اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان
شیئر کریں
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان
اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج ضروری دباؤ پیدا کریگا جس سے عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی ختم کی جا سکے،علیمہ خانم
سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا شیڈول جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک خصوصی بیان میں اعلان کیا ہے کہ تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد منگل کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر ایک بڑا اور طاقتور عوامی اجتماع کرنے جا رہے ہیں، اس احتجاج کا مقصد عمران خان کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی فراہمی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے درخواست کی تھی کہ اگر اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے اس اجتماع کے لیے وقت کا ایک باقاعدہ فریم ورک طے کر لیا جائے، تو پارٹی جیل کے باہر 10 ہزار سے زائد کارکنوں اور عوام کو متحرک کر سکتی ہے، ہم نے پی ٹی آئی کی اس تجویز کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی درخواست کو تسلیم کرلیا ہے۔عمران خان کی ہمشیرہ نے بتایا کہ اب طے شدہ پروگرام کے تحت 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا، اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار سے زائد لوگوں کا یہ مضبوط اجتماع حکومت اور جیل انتظامیہ پر وہ ضروری دباؤ پیدا کرے گا جس سے عمران خان کی جیل میں جاری طویل تنہائی کو ختم کیا جا سکے۔علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ اس وقت عمران خان کی آنکھوں کی حالت تشویشناک ہے اور ان کا فوری معائنہ ضروری ہے، پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے معروف شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ان کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ اور مناسب علاج یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور ملکی عدالتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سابق وزیر اعظم اور ملک کے سب سے مقبول سیاسی قیدی کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیٔے، صحت کی سہولیات کی فراہمی اور خاندان تک رسائی کسی بھی قیدی کا بنیادی قانونی حق ہے، جس سے عمران خان کو محروم رکھا جا رہا ہے، اس لیے منگل کا یہ اجتماع اس ناانصافی کے خلاف لوہے کی دیوار ثابت ہوگا۔


