میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حافظ نعیم الرحمن کا آج  اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان

حافظ نعیم الرحمن کا آج  اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۱ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہنگامی مشاورت کے لیے جماعت اسلامی کی ملک بھر سے قیادت منصورہ طلب کرلی

ن لیگ ، پی پی خطرہ محسوس کرتے ہی صوبائی تعصب پھیلانا شروع کردیتی ہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا لاہور دھرنا سے خطاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے آج (جمعہ) گوجرانوالہ جلسہ میں اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں اہم اور ہنگامی مشاورت کے لیے جماعت اسلامی کی پورے ملک سے قیادت کو منصورہ میں طلب بھی کرلیا ہے۔ لاہور میں وزیراعلی ہاوس کے باہر جاری دھرنا کے چھبیسویں روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی اور حکومتی وفود کے درمیان مذاکرات اور حکومت کی مزید مہلت کی درخواست کا تذکرہ کیا اور حکمرانوں پر واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی پر عوام نے انہیں پہلے ہی چھبیس روز کی مہلت دی ہے، حکومت جان لے کہ عوام اسلام آباد کی جانب نکل پڑے تو حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے، لہذا حکمران ہوش کے ناخن لیں ، عوام سے بھتہ وصول کرنے کی بجائے اپنی عیاشیاں بند کریں۔نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری، ڈپٹی سیکرٹریز اظہر اقبال حسن ، رسل خان بابر، سیکرٹری لاہور اظہر بلال ، نائب امیر لاہور ذکراللہ مجاہد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی سیکرٹری شیخ عثمان فاروق اور امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری نے دھرنا سے خطاب بھی کیا۔پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے لاہور، کراچی اور پشاور کے ساتھ حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی ، سرگودھا، تیمر گرہ، دیربالا ، بنوں سمیت ملک کے پنتیس مقامات پر بھی جاری ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے شرکا کی استقامت کو سراہا اور انہیں احتجاج میں عوام کی شرکت مزید بڑھانے کا چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکن دھرنوں کو قوم کی امنگوں کا ترجمان بنادیں، انہوں نے کہا کہ یہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کی ثابت قدمی اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ذرائع ابلاغ پر پٹرولیم لیوی کی بحث مرکزی اہمیت اختیار کرچکی ہے، جماعت اسلامی نے سیاست کا رخ بدل دیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ سیاست عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا نام ہے۔ تاہم انہوں نے شکایت کی کہ جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مسلسل عوامی مسائل کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ حکومت ہماری پرامن جدوجہد کو کمزوری کا نہ سمجھے ، جماعت اسلامی کے کارکنان اور نوجوان پوری طرح تیار ہیں اور صرف قیادت کی ہدایات کے منتظر ہیں، یہ نوجوان بہت کچھ کرسکتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فارم سنتالیس کے حکمران ملک کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، مریم نواز نے پنجاب میں تعلیم ، صحت ، زراعت کو تباہ کریا، گیارہ ہزار سکول فروخت کردیے گئے، صوبہ میں سرکاری سکولوں کے نویں جماعت کے نتائج میں باون فیصد طالب علم فیل ہوگئے، قوم کے اثاثے بیچ کر مریم نواز اپنے والد کے نام پر چند سکول بنا رہی ہیں ، اس سے قبل چچا نے بھی دانش سکولوں کا ڈرامہ رچایا، صوبہ کی زراعت کی شرح نمو چھ فیصد سے کم ہوکر اعشاریہ پانچ فیصد پر آگئی ، کپاس تباہ ہوگئی، ٹریکٹر او کسان کارڈ جیسے نمائشی اقدامات جاری ہے جب کہ کھادیں اور بیج چھوٹے کسان کی پہنچ سے دور ہیں، مسلط شریف خاندان پنجاب کو اپنی راجدھانی سمجھتا ہے ، کوئی اس راجدھانی کو چھوٹا کرنے کی بات کردے تو یہ بھارت سے دوستی کی پینگیں ڈالنا شروع کردیتے ہیں ، مریم اس ضمن میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہی ہیں، ن لیگ کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو پنجابی کارڈ کھیلنا شروع کردیتی ہے ، سندھ میں یہی کام پیپلز پارٹی کرتی ہے اور لسانی تعصبات کو ہوا دینا شروع کردیتی ہے، یہ پورا نظام ہی فرسودہ ہے ، جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کی بات کرتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں