محسن نقوی نیویارک میں ایس ایچ او ڈھونڈنے گیا ہے، سردار اختر مینگل
شیئر کریں
شاید ہماری مرمت کیلئے ہمارے اپنے ایس ایچ او اتنے قابل نہیں رہے انہیں باہر سے مدد لانا پڑ رہی ہے
ان لوگوں سے اپنا گھر تو سنبھالا نہیں جاتا بین الاقوامی معاملات حل کرنے نکل پڑے ہیں،پریس کانفرنس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شاید نیویارک میں کوئی ایس ایچ او ڈھونڈنے گیا ہے جو ہماری مرمت کرسکے، شاید ہمارے اپنے ایس ایچ او اتنے قابل نہیں رہے کہ انہیں باہر سے مدد لانا پڑ رہی ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوتے سردار اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ اتنے بڑے واقعات ہونے کے باوجود دھرنے پر بیٹھے لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ان لوگوں سے اپنا گھر تو سنبھالا نہیں جاتا، لیکن بین الاقوامی معاملات حل کرنے نکل پڑے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ان قوموں کی بھی بدقسمتی ہے جنہوں نے ایسے لوگوں کو اپنا منصف منتخب کیا ہے۔ان سے کوئی پوچھے کہ پہلے اپنا گھر سنبھالیں، پھر دنیا کے معاملات حل کرنے کی بات کریں۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ ہم اسلام آباد یا لاہور میں آتے ہیں۔ اور یہی باتیں جب ہم کرتے ہیں تو ان کو بہت تکلیف پہنچتی ہے۔چبھتی ہیں ہماری یہ باتیں۔ تو آپ اندازہ کریں جب ہماری باتیں ان کو چبھتی ہیں، ان کی گولیوں کا کیا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا؟ ہمارے بچوں کے سینوں پہ، ان کی کھوپڑیوں پہ جو گولیاں ماری جاتی ہیں، ان کا درد کیا ہمیں محسوس نہیں ہو رہا؟ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا بلوچستان میں کہ کسی ایک علاقے میں جو ہے جھگڑے نہیں ہو رہے۔ کوئی ایسا وقت نہیں گزرتا کہ لوگوں کو جو ہے اٹھایا نہیں جاتا۔پولیٹیکل لوگوں کو جو ہے پابند سلاسل نہیں کیا جاتا۔ اگر ریاست واقعتاً بلوچستان کے مسئلے کو، کشمیر کے مسئلے کو، اور ملک کے مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو وہ دلچسپی کا مظاہرہ کرے۔ نہ تو اس کو اگر اس طرح چلانا چاہتے ہیں تو چلائیں۔ کب تک چلائیں گے؟ پھر یہ چلے گا نہیں۔ تو گھسیٹ رہے ہیں اور گھسیٹتے گھسیٹتے جو ہے نا، ایک وقت آ جاتا ہے ہم تو انسان ہیں، لوہا بھی گھس جاتا ہے، ہماری ہڈیاں جو ہیں لوہے کی بنی ہوئی نہیں ہیں۔ان کاکہنا تھاکہ عمران خان، مہرنگ بلوچ، علی وزیر، ایمان مزاری، کئی کو 17 سال سزا، سب سے بڑا جرم جو ہے وہ آئین توڑنا ہے۔ ملک توڑنا ہے۔ مجھے کسی ایک شخص کا نام لکھ کر بتائیں، چاہے وہ باوردری ہو، بے وردی ہو، جس نے آئین کی خلاف ورزی کی ہو، اسے ایک دن کی، میں 25 سال کی بات نہیں کر رہا، ایک دن کی اس کو سزا ملی ہے؟ جن لوگوں نے ملک توڑا، ان میں سے کسی ایک کو سزا ہوئی ہے؟ عمران خان نے ملک توڑا؟ مہرنگ نے ملک توڑا؟ آئین توڑا؟ ایمان مزاری نے؟ انہوں نے تو آپ کی بنائی ہوئی آئین، بنائے ہوئے آئین اور اس کے تحت چلنے والے قانون اور اس قانون کے ماتحت ان عدالتوں میں اپنی فریادیں لائے ہیں۔


