا کرے تاکہ سپلائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم اس کا مالی بوجھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔


