میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، تنگ گلیوں میں موت کے مینار، تعمیراتی مافیا بے لگام

سندھ بلڈنگ، تنگ گلیوں میں موت کے مینار، تعمیراتی مافیا بے لگام

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۷ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمود آباد نمبر 3ڈی 642 پرانی عمارت پر غیرقانونی بالائی منزل،مکین خوف زدہ

گلی نمبر 17ڈی 82 پر پانچویں منزل کی تیز تعمیر،علاقے کا بنیادی ڈھانچہ تباہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی کے گنجائش آباد رہائشی علاقے محمود آباد میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ بے لگام ہو چکا ہے،  جبکہ متعلقہ انتظامیہ کی خاموشی اور مبینہ سرپرستی نے تعمیراتی مافیا کے حوصلے مزید بلند کر دیئے ہیں۔

تنگ گلیوں میں بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہونے سے علاقے کے مکینوں کی جان و مال شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے، مگر ذمہ دار ادارے تاحال خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق محمود آباد نمبر 3 کے پلاٹ نمبر D-642 پر قائم پرانی اور بوسیدہ عمارت کے اوپر غیرقانونی طور پر نئی بالائی منزل تعمیر کی جا رہی ہے، جبکہ گلی نمبر 17، پلاٹ نمبر D-82 پر قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے پانچویں منزل کی تعمیر جاری ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان تعمیرات سے نہ صرف عمارتوں کی مضبوطی پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ کسی بھی وقت بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔

شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تعمیراتی ٹھیکیدار متعلقہ افسران کی مبینہ سرپرستی میں کھلے عام غیرقانونی تعمیرات کر رہے ہیں۔ تنگ گلیوں، ناکافی سیوریج، پانی، بجلی اور پارکنگ جیسے بنیادی مسائل کے باوجود بلند عمارتوں کی تعمیر سے علاقے کا پورا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

علاقہ مکینوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے فوری نوٹس لینے، غیرقانونی تعمیرات رکوانے، ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کرنے اور انسانی جانوں کو ممکنہ سانحے سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کاروائی نہ کی گئی تو کسی بھی حادثے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں