تبدیلی کا تصور
شیئر کریں
کیا سسٹم تباہ ہو چکا ؟
پرانا جواز، نیا اعتراف یا اپنی حکومت پر چارج شیٹ؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کانوں نے ایک جملہ باربار سنا ،‘‘سیاسی نظام ناکام ہو چکا ، سسٹم برباد ہو چکا ، ملک بحران کا شکار ہے، اب تبدیلی ناگزیر ہے’’۔اسی بیانیے کو بنیاد بنا کر ہر دور میں غیر معمولی اقدامات کا جواز پیش کیا گیا۔1958میں سیاسی انتشار اور نظام کی ناکامی کو جواز بنا کر قوم کو پہلے ،مارشل لاء کا تحفہ ملا ،1969میں سیاسی بحران کے نام پر ناکامی سیاست دانوں کے حصے میں آئی ،1977میں انتخابی تنازع جواز بنا اور منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ،1999میں سیاسی، معاشی اورا دارہ جاتی ناکامی کا طوق سیاسی حکمرانی کے گلے میں پڑا ،آج 2026میں وہی جملہ ہماری سماعت کے پردے چیر رہا ہے کہ سسٹم ناکام ہوچکا ۔
بظاہر یہ تاثر اُبھر رہا ہے کہ موجودہ نظام کی ممکنہ ناکامی کا بیانیہ تشکیل دے کرمقتدر حلقے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ، رائے ونڈ میں ہونے والے ‘‘خاندانی اجلاس ’’سے بھی یہی تاثر اُبھراکہ ناکامی کا بوجھ بھی نون لیگ اور پی پی کے کندھوں پر ڈالنے کی تیاری دکھائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جن کو ایک خاص مرحلے تک استعمال کیا گیا، اب انہیں ٹشو پیپر کی طرح ایک طرف رکھ دینے کا وقت قریب آ پہنچا ۔ جیسا کہ اس سے پہلے ہوتا رہا ۔کیا آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں ایک مرتبہ پھر سیاسی صف بندیاں بدلتی نظر آرہی ہیں ؟یا پرانی تنخواہ پر کام کرنے والے بدستور موجود رہیں گے ؟ پاکستان کی اٹھتر سالہ سیاست کا یہی المیہ رہا ہے کہ ہر چند سال بعد کل کے نام نہاد اینٹی اسٹیبلشمنٹ کردار، پرو اسٹیبلشمنٹ بن جاتے ہیں، اور آج کے پرو اسٹیبلشمنٹ کل خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے علمبردار کے طور پر پیش کرنے لگتے ہیں۔ووٹ کو عزت دو کا جعلی نعرہ لگتا ہے اور وہی چہرے آنے والے دنوں میں وہی چہرے دوبارہ ایک مسلط شدہ آمر کے حق میں نعرے لگاتے نظر آتے ہیں، جو چند برس پہلے اقتدار کے جھولے جھولتے ہیں اچانک خود کو سخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے نظر آتے ہیں۔ ”مجھے کیوں نکالا” کا بیانیہ رکھنے والوں کو پوری قوم دیکھتی ہے کہ ایک بار پھر اسی دروازے پر دستک دیتے دکھائی یتے ہیں جس کے خلاف ‘‘ووٹ کو عزت دو ’’ کا سیاسی بیانیہ قائم کرتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی سیاست اصولوں سے زیادہ طاقت کے مراکز کی قربت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کی اولین ترجیح عوامی تائید سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اقتدار کا راستہ بدلتے ہی ان کے نظریات، بیانیے، اتحاد اور دشمنیاں بھی بدل جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں موثر ووٹ بنک کا دعویٰ رکھنے والوں کے سیاسی نعرے مستقل نہیں ہوتے، بلکہ مفادات کے ساتھ اپنا رخ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
مہابھارت میں ایک کردار تھا، ماما شکونی۔ بندہ خود بادشاہ نہیں بن سکتا تھا، اس لیے بادشاہ بنانے اور بگاڑنے کا ٹھیکہ اٹھا لیا۔ پانسے ایسے پھینکتا تھا کہ ہارتا ہمیشہ دوسرا تھا اور جیتتا بھی دوسرا، مگر کھیل شکونی کا ہی چلتا تھا۔صدیاں گزر گئیں۔ کردار بدل گئے، لباس بدل گئے، پانسوں کی جگہ فائلیں، نوٹیفکیشن، پریس ریلیز، ٹاک شوز اور ”قومی مفاد” نے لے لی۔ مگر شکونی کی روح شاید ابھی تک برصغیر کی فضاؤں میں کہیں منڈلا رہی ہے۔ہم نے ایک عرصہ یہ سمجھا کہ جمہوریت اچھی چیز ہے، بس اسے ہینڈل کرنے کے لیے ایک ”نگران ذہن” چاہیے۔ عوام ووٹ ڈالیں، سیاست دان تقریریں کریں، حکومتیں بنیں، مگر آخری سیٹی کوئی اور بجائے۔ اسے خوبصورت نام دیا گیا: ہائبرڈ سسٹم۔
ہائبرڈ۔یعنی آدھی مچھلی، آدھا اونٹ۔ نہ پانی میں تیرنے کے قابل، نہ صحرا میں دوڑنے کے۔ سب کو لگا کہ واہ! کیا نسخہ ہے۔ سیاست دان بھی موجود، اختیار بھی کہیں اور۔ کامیابی کا کریڈٹ مشترکہ، ناکامی کا ملبہ صرف سیاست دانوں پر۔یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک ہی گاڑی کے دو ڈرائیور ہوں۔ ایک اسٹیئرنگ پکڑے، دوسرا بریک پر پاؤں رکھے، اور پھر حیران ہوں کہ گاڑی بار بار کھائی میں کیوں جا رہی ہے۔جب معیشت خراب ہو تو حکومت ذمہ دار۔ جب مہنگائی بڑھے تو حکومت نااہل۔ لیکن اگر کبھی کوئی منصوبہ کامیاب ہو جائے تو پھرمقتدر حلقوں کی دوراندیشی !
یعنی ناکامی یتیم، کامیابی کے کئی باپ۔
ہائبرڈ سسٹم کی سب سے بڑی خامی یہ نہیں کہ اس نے حکومتیں بنائیں یا گرائیں۔ سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اس نے کسی کو بھی مکمل ذمہ داری لینے کے قابل نہیں چھوڑا۔ سیاست دان ہر وقت کسی اشارے کے منتظر رہے، اور اشارہ دینے والے ہر وقت یہ کہتے رہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی باورچی ہر پانچ منٹ بعد دیگچی میں چمچ چلائے، نمک بھی ڈالے، مرچ بھی، مگر کھانا جل جائے تو کہے: ”اصل قصور تو باورچی کا ہے”۔
جمہوریت میں غلط فیصلے بھی عوام کے ہوتے ہیں اور ان کی قیمت بھی عوام ادا کرتے ہیں۔ مگر ہائبرڈ نظام میں فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور قیمت ہمیشہ عوام ادا کرتے ہیں۔آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔معیشت قرضوں کے سہارے سانس لے رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ نوجوان ملک چھوڑنے کو کامیابی سمجھنے لگا ہے ۔ اور عوام ہر نئے نعرے کو ایسے سنتے ہیں جیسے کسی پرانے ڈرامے کی ری ٹیلی کاسٹ ہو۔
پاکستان میں بھی اصل مسئلہ کسی ایک جماعت، ایک شخصیت یا ایک ادارے کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر آئین کے بجائے ”ضرورت”، قانون کے بجائے ”مصلحت” اور ووٹ کے بجائے ”انتظام” ریاست کا مستقل اصول بن جائیں تو پھر ہر نیا تجربہ پچھلے تجربے سے زیادہ مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ہائبرڈ سسٹم نے شاید کچھ وقتی سیاسی معرکے جیت لیے ہوں، مگر ریاستیں وقتی چالوں سے نہیں، مستقل اصولوں سے چلتی ہیں۔
مہابھارت میں شکونی آخرکار خود بھی اپنے بچھائے ہوئے کھیل کی بھینٹ چڑھ گیا تھا۔ تاریخ کا ایک مستقل مزاج مسئلہ یہی ہے کہ وہ وقتی فاتحوں کو زیادہ دیر فاتح نہیں رہنے دیتی۔
پانسے کتنے ہی ذہانت سے کیوں نہ پھینکے جائیں، ایک دن میز الٹ ہی جاتی ہے۔اگردو جماعتی نظام سے یہ سوال کیا جائے کہ وہ موجودہ نظام کے متبادل کے طور پر کون سا سیاسی، معاشی، عدالتی یا انتظامی سسٹم پیش کرتی ہیں، تو ان کے پاس عموماً کوئی واضح لائحہ عمل دکھائی نہیں دیتا۔ نہ ایک ہمہ گیر فکری وژن، نہ کارکنوں کی نظریاتی تربیت، نہ علمی لٹریچر، نہ ریاستی اصلاحات کا جامع منصوبہ۔ سیاست زیادہ تر شخصیت پرستی، قوم برادری ازم، فرقہ پرستی،انتخابی مہمات، وقتی اتحادوں اور اقتدار کے حصول تک محدود رہتی ہے۔نتیجتاً سادہ لوح عوام ہر چند سال بعد نئے نعروں، نئے اتحادوں اور نئے چہروں کی امید باندھ لیتے ہیں، لیکن کھیل وہی رہتا ہے۔ صرف کردار بدلتے ہیں، مکالمے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں اور وفاداریاں تبدیل ہو جاتی ہیں، جبکہ یہ ظالمانہ نظام اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
جب تک سیاست اصولوں، نظریات، مضبوط تنظیم، فکری تربیت اور واضح سسٹمیٹک تبدیلی کے پروگرام پر استوار نہیں ہوتی، تب تک یہی دائروں کا سفر جاری رہے گا۔ چہرے بدلیں گے، حکومتیں بدلیں گی، بیانیے بدلیں گے، مگر عوام کے بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے، کیونکہ اقتدار کے مراکز تک پہنچنے کے راستے تو بدلتے رہتے ہیں، لیکن اقتدار کی سیاست کا مزاج نہیں بدلتا۔
٭٭٭


