میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، گلستانِ جوہر میں غیر قانونی بلند عمارتوں کی تعمیر جاری

سندھ بلڈنگ، گلستانِ جوہر میں غیر قانونی بلند عمارتوں کی تعمیر جاری

جرات ڈیسک
منگل, ۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلاک 12کے پلاٹس SB-33 اور SB-36+37پر قوانین کی خلاف ورزیاں

فائر سیفٹی ، ایمرجنسی ایگزٹ نہ ہونے کا انکشاف ،سمیع جملانی کی عدم توجہ پر سوالات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلستانِ جوہر بلاک 12 ایک بار پھر مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا ہے ،

جہاں پلاٹ نمبر SB-33 اور SB-36+37 پر زیر تعمیر بلند و بالا عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم، ایمرجنسی ایگزٹ اور دیگر لازمی حفاظتی انتظامات کے بغیر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔

علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان تعمیرات کو موجودہ صورتحال میں مکمل ہونے دیا گیا تو مستقبل میں کسی بھی حادثے کی صورت میں بڑے جانی نقصان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔

مقامی ذرائع کے مطابق زیر تعمیر عمارتوں میں آگ بجھانے کے جدید نظام، ہنگامی انخلا کے راستوں اور دیگر لازمی حفاظتی تقاضوں کو مبینہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے ، حالانکہ بلند عمارتوں کی منظوری اور تعمیر کے لیے ان اقدامات پر عمل درآمد قانونی طور پر ناگزیر سمجھا جاتا ہے ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں اس نوعیت کی تعمیرات کی سخت نگرانی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے ، تاہم یہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے ۔

علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ ڈائریکٹر سمیع جملانی کی مبینہ عدم توجہی کے باعث غیر قانونی تعمیرات کو کھلی چھوٹ حاصل ہے ، جس کے نتیجے میں قوانین کی خلاف ورزیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرتے تو ایسی صورتحال کبھی پیدا نہ ہوتی۔

شہریوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر SB-33 اور SB-36+37پر جاری تعمیراتی کام کا فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے، فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ سمیت تمام قانونی تقاضوں کی جانچ کی جائے ، غیر قانونی تعمیرات ثابت ہونے کی صورت میں تعمیراتی کام فوری طور پر رکوایا جائے اور اس میں ملوث تعمیراتی مافیا، ذمہ دار افسران اور دیگر عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت نوٹس نہ لیا گیا تو کسی بھی ممکنہ سانحے کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں