میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جب نوجوان جاگ اٹھیں!

جب نوجوان جاگ اٹھیں!

جرات ڈیسک
پیر, ۲۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمد آصف

قوموں کی قسمتیں ہمیشہ ایوانوں میں نہیں بدلتیں، کبھی کبھی وہ گاؤں کی خاموش گلیوں، مٹی سے اٹے راستوں اور عام لوگوں کے غیر معمولی
جذبوں سے بھی سنورتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب اجتماعی شعور بیدار ہو جائے ، جب اپنی دھرتی سے محبت عبادت کا درجہ اختیار
کر لے اور جب خدمتِ خلق ذاتی مفاد پر غالب آ جائے تو وہاں انقلاب کسی شور و غوغا کا محتاج نہیں رہتا، بلکہ خاموشی سے جنم لیتا ہے ۔
گزشتہ دنوں ضلع نارووال تحصیل شکرگڑھ کے ایک گاؤں سیدپور میں ایسا ہی ایک خاموش انقلاب برپا ہوا، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر
نیت خالص ہو تو محدود وسائل بھی بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔

کسی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ وہ اقدار ہوتی ہیں جن پر اس کی اجتماعی زندگی استوار ہوتی ہے ۔ افسوس
کہ ہمارے ہاں اکثر عوامی مسائل اس وقت تک مسائل ہی رہتے ہیں جب تک کوئی سیاسی مفاد ان سے وابستہ نہ ہو جائے ۔ عوام کی بنیادی
ضروریات، دیہات کے راستے ، قبرستانوں تک رسائی، صاف ماحول اور اجتماعی فلاح جیسے معاملات اکثر ترجیحات کی فہرست میں شامل ہی
نہیں ہوتے ۔ ایسے حالات میں لوگ شکایت تو بہت کرتے ہیں مگر عملی قدم اٹھانے والے بہت کم ہوتے ہیں۔

گزشتہ سال برسات کے موسم نے سیدپور کے باسیوں کو ایک کربناک امتحان سے دوچار کر دیا۔ گاؤں سے قبرستان تک تقریباً دو کلومیٹر
طویل کچا راستہ بارش کے بعد دلدل میں تبدیل ہو جاتا تھا۔ جنازہ کندھوں پر اٹھائے لوگ پھسلتے ، رکتے ، سنبھلتے اور کبھی ٹریکٹر ٹرالیاں بھی
راستے میں جواب دے جاتیں۔ سوگ کی گھڑی میں یہ اضافی اذیت کسی بھی حساس دل کو بے چین کرنے کے لیے کافی تھی۔ گاؤں کے
بزرگوں نے متعلقہ نمائندوں کے دروازے کھٹکھٹائے ، درخواستیں دیں، امیدیں وابستہ کیں، مگر حسبِ روایت وعدوں کے سوا کچھ حاصل نہ
ہوا۔ لیکن شاید یہی وہ لمحہ تھا جب سیدپور کے نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ اب انتظار نہیں، کردار ادا کرنا ہے ۔ انہوں نے دوسروں پر انگلی
اٹھانے کے بجائے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے ۔ انہوں نے شکووں کی زبان چھوڑ کر عمل کی زبان اپنائی۔ یوں سیدپور ویلفیئر سوسائٹی وجود میں
آئی، جس نے یہ ثابت کیا کہ معاشرے کی اصل طاقت نہ دولت ہے ، نہ اقتدار، بلکہ باہمی اعتماد اور اجتماعی شعور ہے ۔

اس کارِ خیر میں سب سے پہلے وہ نوجوان آگے بڑھے جو روزگار کے سلسلے میں مختلف اداروں سے وابستہ تھے ۔ انہوں نے اپنی کمائی میں سے حصہ نکالا اور گاؤں کے دروازے پر خدمت کا چراغ روشن کر دیا۔ پھر اس چراغ کی روشنی سمندر پار جا پہنچی، جہاں اپنے وطن سے
ہزاروں میل دور رہنے والے سیدپور کے نوجوانوں نے اپنی دھرتی کی پکار سنی۔ پردیس میں رہتے ہوئے بھی جن کے دل اپنی مٹی کی خوشبو
سے آباد تھے ، انہوں نے لاکھوں روپے کا تعاون کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وطن سے محبت فاصلے نہیں، جذبے طے کرتے ہیں۔ جب اخلاص
سرمایہ بن جائے تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔ چندوں کی صورت میں جمع ہونے والی امانت کو پوری دیانت اور شفافیت سے استعمال کیا
گیا۔ سینکڑوں ٹرالیاں مٹی ڈال کر راستے کو ہموار کیا گیا، پھر اس پر سولنگ کا کام مکمل کیا گیا۔ آج وہی راستہ، جو کبھی دلدل، محرومی اور بے بسی
کی علامت تھا، خدمت، اتحاد اور خودداری کی زندہ تصویر بن چکا ہے ۔ شاید اسی کو کہتے ہیں کہ قومیں دوسروں کے سہارے نہیں بلکہ اپنے
کندھوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔لیکن سیدپور کے نوجوانوں کا خواب صرف ایک سڑک تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر راستہ
انسانوں کے لیے آسان بن گیا ہے تو اب اس دھرتی کو بھی زندگی کا تحفہ دیا جائے ۔ چنانچہ انہوں نے شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔ دو کلومیٹر طویل
راستے کے اطراف ہزاروں پودے لگائے جا رہے ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں یہی درخت سایہ بھی دیں، آکسیجن بھی فراہم کریں،
ماحول کو خوبصورت بھی بنائیں اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام بھی دیں کہ اپنے وطن سے محبت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کی
جاتی ہے ۔یہ منظر اس لیے بھی دل کو چھو جاتا ہے کہ آج پوری دنیا ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نبرد
آزما ہے ۔ ایسے میں اگر ایک چھوٹے سے گاؤں کے نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت شجرکاری کا بیڑا اٹھاتے ہیں تو یہ صرف ایک مقامی منصوبہ
نہیں بلکہ قومی شعور کی بیداری کی علامت ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ درخت لگانے والے ہاتھ صرف زمین نہیں سنوارتے بلکہ مستقبل بھی محفوظ کرتے ہیں۔ اس کامیابی کے پیچھے ایک اور
اہم راز بھی پوشیدہ ہے ، اور وہ ہے امانت اور دیانت۔ عوام نے جو پیسہ اعتماد کے ساتھ دیا، اسے عوام ہی کی امانت سمجھ کر خرچ کیا گیا۔ نہ کسی
نے ذاتی مفاد تلاش کیا، نہ شہرت کی خواہش رکھی اور نہ ہی خدمت کو سیاست کا ذریعہ بنایا۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں
کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ جہاں خیانت نہ ہو، وہاں برکت خود چل کر آتی ہے ، اور جہاں اخلاص ہو، وہاں چھوٹے وسائل بھی بڑے
نتائج پیدا کرتے ہیں۔

اسلام نے بھی انسانیت کی خدمت کو اعلیٰ ترین عبادتوں میں شمار کیا ہے ۔ ایک راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے ، لوگوں کی
آسانی کا سبب بننا بھی عبادت ہے اور درخت لگانا بھی صدقۂ جاریہ ہے ۔ سیدپور کے نوجوانوں نے بیک وقت ان تمام تعلیمات کو عملی جامہ
پہنایا ہے ۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ دین صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی بھلائی، ماحول کی حفاظت اور انسانوں کی خدمت
بھی ایمان کا تقاضا ہے ۔

آج جب اکثر نوجوانوں پر بے مقصدیت، مایوسی اور غیر سنجیدگی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، سیدپور کے یہ نوجوان امید کی ایک
روشن کرن بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر نوجوان اپنی توانائیاں مثبت سمت میں صرف کریں تو وہ نہ صرف اپنے
والدین کی نیک نامی کا سبب بنتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔ اس عظیم خدمت کے پسِ منظر میں سیدپور
ویلفیئر سوسائٹی کے وہ مخلص اور باکردار نوجوان بھی خصوصی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو محض ایک سماجی سرگرمی نہیں
بلکہ عبادت سمجھ کر انجام دیا۔ خصوصاً جناب حافظ فیصل، چوہدری محمود، چوہدری اعجاز، چوہدری خالق، چوہدری آفتاب سانول، چوہدری عابد،
چوہدری شکیل اور چوہدری یاسر نے جس خلوص، دیانت، محنت اور لگن کے ساتھ اس کارِ خیر کی منصوبہ بندی، نگرانی اور تکمیل میں اپنا کردار ادا
کیا، وہ قابلِ تقلید ہے ۔ ان حضرات نے یہ ثابت کر دیا کہ جب نیت اللہ کی رضا، مقصد انسانیت کی خدمت اور دل اپنی دھرتی کی محبت سے
سرشار ہوں تو معمولی وسائل بھی بڑے کارناموں میں ڈھل جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ کسی ایک گاؤں کا نہیں بلکہ پورے
معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ قوموں کی تعمیر تقریروں سے نہیں بلکہ کردار، امانت،
اخلاص اور عملی خدمت سے ہوتی ہے ۔ سیدپور ویلفیئر سوسائٹی کے ان نوجوانوں نے صرف ایک راستہ تعمیر نہیں کیا بلکہ اجتماعی شعور، باہمی
اعتماد اور سماجی ذمہ داری کی ایسی مثال قائم کی ہے جو علاقے بھر کے لیے مشعلِ راہ اور قابلِ تقلید نمونہ ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سیدپور کا یہ ماڈل پاکستان کے ہر گاؤں اور ہر محلے تک پہنچے ۔ اگر ہر بستی کے نوجوان اپنی گلی، اپنے قبرستان، اپنے سکول، اپنی مسجد، اپنے پارک اور اپنے ماحول کی ذمہ داری محسوس کر لیں تو شاید ہمیں ہر چھوٹے مسئلے کے لیے حکمرانوں کے دروازوں پر دستک دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔

قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ اور کردار ہمیشہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں اخلاص، دیانت، خدمت اور اپنی دھرتی سے محبت ایک
دوسرے کا ہاتھ تھام لیں۔ سیدپور کے نوجوانوں نے صرف ایک راستہ تعمیر نہیں کیا، بلکہ انہوں نے امید کا ایک راستہ کھولا ہے ۔ یہ راستہ ہمیں
بتاتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل ابھی زندہ ہے ، کیونکہ اس کی مٹی میں آج بھی ایسے نوجوان موجود ہیں جو اپنی ذات سے بلند ہو کر اپنی قوم اور
اپنی دھرتی کے لیے جینا جانتے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں