میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بلاول بھٹو کا جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیلئے شہباز شریف اور ڈار سے رابطہ

بلاول بھٹو کا جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیلئے شہباز شریف اور ڈار سے رابطہ

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

40 روز سے مواصلاتی بندش انتخابی عمل کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے،فون اور انٹرنیٹ بندش پر سوالات اٹھا دیے

سچائی کمیشن ہی مسائل کا حل ہے،مہاجرین کی12 سیٹوں کا معاملہ اسمبلی سے ہی حل ہونا چاہیے تھا، خصوصی انٹرویو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں انتخابی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہاں نہ فون چلتا ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ، ایسے میں انتخابی مہم کیسے چلائی جا سکتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کو دئے گئے خصوصی انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کشمیر میں گزشتہ 40 روز سے فون اور انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، جس کے باعث ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پھر ان انتخابات کی ساکھ کیسے برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل شفاف اور منصفانہ ہونا چاہیے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہوں۔ ان کے مطابق مواصلاتی ذرائع کی طویل بندش سیاسی سرگرمیوں اور عوام تک پیغام پہنچانے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔  چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جہاں امن و امان کی صورتحال خراب ہو وہاں محدود نوعیت کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، تاہم پورے کشمیر میں انٹرنیٹ اور فون سروسز کی بندش مناسب نہیں کیونکہ اس سے اجتماعی سزا کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر امن و امان کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں، جن میں ٹروتھ کمیشن کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے، تاکہ ماضی کے واقعات کا جائزہ لے کر اعتماد کی فضا بحال کی جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ اس عمل سے ماضی میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رائج فرنٹئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کی یاد تازہ ہوتی ہے، جس میں اگر کسی گاؤں کے کسی فرد نے جرم کیا ہوتا تھا تو اِس کی سزا پورے گاؤں کو دی جاتی تھی۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت الیکشن کمیشن سے کشمیر کے اُن علاقوں میں انٹرنیٹ کی بحالی کی درخواست کرے گی جہاں پر امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے۔

بی بی سی کی جانب سے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے تنازع پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین نے کہا کہ 12 سیٹوں کا معاملہ اسمبلی سے ہی حل ہونا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ مان لیتے ہیں کہ اُن کی جماعت کی محض چھ ماہ قائم رہنے والی حکومت سے غلطی ہوئی ہو گی یا ریاست پاکستان نے غلطی کی ہو گی مگر اس کی سزا انتظام کشمیر میں بسنے والے لوگوں کو تو نہیں دی جا سکتی۔ کشمیر میں جاری احتجاج پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کالعدم قرار دی گئی جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اگر ایجنڈا یہ ہے کہ وہ اس احتجاج سے کشمیر اور پاکستان کی حکومت کو سبق سیکھائیں گے تو اُن کی یہ سوچ غلط ہے۔ تاہم انھوں نے ریاست پاکستان سے بھی کہا ہے کہ اگر کوئی احتجاج کر رہا ہے اور حکومت یہ سمجھتی ہے کہ احتجاج کرنے والوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو سزا صرف اُسی کو ملنی چاہیے جو گنہگار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں چئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ جو بھی معاہدہ ہوا ہے وہ اُن کی جماعت کے کشمیر میں اقتدار میں آنے سے پہلے ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اُن کی نظر میں اِن تمام مسائل کا حل ایک ٹروتھ کمیشن کے قیام میں ہے جس میں تمام حقائق کو سامنے لایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کمیشن یہ بھی دیکھے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے کیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے؟ انھوں نے کہا کہ شاید وہ عوامی سطح پر اس تنظیم کو کالعدم قرار دینے سے متعلق بات نہ کر سکیں کیونکہ اس فیصلے کا اگر از سر نو جائزہ بھی لینا ہے تو یہ صرف یہ کمیشن میں ہی ہو سکتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں