لاہور ڈوب گیا، بارش کا پانی گھروں میں داخل
شیئر کریں
تہہ خانوں میں پڑا کروڑوں کا سامان برباد، شہریوں اور تاجروں کو پریشانی کا سامنا
کرپشن،ناقص منصوبہ بندی سے شہر کی توسیع نظرنہیں آتی،شہریوں کا شدید غم وغصہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور میں صبح سویرے شروع ہونے والا مون سون کا دوسرا اسپیل اب تھم گیا ترجمان واسا کے مطابق لاہور ائر پورٹ پر ابھی تک سب سے زیادہ بارش 263 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے ترجمان واسا نے بتایا ہے کہ تاج پورہ میں 157.4، کاہنہ میں 143، مغل پورہ میں 133 اور مناواں میں 112.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
ترجمان واسا کے مطابق شادی پورہ میں 136، مال روڑ پر 116، جوہر ٹاؤن میں 81 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی گوجرانوالہ میں بھی تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے اور ساتھ ہی شہر بھر میں نکاسی آب کا عمل بھی جاری ہے۔
لاہور سے منگوائی گئی اضافی مشینری نکاسی آب میں مصروف ہے، گزشتہ روز شہر کی اہم شاہراہیں ٹریفک کے لیے کلئر کر دی گئی تھیں جب کہ متاثرہ نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کا کام سے جاری ہے۔
ادھر شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ لاہور کے نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہونے سے شدید پریشانی کا سامنا ہے جبکہ ٹیمپل روڈ’بیڈن روڈ’سرکلرروڈ’نسبت روڈسمیت دیگر علاقوں میں گھروں کے علاوہ شہر کی ہول سیل مارکیٹوں کے تہہ خانوں میں پڑا کروڑوں کا مال خراب ہوگیا ہے۔
شہریوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ہر سال برستات کے موسم میں شہرکی اہم شاہراؤں اور آبادیوں میں پانی جمع ہوجاتا ہے’گھروں میں پانی داخل ہونے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے تاہم حکومت ساٹھ’سترسالوں میں یہ مسلہ نہیں حل کرسکی ۔
ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح شہر کی توسیع میں کوئی منصوبہ بندی نظرنہیں آتی اسی طرح شاہراؤں کی تعمیر میں بھی کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے پانی کے نکاس کا کوئی بندوبست نہیں رکھا جاتا اور اگر کہیں ایسا بندوبست موجود بھی ہے تو اس کی لائنیں بلاک ہونے کی وجہ سے بارشوں کا پانی نکلتا نہیں .
انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں میں فیروزپورروڈپر چند سال قبل تعمیر ہونے والی سروس لین کا ایک حصہ اچانک چھ’سات فٹ نچے گرگیا ’جزا وسزا کا موثرنظام نہ ہونے کی وجہ سے ٹھیکداروں ’کنسٹریکشن کمپنیوں اور متعلقہ محکمو ں کے افسران کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ’اسی طرح ناقص میٹریل کے باعث سبزہ زار کی مرکزی روڈ کے درمیان مرکزی نالے کی دیوار جسے پچھلے سال ہی تعمیر کیا گیا تھا وہ بارشوں کی وجہ سے نصف کلومیٹر کے ایریا تک گرگئی ہے ۔دوسری جانب گلگت کے شہر کنوداس میں گزشتہ رات بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آنے کی وجہ سے کنوداس کے علاقے مرکز کالونی میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا اور متعدد مکانات کو نقصان پہنچا’ادھر کے پی کے صوبائی محکمہ ڈائزسٹرمینجمنٹ نے بھی بارشوں سے لینڈسلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے علاوہ کئی علاقوں میں فلش فلڈ کی وارننگ جاری کی ہے۔


