سندھ بلڈنگ، شاہ فیصل ٹاؤن میں رہائشی پلاٹ پر سات منزلہ عمارت
شیئر کریں
سلیم ہاؤسنگ پروجیکٹ کے پلاٹ اے 33پر تعمیر ات، قانونی حیثیت پر سوالات
اے ڈی انس حسن ، رانا اسد غفار پر چشم پوشی کے الزامات ،شفاف تحقیقات کا مطالبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع کورنگی شاہ فیصل نمبر 3 کے سلیم ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہائشی پلاٹ نمبر اے 33 پر مبینہ طور پر سات منزلہ عمارت کی تعمیر کا معاملہ سنگین نوعیت اختیار کرگیا، جہاں مقامی مکینوں نے تعمیر کی قانونی حیثیت، منظور شدہ نقشے اور متعلقہ اجازت ناموں پر سوالات اٹھاتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی آبادی میں اس نوعیت کی بلند عمارت کی تعمیر سے نہ صرف علاقے کے انفرااسٹرکچر پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے بلکہ ٹریفک، پارکنگ، پانی، سیوریج اور نکاسی آب کے مسائل بھی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ شہریوں کے مطابق پہلے ہی محدود شہری سہولیات کے حامل علاقے میں بڑے پیمانے کی نئی تعمیرات سے قبل اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔
مقامی ذرائع کے مطابق پلاٹ اے 33 کی نوعیت رہائشی بتائی جاتی ہے ، تاہم وہاں سات منزلہ عمارت کی تعمیر جاری ہونے کے باعث یہ سوال سامنے آیا ہے کہ آیا مذکورہ تعمیر کے لیے زمین کے استعمال میں تبدیلی، بلڈنگ پلان اور دیگر لازمی اجازت نامے باقاعدہ طور پر حاصل کیے گئے ہیں یا نہیں۔ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے پلاٹ کی مکمل فائل، منظور شدہ بلڈنگ پلان، تعمیراتی اجازت ناموں، این او سیز اور زمین کے استعمال سے متعلق ریکارڈ کی جانچ کرکے حقائق عوام کے سامنے لائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف زبانی وضاحتوں کے بجائے سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر معاملے کی قانونی حیثیت واضح کی جانی چاہیے ۔دریں اثنا بعض شہریوں کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انس حسن اور بلڈنگ انسپکٹر رانا اسد غفار پر تعمیراتی معاملات میں مبینہ غفلت اور تعمیراتی عناصر سے مبینہ ملی بھگت کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور متعلقہ افسران کا مؤقف بھی تاحال سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان الزامات کی حقیقت کا تعین غیر جانب دارانہ تحقیقات اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے ۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔
اگر پلاٹ اے 33 پر جاری تعمیر منظور شدہ قوانین اور نقشے کے مطابق ہے تو حکام کو اس کی منظوری سے متعلق دستاویزات واضح کرنی چاہئیں، جبکہ خلافِ ضابطہ تعمیر کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے ۔علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ اے 33 کے معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ انکوائری کرائی جائے ، تعمیراتی اجازتوں اور منظور شدہ نقشے کی تصدیق کی جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ تعمیر کے مختلف مراحل میں معائنہ اور نگرانی کس افسر یا ادارے کی ذمہ داری تھی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف ایک پلاٹ تک محدود نہیں بلکہ اس سے رہائشی علاقوں میں تعمیراتی قوانین پر عمل درآمد اور نگرانی کے نظام سے متعلق وسیع تر سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر قوانین موجود ہیں تو ان کا یکساں نفاذ بھی نظر آنا چاہیے ، جبکہ کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ اداروں کو ریکارڈ کی بنیاد پر شفاف جواب دینا چاہیے ۔


