میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حوض کوثر

حوض کوثر

منتظم
جمعرات, ۸ دسمبر ۲۰۱۶

شیئر کریں

ڈاکٹر محمد نجےب قاسمی
سورة الکوثر کا ترجمہ : (اے پےغمبر) ےقےن جانو ہم نے تمہےں کوثر عطا کردی ہے۔ لہٰذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ ےقےن جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے(مقطوع النسل، ےعنی تمہارے دشمن کا نام لےنے والا کوئی نہےں ہوگا۔ )
شان نزول: جس وقت حضور اکرم کے صاحبزادے (حضرت قاسم ) کا بچپن مےں انتقال ہوا تو کفار مکہ خاص طور پر عاص بن وائل آپ کو ”ابتر“ کہہ کر طعنہ دےنے لگا۔ ابتر کا مطلب جس کی نسل آگے نہ چلے (مقطوع النسل) ےعنی جس کا کوئی لڑکا نہ ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبےب کے اطمےنان کے لیے ےہ سورت نازل فرمائی کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اےک اےسی عظےم نعمت سے نوازا ہے جو کسی نبی ےا رسول کو بھی نہےں عطا کی گئی، ےعنی حوض ِکوثر۔آپ کا نام لےنے والے اور آپ کے دےن پر عمل کرنے والے بے شمار لوگ ہوں گے۔ ”ابتر“ تو تمہارادشمن ہے جس کا نام لےنے والا بھی کوئی نہےں ہوگا۔ چنانچہ اےسا ہی ہوا کہ آپ کی قےمتی زندگی کا اےک اےک لمحہ کتابوں مےں محفوظ ہے۔ آپ کی اےک اےک سنت آج تک زندہ ہے۔ آپ کا نام لےنے والے اور آپ کی سنتوں پر مرمٹنے والے بے شمار لوگ دنےا مےں موجود ہےںاور ان شاءاللہ رہےں گے۔ طعنہ دےنے والے کو کوئی جانتا بھی نہےں اور اگر کوئی تذکرہ بھی کرتا ہے تو برائی کے ساتھ۔
آپ کا ذکر مبارک: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر مبارک کو کےسا عالی وبلند مقام عطا فرماےا کہ 14سو سال گزرنے کے بعد بھی دنےا کے چپہ چپہ پر ہر ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے ساتھ نبی اکرم کا نام ِمبارک مسجدوں کے مناروں سے پکاراجاتا ہے۔ اللہ کی وحدانےت کی شہادت کے ساتھ نبی اکرم کے رسول ہونے کی شہادت دی جاتی ہے۔ کوئی شخص اس وقت تک مو¿من نہےں ہوسکتا ہے جب تک وہ اللہ کی وحدانےت کے اقرار کے ساتھ حضرت محمد مصطفی کو اپنا نبی اور رسول تسلےم نہ کرلے۔ کوئی اےک سےکنڈ بھی اےسا نہےں گزرتا جس مےں نبی اکرم پر درودو سلام نہ بھےجا جاتا ہو۔ قےامت تک آنے والے جن واِنس کے نبی کا ےہ بلند مقام صرف دنےا مےں نہےں بلکہ آخرت مےں بھی حاصل ہوگا، چنانچہ آخرت مےں آپ کو شفاعت ِکبریٰ کا مقام ِمحمود حاصل ہوگا۔ جس کے ذرےعہ کل قےامت کے دن آپ لوگوں کی شفاعت فرمائےں گے۔ سورة الاسراءآےت ۹۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم کی شفاعت کے حصول کے لیے ہمےں نماز تہجد کا اہتمام کرنا چاہئے۔
آپ کی نسل: نبی اکرم کی ساری اولاد آپ کی پہلی بےوی حضرت خدےجہ رضی اللہ عنہا سے مکہ مکرمہ مےں پےدا ہوئی، سوائے آپ کے بےٹے حضرت ابراہےم رضی اللہ عنہ کے، وہ حضرت مارےہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے مدےنہ منورہ مےں پےدا ہوئے۔ حضرت خدےجہ ؓ کی عمر نکاح کے وقت ۰۴ سال تھی، ےعنی حضرت خدےجہ ؓ آپ سے عمر مےں ۵۱ سال بڑی تھےں۔ نےز وہ نبی اکرم کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے دو شادےاں کرچکی تھےں، اور ان کے پہلے شوہروں سے بچے بھی تھے۔ جب نبی اکرم کی عمر ۰۵ سال کی ہوئی تو حضرت خدےجہ ؓ کا انتقال ہوگےا۔ اس طرح نبی اکرم نے اپنی پوری جوانی (۵۲ سے ۰۵ سال کی عمر) صرف اےک بےوہ عورت حضرت خدےجہ ؓ کے ساتھ گزاردی۔
نبی اکرم کے تےن بےٹے : ۱۔ حضرت قاسم ؓ ۲۔ حضرت عبداللہ ؓ ۳۔ حضرت ابراہےم ؓ نبی اکرم کی چار بےٹےاں: ۱۔ حضرت زےنب ؓ ۲۔ حضرت رقےہ ؓ ۳۔ حضرت ام کلثوم ؓ ۴۔ حضرت فاطمہؓ۔آپ کی نسل آپ کی صاحبزادےوں سے چلی۔ اور ان شاءاللہ کل قےامت تک آپ کی نسل باقی رہے گی۔ آپ کو ماننے والے، جو آپ کی اولاد کے درجہ مےں ہےں، وہ تو اس کثرت سے ہوں گے کہ پچھلی تمام انبےاءکرام کی امتوں سے بھی بڑھ جائےںگے۔ اور ان کا اعزاز واکرام بھی دےگر امتوں کے مقابلہ مےں زےادہ ہوگا۔
کوثر کے لفظی معنی ”بہت زےاد بھلائی“ کے ہےں۔ اور کوثر جنت کی اس حوض کا نام بھی ہے جوحضور اقدس کے تصرف مےں دی جائے گی۔ اور آپ کی امت کے لوگ اس سے سےراب ہوں گے۔
صحابی¿ رسول فرماتے ہیں اےک روز جبکہ حضور اکرم مسجد مےں ہمارے درمےان تھے، اچانک آپ پر اےک قسم کی نےند ےا بےہوشی کی سی کےفےت طاری ہوئی، پھر ہنستے ہوئے آپ نے سر مبارک اٹھاےا۔ ہم نے پوچھا ےا رسول اللہ! آپ کے ہنسنے کی وجہ کےا ہے؟ تو آپ نے فرماےاکہ مجھ پر اسی وقت اےک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ نے بسم اللہ کے ساتھ سورة الکوثر پڑھی۔ پھر فرماےا: تم جانتے ہو کوثر کےا چےز ہے؟ ہم نے عرض کےا: اللہ اور اس کے رسول زےادہ جانتے ہےں۔ آپ نے فرماےا کہ ےہ جنت کی اےک نہر ہے، جس کا مےرے رب نے مجھ سے وعدہ فرماےا ہے، جس مےں بہت خےر ہے اور وہ حوض ہے جس پر مےری امت قےامت کے روز پانی پےنے کے لیے آئے گی، اس کے پانی پےنے کے برتن ستاروں کی تعداد کی طرح بہت زےادہ ہوں گے۔ اس وقت بعض لوگوں کو فرشتے حوض سے ہٹادےں گے تو مےں کہوں گا کہ مےرے پروردگار! ےہ تو مےرے امتی ہےں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آپ نہےں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کےا نےا دےن اختےار کےا ہے۔ (بخاری ومسلم)
حوض کوثر کےا ہے؟ احادےث مےں مذکور ہے کہ نہر کوثر اصل مےں جنت مےں ہے، جس کی دو نالےوں سے حوض کوثر مےں پانی آتا رہے گا۔ حوض کوثر قےامت کے مےدان مےں ہوگا۔ حوض کوثر پر نبی اکرم کی امت جنت مےں داخل ہونے سے قبل پانی پئے گی۔ جو اس کا پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پےاس نہ لگے گی۔ نبی اکرم اس حوض کے وسط مےں تشرےف فرما ہوں گے۔ اس کی لمبائی اےلہ (اردن اور فلسطےن کے درمےان اےک علاقہ)سے صنعاء(ےمن) تک ہوگی، اور اس کی چوڑائی اتنی ہوگی جنتا اےلہ سے جحفہ (جدہ اور رابغ کے درمےان اےک مقام)تک فاصلہ ہے۔ حوض کوثر کا پانی دودھ سے زےادہ سفےد، برف سے زےادہ ٹھنڈا، شہد سے زےادہ مےٹھا ہوگا۔ اس کی تہ کی مٹی مشک سے زےادہ خوشبودار ہوگی۔
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَان±حَر±: تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ سورة کی پہلی آےت مےں بتاےا گےا کہ آپ کو اےک عظےم نعمت ےعنی حوض کوثر سے نوازا گےا ہے۔ اور اس کے شکرےہ کے لیے آپ کو دو چےزوں کا حکم دےا گےا۔ اےک، نماز کی ادائےگی اور دوسرے قربانی کرنا۔ قرآن وحدےث کی روشنی مےں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ اےمان کے بعد سب سے اہم عبادت نماز کی ادائےگی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام (قرآن مجےد) مےں سب سے زےادہ نماز کا ہی ذکر فرماےا ہے۔ محسن انسانےت کے فرمان کے مطابق: کل قےامت کے دن سب سے پہلے نماز ہی کا حساب لےا جائے گا۔ نبی اکرم کی آخری وصےت بھی نماز کی پابندی کے متعلق ہے۔ نبی اکرم کی ۳۲ سالہ نبوت والی قےمتی زندگی کا وافر حصہ نماز کی ادائےگی مےں ہی لگا۔ لہٰذا ہمےں پانچوں نمازوں کی پابندی کے ساتھ سنن ونوافل کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
قربانی بھی اےک عظےم عبادت ہے، چنانچہ حضوراکرم نے حجة الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پےش فرمائی تھی جس مےں سے ۳۶ اونٹ کی قربانی آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کی تھی اور بقےہ ۷۳ اونٹ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نحر (ےعنی ذبح) فرمائے۔ (صحےح مسلم ۔حجة النبی ) اسی طرح حضور اکرم نے ارشاد فرماےا کہ ذی الحجہ کی ۰۱ تارےخ کو کوئی نےک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدےک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندےدہ نہےں۔ قرآن کرےم میں ایک دوسری جگہ بھی کچھ اس طرح نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر کےا گےا ہے: (اِنَّ الصَلَاتِی± وَنُسُکِی± وَمَح±ےَایَ وَمَمَاتِی± لِلّٰہِ رَبِّ ال±عَالَمِے±ن)۔
اِنَّ شَانِِئَکَ ہُوَ ال±اَب±تَر±:تہارا دشمن ہی مقطوع النسل ہوگا ےعنی اس کا کوئی نام لےنے والا نہےں ہوگا۔ آپ کی اولاد ان شاءاللہ کل قےامت تک چلے گی اگرچہ دختری اولاد سے ہو۔ آپ کے ماننے والے کل قےامت تک بے شمار ہوں گے۔ اور قےامت کے دن آپ کی امت سارے نبےوں کی امتوں سے زےادہ تعداد مےں ہوگی۔
سورة الکوثر مےں ہمارے لیے سبق: ۱) حوض کوثر پر اےمان لانا کہ وہ برحق ہے اور نبی اکرم کے امتی اس سے سےراب ہوں گے ۔ تقرےباً پچاس صحابہ¿ کرام سے حوض کوثر کی احادےث مروی ہےں۔
۲) پانچوں وقت کی نماز کی پابندی۔
۳) حسب استطاعت قربانی کے اےام مےں زےادہ سے زےادہ قربانی کرنا۔
۴) اللہ رب العزت نے نبی اکرم کا دنےا اور آخرت مےں بلند واعلیٰ مقام عطا کےا ہے۔ہمارے نبی کے دشمنوں کا دونوں جہاں مےں خسارہ اور نقصان ہے، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
۵) دےن اسلام مےں نئی باتےں پےدا کرنے والوں کو حوض کوثر سے دور کردےا جائے گا، لہٰذا ہم اپنی طرف سے کوئی نےا عمل دےن اسلام مےں شروع نہ کرےں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں