میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل

بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۳ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

حمیداللہ بھٹی

رشی سوناک کی کنزرویٹو جماعت کو انتخابات میں شکست دیکر کیئر اسٹارمرجب وزیراعظم منتخب ہوئے تو یہ توقع ظاہر کی گئی کہ نہ صرف
ملک کو سیاسی استحکام نصیب ہوگا اور حکومت مدت پوری کرے گی بلکہ بنیادی مسائل بھی حل ہوں گے لیکن پیشے کے اعتبار سے قانون دان وزیرِ اعظم اہم عہدوں پر نامزدگیوں میں فاش غلطیوں اوریورپی یونین سے نوجوانوں کی نقل وحمل کے معاہدے سے عوام میں مشکوک ہوتے گئے ،اب توایسی قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ شاید ہی منصب کی معینہ مدت پوری کر سکیں۔ یہ قیاس آرائیاں صرف حزبِ مخالف ہی نہیں اُن کی اپنی جماعت میں بھی جاری ہیں۔ رواں ماہ مئی کے بلدیاتی انتخاب سے ملک کا سیاسی نقشہ تبدیل ہوتادکھائی دیتا ہے جن کے نتائج نے ثابت کردیاہے کہ عوام موجودہ معاشی صورتحال اور اورنظام کو سخت ناپسند کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عوامی اعتماد سے محرومی ہوئی۔
بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی سے اُس کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے بھی تارکینِ وطن مخالف اور اورانتہاپسندانہ نظریات
رکھنے والی جماعت ریفارم یوکے نے چھین لیے ہیں ویلز سے تو لیبر پارٹی کا سوسالہ اقتدارختم کردیا ہے یہ ایسا نقصان ہے جس کے اثرات
پارلیمانی سیاست کوبھی متاثر کر یں گے۔ فی الوقت کیئر اسٹارمر نے انتخابی نتائج کو مشکل کہہ کر ذمہ داری قبول کر لی ہے لیکن یہ کہنا کہ وہ کہیں نہیں جارہے اور مایوس لوگوں کو امید دلانے کی ضرورت ہے، مخالفین کو خطرناک کہہ کرعوام کو درست راستہ اختیار نہ کرنے کی صورت میں ملک کے تاریک راہ پر گامزن ہونے کا خدشہ ظاہر کرنااُن کی مایوسی کو ظاہرکرتا ہے۔ ملکی حالات اور عوامی رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت سے شہری مطمئن نہیں اور وہ جلد تبدیلی کے متمنی ہیں ۔
دیگر عالمی اقوام کی طرح برطانیہ کو بھی معاشی مسائل کاسامنا ہے مگر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال کر کئیر اسٹارمر اِس طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دے سکے ۔شاید عالمی سطح پر نام بنانے کے چکر میں پڑ گئے۔ اب جبکہ بلدیاتی انتخاب میں عوام نے عدمِ اعتماد کردیا ہے تو وہ اہم اِدارے کوقومی ملکیت میں لینے کے لیے ضروری قانون سازی کی یقین دہانی کرانے لگے ہیں ،لیکن اُن کے کام کی سُست رفتار کو عوام پسند نہیں کرتے۔ بریگزٹ سے برطانیہ کے کمزور ہونے کا دلائل سے محروم لہجے میںاعتراف کرتے ہیں ۔چھوٹی کشتیوں پر سوار ہوکر فرانس سے برطانیہ داخل ہوتے افراد جن کی تعداد رواں برس دولاکھ تک آپہنچی ہے، جیسامسئلہ حل کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں ۔ایک طرف قانونی طورپرملک میں غیر ملکیوں کے داخلے کو مشکل بنادیا ہے لیکن غیر قانونی طورپر داخل ہونے والوں سے مسلسل چشم پوشی عوام کو اچھی نہیں لگی۔ سماجی بہبود کے منصوبوں پر کٹوتیوں سے عام آدمی کی مشکلات بڑھائیں اورکاروباری افرادکی زندگی ٹیکسوں میں اضافے سے اجیرن کی۔
اسی بناپر لوگ سمجھتے ہیں کہ فریبی نے وزیراعظم بننے کے لیے عوام کو فریب دیا ۔روزگار بڑھانے کابھی کوئی وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ اِس کا غصہ بلدیاتی انتخاب میں ظاہر ہوا جس سے نہ صرف لیبر پارٹی کا زوال نوشتہ دیوار ہے بلکہ ملک میں کیئر اسٹارمر کے استعفے کی خبرسُننے کا انتظاربھی ہونے لگاہے۔
بلدیاتی انتخاب سے پارلیمانی حیثیت تو متاثر نہیں ہوتی لیکن اخلاقی اور اصولی طور پر دیکھا جائے تو یہ نتائج بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ کیونکہ عوامی رجحانات سے آگاہی ملی ہے۔ اب ریفارم یوکے پارٹی اور گرین پارٹی کو منظم اور مضبوط ہونے کا موقع ملے گا۔ اِس کے ساتھ یہ جماعتیں حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے عوام کو بھی منظم کر سکتی ہے۔ لہٰذا کیئر اسٹارمر لاکھ یقین دہانی کرائیں کہ وہ کہیں نہیں جارہے زمینی حقائق یہ ہیں کہ جلد ہی اُنھیں نہ چاہتے ہوئے بھی منصب کو خیر باد کہنا ہو گا۔ اب یہ اُن پر منحصرہے عزت سے رُخصت ہو تے ہیں یا پھر تذلیل کاانتظار کریں گے۔ ایک قانون دان تو یہی چاہے گا کہ عزت سے رخصت ہو اگر ایسا کوئی خیال کیئر اسٹارمر کے ذہن میں ہے تو جلد ہی انھیں فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ تاخیر سے عوامی نفرت میں اضافہ ہوگا ۔ریفارم یوکے پارٹی بلدیاتی انتخاب میں لیبر پارٹی کو پچھاڑ کرجس طرح ایک بڑی اور موثر سیاسی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہے ،اس کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ بلدیاتی انتخابی نتائج کی طرح پارلیمان کے انتخاب میں بھی غیر متوقع دھماکہ کر سکتی ہے۔
کئیر اسٹارمر کاحکومتی جماعت کی ناکامی پر کارکردگی اور پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لینے کا عندیہ بظاہر خوش آئند ہے لیکن اب کھوئی مقبولیت بحال ہونے کا امکان کم ہے۔ قوم پرست جماعتوں اور دائیں بازو کی جماعت یفارم یوکے کی کامیابی لیبر پارٹی کے لیے کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں۔ ملک کے اہم ترین شہر چھن چکے ہیں موجودہ صورتحال کو اپنے حق میں بہتر اور جماعت پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے سابق وزیرِ اعظم گورڈن برائون اور سینئر مزدور رہنما ہرئیٹ مان کو مشیر بنایاگیاہے لیکن قیاس ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تو مخالفت کریں گی ہی،لیبر پارٹی میں بھی بغاوت زور پکڑے گی کیونکہ رہنما نے جماعت کوجس عدم مقبولیت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیا ہے اُس پر صبروتحمل کا مظاہرہ شاید ہی کوئی کرے۔
بریگزٹ کی حامی نائجل فراج عورت ہیں جنھوں نے ہمیشہ مضبوط لہجے اور دلائل سے بات کی لیکن کیئر اسٹارمر مخمصے کا شکار لگتے ہیں۔ اسرائیل بارے بھی ایسا موقف اپنانے میں ناکام رہے جس سے تاثر ملے کہ عوام کا رشی سوناک کی چودہ سال سے برسراقتدار جماعت کو رُخصت کرناتبدیلی ہے کیئر اسٹارمرکے فیصلے کرتے وقت اعصاب شکستہ لگے، ہر امریکی اور اسرائیلی اقدام کی تائید بھی اُنھیں عوامی حلقوں میں غیر معتبر ٹھہرانے کاموجب بنی ۔اسی لیے کہاجانے لگا ہے کہ اگر لیبر پارٹی نے اقتدار برقرار رکھنا ہے تو اُسے کچھ نیا اور منفردکام کرنا ہوگا جس سے ملک اور عوام کی معاشی حالت بہتر ہو ،کاروباری افراد پربغیر سوچے سمجھے ٹیکسوں کا بوجھ کم ہو، غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کے سیلاب کی بندش ہو، سماجی بہبود کے منصوبوں پر کٹوتیوں میں کمی اور روزگار کے مواقع بڑھیں،وگرنہ نئی مشکل کا سبق یہی ہے کہ جی کا اب جاناٹھہر گیا ہے، جس کے بعد یورپی یونین کے ساتھ نوجوانوں کی نقل وحمل کا معاہدہ بے جان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ نئے حالات سے یورپی یونین کی برطانیہ میں دلچسپی کم ہو گی۔ برطانیہ میں طاقت کا توازن اِس حد تک تبدیل ہوگیاہے کہ یہ ملک پارلیمانی مرکز کی بجائے چھوٹی چھوٹی قوتوں میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے نتائج کسی صورت ملک کے لیے بہتر نہیں ہو سکتے ۔علاوہ ازیں تارکینِ وطن جن کابرطانیہ کی ترقی میں اہم کردار ہے اُنھیں ملک میں داخلے کے لیے نئی بندشوں اور رکاوٹوں کے سمندرعبورکرنا ہوںگے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں