میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میر رضا قتل کیس، وزیر داخلہ سندھ کی جوڈیشل کمیشن میں پیشی

میر رضا قتل کیس، وزیر داخلہ سندھ کی جوڈیشل کمیشن میں پیشی

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ضیا لنجار کی سندھ حکومت کی جانب سے غیرمشروط معذرت،

کمیشن کی کارروائی میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی

جسٹس عمر سیال کا ایڈووکیٹ جنرل آفس کے رویے پر اظہار برہمی

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، 14 ستمبر کو ایس ایچ او سمیت 4 افراد طلب

کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کو شہریوں کی جانب سے بھی معلومات موصول ہونا شروع،

کمیشن کو اب تک 5 ای میلز اور واٹس ایپ پیغامات موصول ہوچکے ہیں، رجسٹرار کمیشن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار پیش ہوگئے، جہاں انہوں نے کمیشن کی کارروائی میں مبینہ مداخلت پر سندھ حکومت اور اپنی جانب سے غیرمشروط معذرت کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت کمیشن کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور اس کے کام میں کسی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت نہیں کی جائے گی۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے وزیر داخلہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آپ خود بھی وکیل ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے کے حقائق سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ضیا لنجار اس معاملے پر متعدد مرتبہ بات کرچکے ہیں اور انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے بھی کمیشن کے قیام کے حوالے سے درخواست کی تھی۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ مقتول کے اہلخانہ کو بعض تحفظات ہیں اور کمیشن کا مقصد ہی ان تحفظات کو دور کرنا ہے۔ اگر اہلخانہ الگ الگ سوال کرنا چاہیں تو ان کے وکلا ان کی بات سن کر کمیشن کے سامنے سوالات کرسکتے ہیں۔

اس موقع پر جسٹس عمر سیال نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے دفتر کے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی کارروائی میں مداخلت کی گئی اور ان کے عملے سے کہا گیا کہ کمیشن میں غلط کام ہورہا ہے، جس پر انہیں غصہ آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کے سامنے سندھ حکومت اور اپنی جانب سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی طرف سے اور حکومت کی طرف سے معذرت خواہ ہوں، میر رضا سندھ کا بچہ ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ مقتول کے اہلخانہ کو انصاف ملے۔

انہوں نے کہا کہ جب عوام کو پولیس اور تفتیش کرنے والے اداروں پر اعتماد نہ رہے تو عدالت ہی وہ فورم رہ جاتی ہے جہاں سے انصاف کی امید کی جاتی ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ مظلوم کو انصاف فراہم کیا جائے اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔

ضیا لنجار نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس عمر سیال پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں کمیشن کی سربراہی سونپی، ہمیں بھی ان پر مکمل اعتماد ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ میر رضا کیس کے اصل حقائق سامنے آئیں۔ کمیشن کے ضابطہ کار طے کیے جاچکے ہیں اور کمیشن کے سربراہ اس معاملے کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ فریال تالپور اور ہمارا بھی یہی موقف تھا کہ میر رضا کے معاملے کو کس طرح دیکھا جائے، جس کے بعد قائمہ کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں مقتول کے والدین کو اعتماد کے حوالے سے تحفظات تھے، تاہم حکومت چاہتی ہے کہ ان کے تمام خدشات دور ہوں۔

ضیا لنجار نے کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ اسے تحقیقات کے لیے جو کچھ درکار ہوگا، حکومت وہ فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کمیشن اپنا کام کسی بھی رکاوٹ کے بغیر کرے، جو مداخلت ہوئی اس پر معذرت کرتا ہوں۔جسٹس عمر سیال نے وزیر داخلہ کی معذرت قبول کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک اچھے وکیل ہیں اور امید ہے کہ جواد ڈرو ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ اس کے بعد رجسٹرار کو ہدایت کی گئی کہ وزیر داخلہ کو احترام کے ساتھ رخصت کیا جائے، جس کے بعد کمیشن کی کارروائی مختصر وقفے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

جسٹس عمر سیال نے فریال تالپور کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ماں ہیں اور مقتول کے اہلخانہ کے درد کو محسوس کرتی ہیں، کمیشن ان کے کردار کو سراہتا ہے۔ وقفے کے بعد جوڈیشل کمیشن نے دوبارہ کارروائی شروع کی تو ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔

کمیشن نے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر اسامہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ڈاکٹر اسامہ کو صحافی کا موبائل فون لینے کے معاملے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا ان کی جانب سے جواب ان کے والد نے کمیشن میں جمع کرایا۔کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال، ہیڈ محرر ذیشان، ڈاکٹر سمعیہ اور پروفیسر نسیم کو بھی 14 ستمبر کو طلب کرلیا جبکہ ڈاکٹر اسامہ کو ذاتی حیثیت میں 15 ستمبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد کی جانب سے کمیشن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں جبکہ احمد کے وکیل نے بھی اس حوالے سے بعض انکشافات کیے ہیں۔جبران ناصر نے موقف اختیار کیا کہ احمد کو دوبارہ کمیشن کے سامنے بلایا جائے تاکہ اگر وہ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں تو ان کا مؤقف بھی سنا جاسکے۔ کمیشن نے انہیں اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست جمع کرانے کی ہدایت کی، جس پر جبران ناصر نے درخواست جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کو شہریوں کی جانب سے بھی معلومات فراہم کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔کمیشن کے رجسٹرار عبدالمجید کے مطابق اب تک 5 ای میلز اور واٹس ایپ پیغامات موصول ہوچکے ہیں۔ ایک شہری نے میر رضا کے بائننس اکاؤنٹس سے متعلق معاونت کی پیشکش کی، جبکہ ایک شہری نے ڈیجیٹل معلومات فراہم کیں۔

ایک اور شہری نے کیس میں ایک مشکوک شخص کی نشاندہی کرتے ہوئے اس سے بھی تحقیقات کرنے کی تجویز دی۔ ایک شہری کی جانب سے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ سے متعلق بھی اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ رجسٹرار کے مطابق شہریوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ساتھ شیئر کی جائیں گی جبکہ کمیشن سے رابطہ کرنے والے شہریوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے مختلف افراد کو طلب کیے جانے اور شہریوں سے موصول ہونے والی معلومات کو تحقیقات کا حصہ بنانے کے عمل سے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات مزید آگے بڑھنے کی توقع ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں