میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آپ کے مسائل اور اُن کا حل

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۷ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مفتی محمد وقاص رفیع

راستے میں گری پڑی ہوئی چیز ملنے کا حکم

سوال:عموماً راستے میں جو گری پڑی چیزیں یا روپیہ پیسہ مل جاتا جن کے مالک کا پتہ نہیں ہو تا تو اُن کا کیا کرنا چاہیے؟سائلہ: نمرہ اسحاق (دبئی)

جواب: عموماً راستے میں جو گری پڑی ہوئی چیزیں یا روپیہ پیسہ مل جاتا ہے اگر وہ بہت معمولی مالیت کے ہوں ، جن کے بارے میں غالب گمان ہو کہ مالک انہیں تلاش نہیں کرے گا تو ایسی چیزیں یا روپیہ پیسہ اٹھا کر خود استعمال کرنا جائز ہے، لیکن اگر وہ چیزیں یا روپیہ پیسہ کسی قدر قیمتی ہوں، جن کے بارے میں غالب گمان ہو کہ مالک انہیں تلاش کرے گا تو انہیں اٹھا کر ممکنہ ذرائع کی مددسے مالک کو تلاش کرکے اس تک پہنچانے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر ممکنہ ذرائع کے توسط سے اصل مالک تک رسائی ہوجائے تو وہ چیز یں یا روپیہ پیسہ مالک کولوٹا دیا جائے،اور اگر مالک کا پتہ نہ چلے ، یا پتہ تو چل جائے، لیکن اُس تک رسائی نہ ہو سکتی ہو تو ایسی صورت میں اُس چیزکو مالک کی طرف سے کسی غریب پر صدقہ کردینا ضروری ہے، البتہ اگر بعد میں کبھی مالک آجائے اور صدقے کو تسلیم نہ کرے بلکہ اپنی اُس چیز یا روپیہ پیسہ کی واپسی کا مطالبہ کردے تو ایسی صورت میں اسے وہ چیز یا روپیہ پیسہ یا اس کا بدل ادا کرنا ضروری ہے۔ ایسی صورت میں صدقہ کرنے کا ثواب اب اُس شخص کو ملے گا جس نے مالک کے مطالبہ پر اُس کی اصل چیز یا روپیہ پیسہ یااُس کا بدل مالک کو واپس لوٹا یا ہے ، اصل مالک جس نے صدقہ کو تسلیم نہیں کیا اس کو صدقے کا ثواب نہیں ملے گا۔ (فتاویٰ شامی:۴۳۸/۶)

عصمت دریدہ لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا
سوال:اگر کسی لڑکی کی عصمت دری ہوئی ہو اور اُس کا دامن داغ دار ہوا ہو تو ازروئے شریعت اُس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا کیسا ہے؟سائلہ: سحرش اقبال (اسلام آباد)

جواب: ایسی لڑکی اگر کسی دوسرے شخص کے نکاح یا عدت میں نہ ہوتو اُس کے ساتھ نکاح جائز ہے ۔
آنکھوں میں لینس لگاکر وضو، غسل اور نماز ادا کرنا
سوال: میری نظر کم زور ہے، اِس لئے میں لینس لگاتی ہوں، تو اب سوال یہ ہے کہ لینس لگا کر وضواور غسل کرنا نیز نماز ادا کرنا شرعاً کیسا ہے؟ سائلہ:نوشین ثمر (ایبٹ آباد)

بہنوئی کے ساتھ حج یا عمرے پر جانا کیسا ہے؟

سوال: شادی شدہ عورت اپنے بہنوئی اور بھانجی کے ساتھ حج یا عمرہ پر جاسکتی ہے جب کہ اُس عورت کی بہن بھی بہنوئی کے ساتھ نکاح میں ہو؟ سائل: مولانا آفتاب عالم (بنوں)

جواب: بہنوئی اپنی سالی کے لئے نامحرم ہوتا ہے، اِس لئے کوئی بھی (شادی شدہ یا کنواری)عورت اپنے بہنوئی کے ساتھ حج یا عمرہ پر نہیں جاسکتی، چاہے اُس کی بھانجی بھی اُس کے ساتھ کیوں نہ ہو۔

پرائز بانڈ کی شرعی حیثیت

سوال: مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ ‘‘پرائز بانڈ کی شرعی حیثیت کیاہے؟’’ کیوں کہ بہت سارے لوگ اِس میں انوال ہیں، مجھے معلوم تو ہے کہ یہ حرام ہے لیکن ایک دلیل کے طور پر معلوم کرنا چاپتا ہوں کہ اِس میں ایسی کیا بات پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ حرام ہے۔ کیوں کہ بہت سے نیک و پارسا لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ بھی اِس کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔سائل: احمد جمیل (فتح جنگ)

جواب:پرائز بانڈ سود ہی کی ایک قسم ہے جوکہ حرام اور ناجائز ہے، کیوں کہ بینک جب اِس کی کوئی سیریز نکالتا ہے اور اِس سیریز کے ذریعے وہ عوام سے لی ہوئی رقم جب کسی کو سود پر دیتا ہے تواُس سے حاصل ہونے والی رقم میں سے کچھ اپنے پاس رکھتا ہے اور کچھ قرعہ اندازی کے ذریعے پرائز بانڈ خریدنے والوں میں تقسیم کردیتا ہے جوکہ اصل میں سود ہی کے ذریعے سود بن کر دوبارہ واپس لوٹتی ہے اِس لئے یہ سود پر سود ہے۔
دوسرے یہ کہ لوگ اِس کو ‘‘مشارکت’’ (یعنی پاٹنر شپ کے کاروبار) کا نام دے کر جائز کہتے ہیں تو یہ بھی ٹھیک نہیں اِس لئے کہ مشارکت (یعنی پاٹنر شپ کے کاروبار) میں نفع و نقصان دونوں کا احتمال ہوتا ہے، جب کہ یہاں بینک کی طرف سے نقصان کا تو سرے سے نام ہی نہیں، بلکہ نفع ہی نفع کا ذکر ہوتا ہے۔
تیسرے یہ کہ ‘‘مشارکت’’ (یعنی پاٹنر شپ کے کاروبار ) میں ہر پاٹنر کو اتنا ہی فی صدنفع ملتا ہے جتنا فی صد اُس نے پیسہ لگایا ہوتا ہے، جب اِس میں نفع کی تقسیم قرعہ اندازی کے ساتھ کی جاتی ہے ، جس میں دوسرے پاٹنروں کے ساتھ یقینا نا انصافی کی جاتی ہے۔لہٰذا ‘‘پرائز بانڈ کا انعام ہرصورت میں حرام اور ناجائز ہے اور یہ ‘‘سود’’ اور ‘‘جوئے’’ کا مجموعہ ہے۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم

دودھ پینے والے بچوں کے پیشاب کا شرعی حکم

سوال :ہمارے یہاں عورتوں میں مشہور ہے کہ دودھ پینے والے چھوٹے بچے (جنہوں نے ابھی تک غذا کھانی شروع نہیں کی ہوتی اُن) کا پیشاب ناپاک نہیں ہوتا ہے۔ اگر کسی جگہ کردیں، یاکپڑوں کو لگ جائے، یا کسی کھانے پینے کی چیز میں کردیں تو وہ جگہ، یا کپڑے اور وہ کھانے پینے کی چیز ناپاک نہیں رہتی۔ کیا یہ صحیح ہے؟بینوا توجروا۔سائل:قاری محمد عابد (فتح جنگ ضلع اٹک)

جواب:عورتوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے۔ ایسے شیر خوار بچے (جنہوں نے ابھی تک غذا کھانی شروع نہ کی ہوں اُن)کا پیشاب ناپاک ہے۔ اور فقہاء نے اس کو نجاست غلیظہ میں شمار کیا ہے۔ لہٰذا اگر شیر خوار بچہ کسی جگہ پر، یا کسی کپڑے پر یا کھانے پینے کی کسی چیز میں پیشاب کر دے تو ا س جگہ اور اُس کپڑے کا دھونا ضروری ہے اور کھانے پینے کی چیزوں کا استعمال کرنا حرام ہے۔اسی طرح اگر بدن پر لگ گیا تو اُس کا پاک کرنا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ اگر جگہ اور کپڑا اور بدن پاک کئے بغیر نماز پڑھ لی تو نماز صحیح نہ ہوگی بلکہ ایسی نماز لوٹانا ضروری ہوگا۔ (مراقی الفلاح، فتاویٰ شامی)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں