میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تحقیقات، انکوائریاں اور وضاحتیں

تحقیقات، انکوائریاں اور وضاحتیں

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

میری بات/روہیل اکبر

ریاست کی سب سے بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان، مال، عزت اور آزادی کا تحفظ ہے اورپولیس کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون کی عملداری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

ایک عام آدمی جب ظلم، زیادتی یا ناانصافی کا شکار ہوتا ہے تو اس کی پہلی امید پولیس ہوتی ہے لیکن اگر وہی پولیس عوام کے لیے خوف کی علامت بن جائے تو پھر سوال صرف کسی ایک واقعے یا ایک افسر کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ انصاف پر اٹھنے لگتا ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے پنجاب پولیس، بالخصوص سی سی ڈی، مسلسل خبروں میں ہے۔ کہیں مبینہ جعلی مقابلوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے، کہیں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات لگتے ہیں، کہیں حراست میں تشدد کی شکایات سامنے آتی ہیں اور کہیں بے گناہ افراد کی ہلاکت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب پنجاب اسمبلی کے فلور پر بھی حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے پولیس کے مبینہ رویوں پر کھل کر تنقید کی اور جب عوامی نمائندے خود ایوان میں کھڑے ہو کر پولیس کے خلاف شکایات بیان کریں تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ محض سوشل میڈیا کی بحث نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

تازہ واقعہ ڈیرہ غازی خان کا ہے جہاں فریال تبسم نامی خاتون کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے ایک کھلی کچہری میں آر پی او کے سامنے ایک ایس ایچ او پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا بعد ازاں این سی سی آئی اے نے انہیں ایک مقدمے میں گرفتار کرکے ویمن جیل ملتان منتقل کر دیا۔

متعلقہ اداروں کا اپنا مؤقف ضرور ہوگا اور قانونی کارروائی اپنی جگہ اہم ہے لیکن عوام میں پیدا ہونے والا تاثر اس سے کہیں زیادہ اہم ہے اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شکایت کرنے والی خاتون خود مقدمات اور گرفتاریوں کی زد میں آ جائے تو کل کوئی اور مظلوم خاتون کس اعتماد کے ساتھ اپنی بات کرے گی؟

یہ صرف ڈیرہ غازی خان کا مسئلہ نہیں ساہیوال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔

ساہیوال کا سانحہ آج بھی پاکستانی تاریخ کے دردناک ابواب میں شمار ہوتا ہے ایک ایسا واقعہ جس نے نہ صرف پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالات اٹھائے گئے۔

ایک خاندان کے سامنے گولیاں برسیں، معصوم بچوں کی چیخیں پورے ملک نے سنیں اور بعد میں مختلف تحقیقات، بیانات اور عدالتی کارروائیوں نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا۔

آج بھی جب پولیس اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو ساہیوال کا سانحہ ایک مثال کے طور پر سامنے آ جاتا ہے کہ غلطی کی قیمت صرف چند جانیں نہیں ہوتیں بلکہ پورے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

اسی طرح سیالکوٹ میں بھی پولیس کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر بے گناہ افراد کے متاثر ہونے کے واقعات نے عوام کو پریشان کیا ۔ہر ایسے واقعے کے بعد سرکاری تحقیقات، انکوائریاں اور وضاحتیں سامنے آتی ہیں لیکن متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں اٹھنے والے سوالات برسوں زندہ رہتے ہیں۔

ایک ماں اپنے بیٹے کی واپسی چاہتی ہے، ایک بیوی اپنے شوہر کی بے گناہی کا ثبوت مانگتی ہے اور یتیم ہونے والے بچے صرف یہ پوچھتے ہیں کہ ان کا قصور کیا تھا؟

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پنجاب پولیس کے ہزاروں افسران اور اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردی، جرائم اور ڈاکوؤں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اورروزانہ ایسے پولیس اہلکار شہید ہوتے ہیں جنہوں نے عوام کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں قربان کیں ان قربانیوں کا احترام ہر پاکستانی پر لازم ہے۔

لیکن انہی قربانیوں کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں کہیں کسی اہلکار سے قانون شکنی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا زیادتی کا الزام سامنے آئے، وہاں شفاف اور غیر جانبدار احتساب بھی یقینی بنایا جائے چند افراد کی غلطیاں پوری فورس کی عزت کو داغدار کر دیتی ہیں۔

اگر ایک بے گناہ شہری مارا جاتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں مرتا بلکہ قانون پر عوام کا اعتماد بھی زخمی ہوتا ہے۔ اگر ایک مظلوم خاتون یہ محسوس کرے کہ شکایت کرنے کی سزا بھی اسے ہی ملے گی تو پھر انصاف کے دروازے اس کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔

اگر عوام کو یہ یقین نہ رہے کہ ان کی فریاد سنی جائے گی تو وہ یا تو خاموشی اختیار کرتے ہیں یا پھر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا سوچتے ہیں اور یہی کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں پولیس کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھی اسی بے چینی کی عکاس ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان شکایات کو محض سیاسی بیانات سمجھ کر نظر انداز نہ کرے بلکہ ہر الزام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے۔

اگر پولیس درست ہے تو اس کا نام صاف ہونا چاہیے اور اگر کہیں زیادتی ہوئی ہے تو متاثرہ شخص کو انصاف ملنا چاہیے۔آج ضرورت صرف پولیس کے دفاع یا مخالفت کی نہیں بلکہ پولیس اصلاحات کی ہے جدید تربیت، باڈی کیمرے، تھانوں میں سی سی ٹی وی کی مکمل نگرانی، آزاد شکایتی کمیشن، فرانزک شواہد پر مبنی تحقیقات اور اختیارات کے غلط استعمال پر فوری کارروائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

دنیا کے مہذب ممالک میں پولیس کی طاقت کا اصل راز اسلحہ نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔

پاکستان کا آئین ہر شہری کو عزت، آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے یہ ضمانت صرف کتابوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آنی چاہیے۔

اگر کمزور کو انصاف نہیں ملتا، اگر مظلوم بولنے سے ڈرتا ہے اور اگر شکایت کرنے والا خود خوفزدہ ہو جائے تو پھر ریاست اور معاشرے دونوں کو اپنی سمت پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور آج نوجوانوں کے ذہن میں سوچ کے ساتھ سوال بھی ہے کہ کیا آج پاکستان کی ایک عام خاتون، ایک مزدور، ایک کسان، ایک طالب علم یا ایک غریب شہری خود کو اتنا محفوظ سمجھتا ہے کہ وہ کسی بااثر شخص یا کسی سرکاری اہلکار کے خلاف بلا خوف شکایت درج کرا سکے؟

اگر اس سوال کا جواب ”ہاں” نہیں ہے تو پھر ہمیں صرف مقدمات نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کا احتساب کرنا ہوگا، کیونکہ ریاست کی اصل طاقت خوف پیدا کرنے میں نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنے میں ہوتی ہے اور انصاف صرف تحقیقات، انکوائریاں اور وضاحتیں کی غلام گردشوں میں گھومنے کی بجائے ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں