میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آپ کے مسائل اور اُن کا حل

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۱ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مفتی محمد وقاص رفیع

…………………..

تھائل الکوحل کا حکم:
سوال: میں اٹلی میں رہتا ہوں۔ یہاں جو بریڈ ملتی ہے اس میں اتھائل (treated with ethyl alcohol) الکحل ہوتا ہے جو اس لئے چھڑکا جاتا ہے تاکہ بریڈ میں فنگس نہ لگے اور خراب نہ ہو۔ کیا ایسی بریڈ کھا نا جائز ہے؟ سائل: جمال یوسف (اٹلی)[
جواب: اگر اتھائل الکوحل انگور کشمش کھجور چھوہارہ سے بنایا گیا ہو یا ان کی اس میں آمیزش ہوپھر تو یہ حرام ہے اور جس بریڈ (بسکٹ وغیرہ) پر اسے چھڑکا گیا ہو اُس کا کھانا بھی حرام ہے۔ باقی آج کل عام طور پر جو الکوحل استعمال کیا جاتا ہے وہ ان میں سے نہیں ہوتا؛ بلکہ زیادہ تر دوسری چیزوں سے بنا ہوتا ہے جس میں بریڈ کے استعمال کی گنجائش ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

عیدگاہ کی زمین دوسرے کام میں استعمال کرنا کیسا ہے؟:
سوال: وقف شدہ عیدگاہ کی زمین استعمال کرنا یا اس میں گاڑی وغیرہ پارکنگ کرنایا محلے والے اس میں اپنے گھریلو کام کو انجام دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:عیدگاہ کی زمین کو عیدگاہ کے لیے ہی استعمال کرنا ضروری ہے ، اس میں کار پارکنگ یا محلے والوں کے کسی کام میں یا مسجد کے راستے کے طور پر استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

قسطوں پر خریداری میں سود کا مسئلہ:
سوال:ایک گاڑی اگر پچاس ہزار کی ہے اور قسطوں پر اس کی قیمت ساٹھ ہزار ہوتی ہے توایسی صورت میں گاڑی لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:نقد فروخت کرنے میں سامان کی قیمت کم ہو اور ادھار میں زیادہ ہوجائے ایسا جائز ہے بشرطیکہ کوئی ایک قیمت متعین ہوکر حتمی طور پر معاملہ اس پر ہوجائے مثلاً نقد لے رہے ہیں تو نقد قیمت پر، ادھار لے رہے ہیں تو ادھار قیمت پر، تذبذب اور تردد نہ رہے مثلاً اگر نقد ادا کر دیا تو اتنا،ادھار ادا کیا تو اتنا۔ پھر ادھار قیمت قسطوں میں ادا کرنے کی بات بھی طے ہوسکتی ہے، حرج نہیں۔ مگر اس میں بھی وقت بڑھنے کے اعتبار سے قیمت میں اضافہ کی بات نہ ہو، مطلب یہ کہ قسطوں میں ادا کی جانے والی رقم اور مدت دونوں متعین ہوجائے، مذکورہ صورت اس وقت جائز ہے جب آپ براہ راست کسی (شو روم) سے خرید رہے ہوں، اور اگر بینک کے ذریعہ خریدیں تو ضروری ہے کہ بینک گاڑی خریدکر اپنے اضافہ کے ساتھ (خواہ وہ سود کے نام سے ہو) آپ کے ہاتھ فروخت کرے؛ لیکن بینک ایسا نہیں کرتے ہیں، وہ تو لون (قرض) دیتے ہیں جسے قسطوں میں وصول کرتے ہیں، ایسی صورت میں اضافہ یقینا سود ہے اور اس طرح لون پر گاڑی لینا جائز نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

اولاد کا زندگی میں باپ سے مکان میں حصہ مانگنے کا حکم:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں۔ زید نے شادی کی ان سے ایک لڑکا ہوا چھ سال بعد بیوی کا انتقال ہو گیا۔ اب زید نے دوسری شادی کی ان سے چار لڑکے دو لڑکیاں ہوئیں۔ زید کا بیٹا جو پہلی بیوی سے تھا اس کی شادی ہو گئی وہ اپنی بیوی کو لے کے شہر میں رہنے لگا اور اپنی پراپرٹی بنا لیا۔ اور زید کے دوسرے بیٹے جو دوسری بیوی سے تھے اپنی دونوں بہنوں کی شادی کی اور اپنے باپ کے بیمار ہونے پر ان کا علاج بھی کروایا اور انکی دیکھ بھال بھی کر رہے ہیں۔ زید کے پہلی بیوی سے جو بیٹا تھا وہ شادی کے بعد سے نہ تو گھر میں خرچہ بھیجا نہ تو باپ کے علاج میں کچھ ساتھ دیا۔ اب باپ کے ہوتے ہوئے وہ گھر کا بٹوارہ چاہتا ہے۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ شریعت کے لحاظ سے اب بٹوارہ کیسے کیا جائے گا؟
جواب:آدمی زندگی میں اپنی تمام املاک، گھر، پلاٹ وغیرہ کا تن تنہا (بلاشرکت غیرے) مالک ہوتا ہے ، اس کی کسی ملکیت میں اُس کی بیوی یا اولاد کا مالکانہ کوئی حق وحصہ نہیں ہوتا، پس کسی شخص پر زندگی میں گھر، پلاٹ وغیرہ، اولاد کے درمیان تقسیم کرنا واجب نہیں، اور اگر کوئی اولاد زبردستی کرتی ہے یا باپ پر دباؤ بناتی ہے تو اس کا یہ فعل درست نہیں، اُسے چاہیے کہ باز آئے اور اللہ سے ڈرے، بلکہ دیگر اولاد کی طرح وہ بھی باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرے؛ البتہ باپ کی وفات پر حسب شرع وراثت میں جملہ شرعی وارثین کا حق و حصہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم

اللہ تعالیٰ کے نام کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کا حکم:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنے والد کی قسم کھائی کہ زید سے بات نہیں کروں گا، پھر کسی صورت میں بات چیت کرنی پڑگئی، تواس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب:شریعت میں صرف اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھانا جائز ہے، کسی اورکے نام کی قسم کھانا جائز نہیں۔ والد کے نام کی قسم صحیح اور معتبر نہیں ہے اور جب قسم صحیح نہ ہوئی تو اس کا کوئی کفارہ بھی واجب نہ ہوگا۔واللہ تعالیٰ اعلم

ٹیچر کے احترام میں کھڑے ہونے کا حکم:
سوال: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لاتے تو صحابہ نہیں اٹھتے تھے کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کو پسند نہیں تھا۔ میرا یہ سوال ہے کہ اگر ہمارے ٹیچرز کلاس کے اندر آتے ہیں تو کیاہم ان کے احترام میں اٹھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ امر ناپسند تھا کہ دیگر لوگ گھڑے ہوں اور آپ تنہا بیٹھے ہوں جیسا کہ عجمیوں کے یہاں عادت تھی؛ باقی اگر کوئی شخص لائق احترام ہے یا اپنے زعم میں وہ بڑا ہے، نہ کھڑا ہونے پر اسے برا لگے گا یا اس کے اندر عداوت پیدا ہوجائے گی تو کھڑا ہونے کی گنجائش ہے۔ اس تفصیل کی رو سے کلاس ٹیچر کی آمد پر طالب علم کے لیے، اسی طرح بڑے بھائی کی آمد پر چھوٹے بھائی کے لیے کھڑا ہونے کی گنجائش ہے، شرعاً منع نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں