میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شکست کے ملبے سے انسان ہمیشہ اٹھتا ہے !

شکست کے ملبے سے انسان ہمیشہ اٹھتا ہے !

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۹ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی افسانوی کردار ایسا ہو جس نے فلسفے، نفسیات، ادب اور انسانی شعور کو اتنی گہرائی سے متاثر کیا ہو جتنا یونانی اساطیر کے کردار Sisyphus نے کیا۔ بظاہر اس کی کہانی نہایت سادہ ہے۔ اسے دیوتاؤں نے سزا دی کہ وہ ایک عظیم پتھر کو پہاڑ کی چوٹی تک دھکیل کر لے جائے، لیکن جیسے ہی وہ چوٹی کے قریب پہنچے، پتھر واپس نیچے لڑھک جائے، اور وہ پھر اسی کام کو ازسرِنو شروع کرے۔ یہی عمل ہمیشہ جاری رہے۔ نہ منزل، نہ کامیابی، نہ انعام، نہ اختتام۔ صرف مسلسل مشقت۔اگر اس کہانی کو صرف ایک سزا سمجھا جائے تو یہ محض ایک اساطیری روایت ہے، لیکن اگر اسے انسانی زندگی کا استعارہ سمجھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ اسی پتھر کو دھکیلنے کی تاریخ ہے۔ انسان غاروں سے نکل کر تہذیب بناتا ہے، تہذیبیں جنگوں میں تباہ ہو جاتی ہیں، وہ دوبارہ انہیں تعمیر کرتا ہے۔ سلطنتیں بنتی ہیں، ٹوٹتی ہیں، نئے نظام وجود میں آتے ہیں، پھر انہی غلطیوں کو دہراتے ہیں۔ ہر نسل اپنے خوابوں کا پہاڑ چڑھتی ہے، لیکن وقت کا ہاتھ اس کے پتھر کو دوبارہ نیچے گرا دیتا ہے۔ یہی تاریخ کا سب سے قدیم اور سب سے المناک چکر ہے۔

البرٹ کامیو نے اسی کہانی میں انسانی وجود کا سب سے بڑا فلسفہ تلاش کیا۔ ان کے نزدیک کائنات خاموش ہے، جبکہ انسان معنی کا متلاشی ہے۔ یہی تصادم "ابسرد” یا بے معنویت کو جنم دیتا ہے۔ انسان سوال کرتا ہے، لیکن کائنات جواب نہیں دیتی۔ وہ انصاف چاہتا ہے، مگر دنیا اکثر ظلم سے بھری ہوتی ہے۔ وہ دائمی خوشی چاہتا ہے، مگر ہر خوشی عارضی ثابت ہوتی ہے۔ وہ امر ہونا چاہتا ہے، مگر موت ہر زندگی کا لازمی انجام ہے۔ اسی تضاد میں انسانی المیہ پوشیدہ ہے۔کامیو کا سب سے انقلابی نکتہ یہ ہے کہ اس بے معنویت کے باوجود انسان کو ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں۔ اگر کائنات خاموش ہے تو بھی انسان کو اپنی آواز پیدا کرنی چاہیے۔ اگر منزل یقینی نہیں تو بھی سفر ترک نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کامیابی عارضی ہے تو بھی جدوجہد مستقل رہنی چاہیے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سیزی فس سزا یافتہ قیدی نہیں رہتا بلکہ آزادی کی علامت بن جاتا ہے۔ اس کی عظمت اس پتھر کے چوٹی تک پہنچنے میں نہیں بلکہ ہر بار دوبارہ اسے دھکیلنے کے فیصلے میں ہے۔نفسیات کے اعتبار سے بھی سیزی فس کی کہانی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ جدید انسان ہر روز اپنا پتھر دھکیلتا ہے۔ ایک مزدور صبح سے شام تک محنت کرتا ہے تاکہ اگلے دن پھر وہی محنت کر سکے۔ ایک کسان فصل اُگاتا ہے، کبھی سیلاب، کبھی قحط، کبھی منڈی اسے دوبارہ ابتدا پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ ایک استاد نسلیں تیار کرتا ہے مگر ہر نئی نسل کو پھر ابتدا سے سکھانا پڑتا ہے۔ ایک ڈاکٹر جانیں بچاتا ہے، لیکن بیماری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ایک صحافی سچ لکھتا ہے، مگر جھوٹ نئے لباس میں واپس آ جاتا ہے۔ ایک سیاست دان اگر مخلص ہو تو اسے ہر دور میں بدعنوانی کے اسی پہاڑ سے دوبارہ لڑنا پڑتا ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی شکل کا سیزی فس ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے نزدیک انسان کی ذہنی طاقت کا راز صرف کامیابی میں نہیں بلکہ معنی تلاش کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ جب انسان
اپنی تکلیف کو ایک مقصد سے جوڑ لیتا ہے تو وہ تکلیف برداشت کے قابل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے بڑے مصلح، سائنس دان،
شاعر، انقلابی اور مفکر بار بار ناکام ہونے کے باوجود اپنے سفر سے دستبردار نہیں ہوئے۔ ان کی کامیابی کا راز یہ نہیں تھا کہ ان کا پتھر کبھی نہیں
گرا، بلکہ یہ تھا کہ انہوں نے ہر بار اسے دوبارہ اٹھایا۔انسانی تاریخ بھی سیزی فس کی تاریخ ہے۔ مصر کے اہرام، چین کی عظیم دیوار، بغداد
کے علمی مراکز، اندلس کی تہذیب، یورپ کی نشاۃ ثانیہ، صنعتی انقلاب، جمہوریت کی تحریکیں، غلامی کے خاتمے کی جدوجہد، خواتین کے حقوق،
مزدور تحریکیں اور آزادی کی جنگیں یہ سب اسی پتھر کو بار بار دھکیلنے کی داستانیں ہیں۔ ہر کامیابی کے بعد ایک نئی آزمائش سامنے آتی رہی، لیکن
انسان نے ہار ماننے کے بجائے نئے سفر کا آغاز کیا۔یہی فلسفہ فرد کی ذاتی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہم بار بار ٹوٹتے ہیں، تعلقات بکھرتے
ہیں، خواب ادھورے رہ جاتے ہیں، معاشی بحران آتے ہیں، بیماری، تنہائی، ناانصافی اور محرومی ہمارا راستہ روکتی ہے، مگر اگلی صبح ہم پھر اٹھتے
ہیں۔ یہی اٹھ کھڑا ہونا انسان کی سب سے بڑی فتح ہے۔ اگر زندگی صرف کامیابی کا نام ہوتی تو انسان مشین سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔ انسان کی اصل شناخت اس کی مزاحمت ہے۔کامیو کے نزدیک خودکشی اس فلسفیانہ سوال کا غلط جواب ہے کہ جب زندگی بے معنی محسوس ہو تو کیا کیا جائے۔ ان کے مطابق صحیح جواب یہ ہے کہ انسان اس بے معنویت کو قبول کرے، مگر اس کے سامنے سر نہ جھکائے۔ وہ جئے، محبت کرے، تخلیق کرے، سوال کرے، ظلم کے خلاف کھڑا ہو اور ہر دن اپنے پتھر کو ایک نئے عزم کے ساتھ پہاڑ کی طرف دھکیل دے۔ یہی بغاوت ہے، یہی آزادی ہے، اور یہی انسان ہونے کا مفہوم ہے۔سیزی فس ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کامیابی ہمیشہ منزل میں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کامیابی صرف اس بات میں ہوتی ہے کہ انسان اپنی شکست کے باوجود اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ تاریخ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے بار بار گر کر بھی اپنے پتھر کو دوبارہ اٹھایا۔ ان کے ہاتھ زخمی ہوئے، کندھے تھک گئے، راستے ختم ہوتے دکھائی دیے، لیکن ان کی خواہشِ حیات ختم نہ ہوئی۔یہی انسانی تہذیب کا سب سے بڑا راز ہے کہ انسان کبھی مکمل کامیاب نہیں ہوا، مگر وہ کبھی مکمل شکست خوردہ بھی نہیں ہوا۔

البرٹ کامیو کا سب سے عظیم پیغام یہی ہے کہ زندگی کی قدر اس کی آسانی میں نہیں بلکہ اس جدوجہد میں ہے جسے انسان اپنی پوری آگہی کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ جب سیزی فس پہاڑ سے نیچے اترتا ہے تاکہ دوبارہ پتھر اٹھائے، اسی لمحے وہ دیوتاؤں سے زیادہ آزاد ہوتا ہے، کیونکہ اس سے اس کی محنت چھینی جا سکتی ہے، اس کی منزل نہیں؛ اس سے اس کی کامیابی چھینی جا سکتی ہے، مگر اس کا فیصلہ نہیں۔ اور شاید
یہی وہ لمحہ ہے جہاں پوری انسانی تاریخ، پوری انسانی نفسیات اور پورا انسانی فلسفہ ایک ہی منظر میں سمٹ آتا ہے: انسان بار بار گرتا ہے، بار
بار اٹھتا ہے، اور اسی مسلسل جدوجہد میں اپنی عظمت تخلیق کرتا ہے۔”دیوتاؤں نے سیزی فس کو ایک پتھر دیا تھا، پاکستان نے اپنے لوگوں کو ایک پورا نظام دے دیا۔”البرٹ کامیو اگر آج پاکستان میں پیدا ہوتا تو شاید The Myth of Sisyphus لکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ وہ صرف کسی بس اڈے، سرکاری اسپتال، عدالت، سرکاری اسکول، کھیت، فیکٹری یا بجلی کے بلوں کی قطار میں کھڑا ہو جاتا اور لکھ دیتا کہ یہی سیزی فس ہے، یہی وہ پہاڑ ہے، یہی وہ پتھر ہے جو ہر روز چوٹی تک پہنچنے سے پہلے واپس نیچے لڑھک جاتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ دراصل ریاست اور عوام کے درمیان ایک ایسے معاہدے کی تاریخ ہے جو کبھی پورا نہ ہو سکا۔ ہر نسل کو بتایا گیا کہ قربانی دو، کل بہتر ہوگا۔ ہر نسل نے اپنا آج قربان کیا، لیکن کل ہمیشہ اگلی نسل کے نام منتقل کر دیا گیا۔ دادا نے انتظار کیا، باپ نے انتظار کیا، بیٹے انتظار کر رہے ہیں، اور اب پوتوں کو بھی صبر کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ یہاں امید اکثر ایک سیاسی نعرہ بن جاتی ہے، حقیقت نہیں۔1947ء میں لوگوں نے صرف ایک ملک نہیں بنایا تھا، انہوں نے اپنے خواب اس کی بنیادوں میں رکھ دیے تھے۔ مگر جلد ہی معلوم ہوا کہ خوابوں سے زیادہ طاقتور ادارے ہوتے ہیں، اداروں سے زیادہ طاقتور مفادات ہوتے ہیں، اور مفادات سے زیادہ طاقتور وہ طبقے ہوتے ہیں جو ہر بحران میں محفوظ رہتے ہیں۔ ہر بحران کا بوجھ آخرکار اسی عام آدمی کے کندھے پر آتا ہے جو پہلے ہی اپنے حصے کا پتھر اٹھائے ہوئے ہے۔ پاکستان کا عام انسان صرف روٹی کے لیے نہیں لڑتا، وہ ہر روز عزت، انصاف، شناخت اور بقا کے لیے بھی لڑتا ہے۔ وہ ٹیکس دیتا ہے، مگر بنیادی سہولتوں کے لیے پھر بھی قطار میں کھڑا رہتا ہے۔ وہ قانون کا احترام کرتا ہے، مگر انصاف کے انتظار میں برسوں گزر جاتے ہیں۔ وہ ووٹ دیتا ہے، مگر اکثر محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں بنیادی تبدیلی پھر بھی نہیں آتی۔ اس کی محنت بڑھتی ہے، لیکن اس کی منزل اسی رفتار سے دور ہوتی جاتی ہے۔انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبیں صرف دشمنوں سے نہیں ٹوٹتیں، وہ اس وقت بھی ٹوٹتی ہیں جب ایک معاشرہ اپنے عام انسان کو اس یقین سے محروم کر دے کہ اس کی محنت کا کوئی منصفانہ نتیجہ نکل سکتا ہے۔ جب ایک قوم کی اکثریت کو لگنے لگے کہ وہ جتنی بھی محنت کرے، پتھر ہر حال میں واپس نیچے آنا ہے، تو بحران صرف معاشی نہیں رہتا، وہ نفسیاتی اور اخلاقی بھی بن جاتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کا سیزی فس یونانی سیزی فس سے زیادہ المناک دکھائی دیتا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں