کیا باقی رہ جاتا ہے ؟
شیئر کریں
1258ء میں ہلاکو خان ایک عظیم لشکر لے کر بغداد کی طرف بڑھا۔ اس وقت بغداد تقریباً پانچ صدیوں سے عباسی خلافت کا مرکز، اسلامی دنیا کا علمی و تہذیبی دارالحکومت اور بیت الحکمہ جیسے عظیم علمی اداروں کا شہر تھا۔ عباسی خلیفہ المستعصم باللہ نے ابتدا میں منگول خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اس کے دربار میں سیاسی اختلافات، فوجی کمزوری اور غلط مشوروں نے صورتِ حال مزید خراب کر دی۔ ہلاکو خان نے خلیفہ کو اطاعت اور ہتھیار ڈالنے کا پیغام بھیجا، مگر مؤثر سفارتی یا عسکری حکمتِ عملی اختیار نہ کی جا سکی۔ 29 جنوری 1258ء کو منگول فوج نے بغداد کا محاصرہ کر لیا۔ تقریباً دو ہفتوں کے محاصرے کے بعد شہر کی دفاعی لائنیں ٹوٹ گئیں، اور 10؍فروری 1258ء کو بغداد منگولوں کے قبضے میں آگیا۔ اس کے بعد شہر میں خوفناک قتلِ عام ہوا۔ بے شمار شہری مارے گئے ، محلات، مساجد اور بازار تباہ کر دیے گئے ۔ بیت الحکمہ سمیت متعدد عظیم کتب خانے جلا دیے گئے یا ان کی کتابیں دریائے دجلہ میں پھینک دی گئیں، یہاں تک کہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ دریا کا پانی سیاہی سے سیاہ دکھائی دیتا تھا۔ خلیفہ المستعصم باللہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور ہلاکو نے اسے قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے سموں تلے کچلوا کر قتل کروایا، اس کی موت کے ساتھ ہی عباسی خلافت کا بغداد میں تقریباً 524سالہ دور 750ء تا 1258ء، اپنے اختتام کو پہنچا۔ شاید عباسی خلیفہ المستعصم باللہ کو یقین تھا کہ اس کی سلطنت، خزانے ، فوج اور اقتدار اسے بچا لیں گے ، مگر تاریخ نے ایک مختلف فیصلہ سنایا۔ منگول لشکر شہر میں داخل ہوا، بغداد تباہ ہوگیا، محل ویران ہو گئے ، خزانے دوسروں کے قبضے میں چلے گئے اور وہی خلیفہ، جس کے ایک اشارے پر لاکھوں لوگ حرکت کرتے تھے ، اپنی جان بھی نہ بچا سکا۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ اقتدار، دولت اور شہرت ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں ختم ہو گئیں، محلات کھنڈر بن گئے اور تاج و تخت مٹی میں دفن ہوگئے ، مگر اچھا کردار آج بھی زندہ ہے ۔ نام، نسب اور طاقت عارضی سہارے ہیں، اصل سرمایہ انسان کی خدمت اور اس کا اخلاق ہے ۔قرآن کریم فرماتا ہے ۔ "ہر جان موت کا ذائقہ چکھنے والی ہے ۔”اور فرمایا۔ "دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں”۔یہ آیات صرف موت کی خبر نہیں دیتیں بلکہ زندگی کا معیار بھی طے کرتی ہیں۔ جو انسان انجام کو یاد رکھتا ہے ، وہ اپنے آج کو سنوار لیتا ہے ۔ اسلامی لحاظ سے سوال ہے کہ جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہ جاتا ہے ؟ موت کے بعد صرف دو چیزیں باقی رہ جائیں گی۔ ایک وہ جو آپ نے اللہ کے لیے کیا، اور دوسری وہ جو اللہ کی مخلوق کے لیے چھوڑ گئے ۔ آپ کتنے کمزوروں کا سہارا بنے ؟ کتنے دلوں میں آسانی پیدا کی؟ کتنی زندگیاں بہتر بنائیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ "جب انسان وفات پاتا ہے تو اس کے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے ، صدقہ جاریہ، نفع مند علم،اور نیک اولاد جو دعا کرے "۔ صدقۂ جاریہ کی مثالیں، مسجد، مدرسہ، یا اسلامی اسکول کی تعمیر، کنواں یا پانی کا نل لگوانا، قرآن کریم کی اشاعت اور تقسیم، درخت لگانا جو سایہ اور پھل دے ، اسپتال، یتیم خانہ یا رفاہی ادارے قائم کرنا، فقراء و مساکین کے لیے مستقل مدد کا بندوبست کرنا۔ آج کے دور میں صدقۂ جاریہ کے جدید طریقے ، آن لائن اسلامی تعلیمات کا فروغ ویڈیوز، بلاگز، کورسز، ضرورت مند طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا اہتمام، غریبوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔ یہ تمام کام جب تک لوگوں کو فائدہ پہنچاتے رہیں گے ، ان کا اجر بھی صدقہ دینے والے کو ملتا رہے گا، چاہے وہ اس دنیا میں نہ ہو۔ نفع مند علم – جو لوگوں کو فائدہ دے ۔ کسی کو نیکی کی بات آگے پھیلانا۔
قدرت کا قانون ہے کہ جس چیز کو انسان ہمیشہ کے لیے روکنا چاہتا ہے ، وہی سب سے پہلے اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے ۔ جوانی، صحت، حسن، محبت، شہرت اور اقتدار سب وقت کے مسافر ہیں۔ دریا پانی روک لے تو دلدل بن جاتا ہے ، درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتا، سورج اپنی روشنی کا معاوضہ نہیں مانگتا۔ پوری کائنات دینے کے اصول پر قائم ہے ، مگر انسان جمع کرنے میں مصروف ہے ۔ اب ایک لمحے کے لیے اپنی زندگی کا تصور کیجیے ۔ ایک دن آپ کی الماری کوئی اور کھولے گا، آپ کی کرسی پر کوئی اور بیٹھے گا، آپ کی کتابیں، آپ کا موبائل اور آپ کی جمع کی ہوئی چیزیں کسی اور کی ہوں گی۔ پھر آہستہ آہستہ آپ کا نام بھی روزمرہ گفتگو سے نکل جائے گا۔
زندگی کا اصل المیہ اس کا مختصر ہونا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے دائمی سمجھ کر گزارتے ہیں۔ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ آپ کو یاد رکھیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے جانے کے بعد بھی آپ کی نیکی کسی یتیم کی دعا، کسی شاگرد کے علم، کسی مظلوم کی مسکراہٹ، کسی بیمار کی شفا، کسی غریب کی عزت اور کسی ماں کی دعاؤں کی صورت میں زندہ رہے ۔ اگر ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتے تو ایسی نیکی ضرور چھوڑ جائیں جو ہمیشہ زندہ رہے ، کیونکہ آخرکار انسان کے ساتھ صرف اس کا کردار اور اس کے اعمال ہی باقی رہ جاتے ہیں۔ انسان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ خود کو مستقل سمجھ لیتا ہے ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عزت و ذلت، رزق و اقتدار، زندگی و موت، سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ دنیا کی ہر نعمت امانت ہے ، ملکیت نہیں۔ جب انسان اس حقیقت کو فراموش کرتا ہے تو غرور، لالچ اور انا اس کی بصیرت پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔
کسی دانا نے کہا :”وقت سب سے بڑا قاضی ہے ، وہ ہر انسان کا فیصلہ اس کے جانے کے بعد سناتا ہے "۔ اور ایک فلسفیانہ حقیقت یہ بھی ہے ۔ "ثبات صرف تغیر کو حاصل ہے ۔”ہیراکلیٹس نے کہا تھا کہ کوئی شخص ایک ہی دریا میں دوبارہ قدم نہیں رکھ سکتا، کیونکہ دریا بھی بدل چکا ہوتا ہے اور انسان بھی۔ اسی حقیقت کو لیو ٹالسٹائی نے اپنی مشہور کہانی "انسان کو کتنی زمین چاہیے ؟” میں بیان کیا کہ انسان خواہشات کے پیچھے ساری زندگی دوڑتا رہتا ہے ، مگر آخرکار اسے صرف اتنی زمین ملتی ہے جتنی اس کی قبر کے لیے کافی ہوتی ہے ۔۔ جس انسان نے خود درد نہ سہا ہو، وہ اکثر دوسروں کے زخموں کی گہرائی نہیں سمجھ سکتا۔ عاجزی انسان کو لوگوں سے جوڑتی ہے جبکہ تکبر اسے حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ وکٹر فرینکل لکھتے ہیں کہ جس انسان کے پاس مقصد ہو، وہ مشکل ترین حالات بھی برداشت کر لیتا ہے ۔
انسان نے مصنوعی ذہانت پیدا کر لی ہے ، مگر قدرتی شفقت کم ہوتی جا رہی ہے ۔ عمارتیں بلند ہو رہی ہیں مگر خاندان خاموشیوں میں بکھر رہے ہیں۔ رفتار بڑھ گئی ہے ، لیکن سمت دھندلا گئی ہے ، اور شاید یہی جدید انسان کا سب سے بڑا بحران ہے ۔آخرِ کار، انسان کے پاس وہی کچھ باقی رہ جاتا ہے ۔ جسے وہ تاریکیوں سے گزرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جا سکا ہو، کوئی نیکی، کوئی دعا، کوئی یاد۔ ریاضی میں تقسیم کے بعد بچنے والی حصہ کو Remainder یعنی باقی کہتے ہیں۔ شاعری کی دُنیا میں زندگی گزر جانے کے بعد صرف یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔


