سندھ بلڈنگ، وسطی میں قواعد کے برخلاف پرانی عمارتوں پر بالائی منزلیں
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 1بلاک J، پلاٹ نمبر 11/1اور 71/5پر غیر قانونی تعمیرات،کارروائی کا مطالبہ
ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کے لیے تعمیراتی لاقانونیت کا بڑا چیلنج ، ماضی کے الزامات بھی زیر بحث
کراچی کے ضلع وسطی کے علاقے ناظم آباد نمبر 1، بلاک J میں پرانی اور خستہ حال عمارتوں پر مبینہ طور پر بالائی منزلوں کی تعمیر جاری ہے ، جس پر اہلِ علاقہ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
جرأت سروے کے مطابق پلاٹ نمبر 11/1اور 71/5پر قائم پرانی عمارتوں پر اضافی منزلوں کی تعمیر کی جا رہی ہے ، جس سے اطراف کے رہائشیوں میں کسی بھی ممکنہ حادثے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عمارتوں کی موجودہ حالت پہلے ہی کمزور ہے ، اس کے باوجود ان پر مزید بوجھ ڈالنا نہ صرف تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔
شہریوں کے مطابق اس حوالے سے متعدد بار متعلقہ حکام کو آگاہ کیا گیا، تاہم اب تک مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ذرائع کے مطابق ضلع وسطی میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے الطاف کھوکھر کا تبادلہ گزشتہ دنوں عمل میں آیا ہے ۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ضلع میں جاری مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی ان کی کارکردگی کا اہم امتحان ہوگی۔ بعض حلقوں کی جانب سے ان پر ماضی میں بھی غیر قانونی تعمیرات کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں،
تاہم ان الزامات پر ان کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔اہلِ علاقہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ عمارتوں کا فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے ،
اگر تعمیرات قواعد و ضوابط کے خلاف ہوں تو انہیں فوری طور پر روکا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ سانحے سے قبل شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔


